مسئلہ تحریف قرآن (ممتاز قریشی/ابوھشام) قسط 5 - سنی شیعہ…

مسئلہ تحریف قرآن (ممتاز قریشی/ابوھشام) قسط 5

  جعفر صادق

صفحہ 5 از 7

1- امام فخر الدین رازی نے قرآن کریم میں طعن کی نفی بیان فرمائی اور ابوھشام  انہی الفاظ سے یہ ثابت کرتے رہے کہ امام فخر الدین رازی حضرت ابن عباس کے اس قول سے معاذاللہ قرآن کریم میں طعن و تحریف ہوجانے کی تائید بیان کر رہے ہیں!!

2- علامہ اندلسی نے بھی قول ابن عباس کی وہی تاویل کی ہے جو امام فخر الدین رازی نے بیان کی ہے!! یعنی حضرت ابن عباس کی تائید نہیں کی اور نہ اس قول کو تحریف پر محمول کیا ہے۔!! ابو ھشام نے وائس میں یہ تسلیم بھی کیا!

3- ابن عادل الدمشقی نے بھی حضرت ابن عباس کے قول کی نفی بیان کی ہے!!  ابوھشام کو اس قول سے تحریف کی تائید ثابت کرنی تھی!!

4- ابوھشام کی اوقات دیکھیں۔ اپنی ذاتی رائے سے حضرت ابن عباسؓ ، علمائے اہل سنت اور فریق مخالف پر کفر کا فتوی لگا رہا ہے!! تمام علمائے اہل سنت نے دفاع قرآن کیا لیکن موصوف کے مطابق سب معاذاللہ کافر ہوگئے!! دوسری طرف اس عالم فاضل کو صریح اسکین دکھا کر شیعہ علماء کرام کے تحریف پر الفاظ دکھائے گئے لیکن یہ صاحب آنکھیں ہوتے ہوئے بھی اندھے بنے رہے!!

♦️ ابو ھشام کی صریح جہالت! علمائے اہل سنت پر کفر کا فتوی لگایا جائے!!

اہل سنت کا جواب: علمائے اہل سنت پر کفر کا فتوی تو اس وقت لگتا جب متن کو قبول کیا جاتا!!

تمام علمائے اہل سنت نے قرآن کریم کا دفاع کیا ہے۔ بیشک فرد واحد کے قول کی اجماع کے سامنے کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ موجودہ قرآن کریم پر امت کا اجماع ہے۔ اس لئے حضرت ابن عباس کا قول قابل حجت نہیں ہوسکتا!!

♦️ ابوھشام کا ضد راوی بخاری کے ہیں! 

اہل سنت کا جواب: راوی بخاری کے بھی ہوں تو اجماع کے خلاف ان کی روایات تسلیم نہیں کی جاتیں!! حضرت ابن عباس کا مؤقف قرآت کے اختلاف کی وجہ سے تھا۔ اہل سنت کے ہاں سات قرآت میں قرآن کریم کا نزول صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ یہ عین ممکن ہے کہ جس لفظ پر حضرت ابن عباس کاتب کی خطا کہہ رہے ہیں وہ لفظ کسی دوسری قرآت میں پڑھا جاتا پو۔۔

ابوھشام کی دلیل اس وقت مضبوط بنتی جب وہ علمائے اہل سنت کی تائید بھی دکھاتے!! علمائے اہل سنت نے تو ابوھشام کے مؤقف کی نفی بیان کی ہے۔

⬅️ لیکن ابوھشام کی جہالت دیکھیں!! 

علمائے اہل سنت کا “نہ ماننا دکھا کر ظاہر یہ کرتا رہا کہ علماء اہل سنت معاذاللہ تحریف کو مان رہے ہیں!!

♦️ شیعہ عالم نے اپنی شکست کو بھانپتے ہوئے دوبارہ فریق مخالف پر ذاتی حملے کرنے شروع کئے تاکہ کسی بھی طرح ان کی جان چھوٹ جائے!!

صورت اہم ہے یا سیرت۔۔؟؟؟

صورت کے ساتھ سیرت بھی مسلمانوں جیسی ہونی چاہئے! اگر صورت مسلمانوں جیسی ہو لیکن سیرت شیطان جیسی ہو تو معافی نہیں مل سکتی!! 

لیکن اگر صورت میں کمی بیشی ہو لیکن سیرت مسلمانوں جیسی ہو تو معافی ممکن ہے!

ابلیس بھی صورت کے لحاظ سے مسلمان تھا لیکن سیرت کی وجہ سے لعنت کا مستحق ہوا۔۔!!

♦️ موجودہ دور میں صرف ایک ابوھشام عالم فاضل اور عربی کے ماہر ہیں!!

غور فرمائیں! آخری قسط میں ابوھشام کا انداز بیان اور سخت لہجوں کے جوابات اور ہٹ دھرمی دکھانا اور یہ ظاہر کرنا کہ صحیح السند روایت چاہے اہل تشیع کی ہو یا اہل سنت کی !! اسے صرف ابوھشام عالم فاضل ہی سمجھ سکتے ہیں!! کسی اور عالم کو سمجھ میں آ ہی نہیں سکتی !!

اصول کافی کی ایک روایت میں سترہ ہزار آیات کا نزول ہونا اہل تشیع کے جیّد علماء کرام سمجھ ہی نہ سکے!! غلط توثیق اور غلط تشریحات بیان کرتے آ رہے ہیں!!
اہل سنت کی تفسیر الطبری کی ایک روایت میں لفظ تستانسو اور تستاذنو کی تاویل علمائے اہل سنت غلط کرتے آرہے ہیں !! یہ روایت بھی ابوھشام کے سوا کوئی سمجھ نہیں سکتا!!

تمام علمائے اہل سنت نے حضرت ابن عباس کے قول کا رد کیا ہے اور اسے طعن کا سبب کہا ہے، اس قول کی تاویل کی ہے ۔۔۔ اور عالم فاضل ابوھشام بضد رہے کہ علماء اہل سنت نے تحریف قرآن کو تسلیم کیا ہے!!

اب ایسے عالم فاضل کو کون کیسے سمجھائے!!؟؟

جو بندہ ہٹ دھرمی دکھا کر اپنے جید علماء کی توثیق کا منکر ہوجائے وہ علمائے اہل سنت کی عبارات کیا خاک سمجھے گا۔۔!

نتیجہ : ابوھشام کو اتنی عقل بھی نہیں کہ اہل سنت اور اہل تشیع علماء کرام کی عبارات کو سمجھ سکے!!
اپنے علماء کرام کے قول اور علمائے اہل سنت کے قول کو رد کرتے ہوئے موصوف اپنی رائے کو حرف آخر سمجھا!!
ایک طرف نقص، تغییر، ساقط بعض القرآن کو تحریف قرآن سمجھنے سے انکار کیا!!

دوسری طرف تستانسو اور تستاذنو کے اختلاف کی تاویل دیکھ کر، پڑھ کر، سمجھ کر اور تسلیم کرتے ہوئے بھی بضد رہے کہ اس سے تحریف قرآن تمام اہل سنت پر ثابت ہوگئی ہے!! معاذاللہ ثم معاذاللہ

یہ تو حال ہے ابوھشام کی علمیت کا!!
جس مسلک میں ابوھشام جیسے عالم فاضل ہوں، اسے کسی دشمن کی کیا ضرورت!!

علمائے اہل سنت نے تو قرآن کریم کا دفاع کیا ہے اور موصوف انہی عبارات سے تحریف قرآن کی تائید سمجھا رہے ہیں!!

اہل سنت علماء اور اہل تشیع علماء سب صحیح السند روایات کو سمجھنے سے قاصر ہیں!! ایک ابوھشام عالم فاضل اور ماہر عرب دان ہیں!!

♦️ ابوھشام نے حضرت ابن عباس پر اعتراض تو پیش کردیا لیکن علمائے اہل سنت سے تحریف کی تائید ثابت کرنے میں ناکام ہوگئے!

⬅️ ایک حقیقت➡️

علمائے اہل سنت نے قرآن کریم میں طعن ہوجانے کی وجہ سے قول ابن عباس کو قبول نہیں کیا اور دفاع قرآن کا حق ادا کیا ہے۔ 

حضرت ابن عباس اس قول میں منفرد ہیں اور یہ قول اجماع کے خلاف ہے اس لئے قابل قبول نہیں ہے۔

حضرت ابن عباسؓ کا قول بیشک ثابت شدہ ہے لیکن لفظ  تستانسو اور لفظ  تستاذنو کی معنی یکساں ہیں، اور یہ اختلاف دراصل قرآت کا اختلاف ہے۔

علمائے اہل سنت نے اس قول سے معاذاللہ تحریف قرآن کو بیان ہی نہیں کیا۔۔!!

یہ تھے ابو ھشام کے محکم دلائل ہیں!!

⬅️ صرف سند صحیح دکھا کر یہ ثابت کرتا رہا کہ اہل سنت بھی تحریف کے قائل ہیں، حالانکہ علمائے اہل سنت نے اس قول کو غریب کہہ کر ، طعن کا سبب کہہ کر قرآن کریم کا دفاع کرتے آ رہے ہیں!

صفحہ 5 از 7