مسئلہ تحریف قرآن (ممتاز قریشی/ابوھشام) قسط 5 - سنی شیعہ…

مسئلہ تحریف قرآن (ممتاز قریشی/ابوھشام) قسط 5

  جعفر صادق

صفحہ 4 از 7

♦️ابوھشام: تصحیح اور تضعیف کے متعلق جو شدید اختلاف سنیوں کے ہاں ہے اس کی نظیر نہیں۔ علمائے اہل سنت ایک دوسرے کی صحیح کردہ روایات کا رد بیان کرتے آ رہے ہیں۔

اہل سنت کا جواب:  بالکل یہی مطالبہ اہل سنت کی طرف سے کیا گیا ہے کہ اصول کافی کی اس روایت پر اہل تشیع علماء میں بھی اگر واقعی کوئی اختلاف ہے تو ثابت کیا جائے۔ 

تحقیق کے مطابق اس روایت پر شیعہ جیّد علماء نے کوئی جرح نہیں کی، بلکہ توثیق کرتے آ رہے ہیں۔ تحریف قرآن کو معاذاللہ تسلیم کرتے آ رہے ہیں۔

ابوھشام کی اپنی علمی حیثیت اتنی نہیں کہ ان کی ذاتی رائے زمانہ قدیم کے جیّد شیعہ علماء کی تحقیق کو رد کر سکے! 

✳️ تصحیح و تضعیف پر اختلافات بیان کر ابوھشام کسی بھی صحیح السند روایت کا راوی بدل کر اسے اپنی ذاتی رائے سے ضعیف قرار نہیں دے سکتے۔

کیا تعداد آیات کے اختلات سے قرآن کریم میں کسی قسم کی کمی یا زیادتی یا رد و بدل ہونا ظاہر ہوتا ہے؟

جبکہ سترہ ہزار آیات کے نزول سے قرآن کریم کے دو حصے ضایع ہونا ظاہر ہوتا ہے۔ جسے خود شیعہ جید علماء تسلیم بھی کر چکے ہیں!

ابوھشام کے اعترافات

1: تعداد آیات سے تحریف ظاہر نہیں ہوتی کیونکہ سورتوں  میں کمی نہیں ہوتی اور نہ حروف میں کمی ظاہر ہوتی ہے۔

2: اہل سنت بسم اللہ کی حیثیت پر اختلاف کو قرآن کریم میں تحریف نہیں سمجھتے!!

3: پہلے ایک وائس میں یہ دعوی کیا کہ احمد بن محمد اصل میں السیاری ہے اور اس کی تائید شیعہ علماء سے ثابت کی جائے گی!! آخر میں اعتراف کیا کہ اس روایت کے اصل راوی کے بارے میں کوئی قرینہ موجود نہیں ہے!!

4: پہلے مؤقف اختیار کیا کہ سند معلق ہے، یعنی چار جید شیعہ عالم اتنے جاہل تھے کہ ایک معلق سند کی توثیق کردی!!! پھر اعتراف کیا کہ  معلق سند اس لئے نہیں ہے کہ اس سے پہلی روایت کی سند ہی اس روایت کی سند ہے!

بسم اللہ کی حیثیت کے اختلاف سے قرآن کریم میں کوئی تبدیلی، کمی، بیشی یا رد و بدل لازم نہیں آتی!! کوئی بھی اہل سنت عالم قرآن کریم کے کسی ایک لفظ کا انکار نہیں کرتا!!

اہل سنت کا اجماع ہے کہ قرآن کریم تحریف سے پاک کتاب ہے۔ تعداد آیات اور بسم اللہ کی حیثیت تحریف قرآن ہرگز نہیں ہے! 

ابوھشام سند کی توثیق کو رد کرنے میں ناکام رہے ، ذاتی رائے سے چار جید شیعہ علماء کی توثیق کا انکار کر کے فریق مخالف کو پکا ابوجہل، جاہل اور علم سے کورا کہتے رہے!! لیکن در حقیقت یہ سب اپنے علماء کو کہتے رہے کیونکہ توثیق اور شرح شیعہ علماء کی پیش کی گئی تھی!!

جس روایت کی توثیق چار شیعہ علماء سے پیش کی گئی اسے تسلیم نہیں کیا گیا ، بلکہ فریق مخالف کو کہا گیا کہ وہ ثابت کرے کہ اس روایت  میں السیاری راوی نہیں ہے!! جبکہ یہ شوشہ ابوھشام کا اپنا چھوڑا ہوا تھا!!

⬅️ ابو ھشام کی ذاتی رائے کا رد بھی اہل سنت کو کرنا ہوگا!!!  مطلب ابوھشام اپنی بات کو حرف آخرسمجھتے ہیں، اور اپنے علماء کی توثیق کو بھی خاطر میں نہیں لاتے!!

اہم سوال جس کا جواب ابو ھشام نہیں دے سکا!! 

✳️ اگر اس روایت میں السیاری راوی ہوتا تو چار جید شیعہ علماء اس روایت کی توثیق کیوں کرتے۔؟؟

حضرت ابن عباس کا قول دکھا کر براہ راست اہل سنت پر تحریف قرآن کا استدلال پیش کیا گیا!! جبکہ اہل سنت نے اصول کافی سے امام کا قول پیش کرکے اہل تشیع پر تحریف قرآن کا الزام نہیں لگا یا تھا بلکہ چار شیعہ علماء سے توثیق اور تحریف قرآن کی تائید بھی پیش کی گئی تھی!

اہل سنت کے ہاں اختلاف قرآت پر کئی صحیح السند روایات موجود ہیں۔ قرآن کریم سات لہجوں میں نازل ہوا تھا، یعنی کچھ آیات میں ہم معنی مختلف الفاظ نازل ہوئے تھے ، ایسے الفاظ جن سے مفہوم پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ حضرت ابن عباس کا قول بھی اسی پسمنظر میں ہے!! علماء اہل سنت اس قول کو تحریف قرآن پر محمول نہیں کرتے!!

دوران گفتگع ابوھشام پہلے حضرت ابن عباس کے قول کی توثیق دکھاتے رہے !!

جبکہ ان سے مطالبہ یہ کیا گیا تھا کہ اس روایت  سے علمائے اہل سنت نے تحریف قرآن کا مفہوم اگر لیا ہے تو اسے ثابت کیا جائے!!

حضرت ابن عباس اس معاملے میں فرد واحد تھے! ان کا مؤقف تحریق قرآن کے متعلق نہیں تھا اور نہ کسی اہل سنت عالم نے اس مؤقف کو تحریف پر محمول کیا!!  ابو ھشام کو تحریف ثابت کرنی تھی!!

اہل سنت کے نزدیک قرآت کا اختلاف تحریف قرآن ہرگز نہیں ہے!! حضرت ابن عباس "تستانسو"  کو "تستاذنو" سمجھتے تھے تو اس معاملے میں وہ تنہا تھے۔ اکثریت رائے تستانسو پر متفق تھی، ایک سے غلطی ممکن ہے اکثریت کا غلط ہونا محال ہے

اگر آج کوئی یہ کہے کہ فلاں آیت اس طرح نازل ہوئی تھی اور کاتب سے لکھنے میں غلطی ہوئی ہے تو کیا فتوی لگے گا؟ (ابو ھشام)

اہل سنت کا جواب:  آج کوئی کسی آیت پر کیسے کہہ سکتا ہے کہ یہ آیت اس طرح نازل ہوئی تھی؟؟ دور نبوی کی بات الگ ہے، صحیح احادیث کے مطابق اس وقت مختلف قرآت رائج تھیں جن کے مطابق آیات میں ایک ہی معنی کے مختلف الفاظ ہوتے تھے۔ حضرت عثمان غنیؓ نے امت مسلمہ کو قریشی لہجہ پر جمع کردیا اور قرآن کریم اسی لہجہ میں محفوظ کیا گیا۔!! اس سے تحریف کیسے ثابت ہوگئی؟؟ 

آج کوئی قرآن کریم میں ذرا برابر شک کرے گا تو اسے کافر سمجھا جائے گا کیونکہ موجودہ قرآن کریم قریشی لہجہ میں متواتر ہر زمانے میں ہمارے پاس موجود رہا ہے!!

جب سات قرآت تھیں تو اس وقت الفاظ کا فرق تحریف نہیں تھا۔ اب جبکہ امت کا اجماع ہوچکا تو اب اس قرآت سے باہر کسی کی رائے غیر اہم ہے۔ صحابہ کرام کے ذریعہ اللہ عزوجل نے اس قسم کی تمام سازشوں کا راستہ ختم کردیا ہے!

امام فخر الدین رازی نے بھی حضرت ابن عباس کے قول کو تحریف تسلیم نہیں کیا بلکہ اس کی تاویل کرتے ہوئے کہا کہ اس سے معاذاللہ قرآن کریم میں طعن کا سبب بنتا ہے۔  غور فرمائیں!! علامہ مجلسی اور علامہ مازندرانی کی طرح یہ نہیں کہا کہ اس قول سے قرآن کریم میں نقص ہوگیا، تغییر ہوگیا یا قرآن کریم کا کچھ حصہ ساقط ہوگیا!! معاذاللہ  ثم معاذاللہ

♦️آخری قسط میں ابوھشام کی خیانتیں!

صفحہ 4 از 7