مسئلہ تحریف قرآن (ممتاز قریشی/ابوھشام) قسط 5 - سنی شیعہ…

مسئلہ تحریف قرآن (ممتاز قریشی/ابوھشام) قسط 5

  جعفر صادق

صفحہ 3 از 7

جہاں تک روایت کی سند کی توثیق کی بات ہے تو ہم سنیوں کی طرح جمود فکری کا عقیدہ نہیں رکھتے کہ جو کچھ ابو حنیفہ یا مالک یا شافعی یا احمد نے کہہ دیا بس وہ قرآن کی آیت و حدیث کی طرح ہو گیا کہ اس میں تحقیق لازم نہیں یا بخاری و مسلم کی طرح کے بس ان کی تحقیق بغیر چون چرا کہ قبول کرنی ہوگی، بلکہ ہم علمائے کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بے حد احترام کے قائل ہیں مگر ان کو معصوم نہیں سمجھتے ہمارے یہاں باب اجتہاد ہمیشہ کے لیے کھلا ہے علماء سے سہو بھی ہوتا ہے ثواب بھی تو اپنے قانون ہم پر چسپاں کرنے کی ناکام کوشش نہ کرو،
ثانیا تصحیح اور تضعیف کے متعلق جو شدید اختلاف سنیوں کے یہاں ہے اس کی نظیر نہیں مثلا سیکڑوں روایات ہیں جنکو حاکم نے بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح کہا مگر ذہبی نے ان کو رد کیا، کتنی ہی روایات ہیں جن کو ترمذی نے صحیح یا حسن کہا اور البانی نے ان کو ضعیف کہا، کتنی ہی روایات ہیں جن پر ابوداؤد نے سکوت کیا مگر البانی وغیرہ نے انکو ضعیف کا شعیب ارنووط نے صحیح ابن حبان کی کتنی ہی روایات کو ضعیف کہا تو کیا ان کی تحقیقات کو تناقصات میں شمار کیا جائے؟

✳️ابوھشام کی تحقیقی تحریر کا پوسٹ مارٹم✳️

!!!غور سے پڑھا جائے تو اس تحقیقی تحریر سے شیعہ عالم فاضل ابوھشام نے اپنے  چار جیّد شیعہ علماء کی علمیت، توثیق اور شرح کا ہی جنازہ نکال دیا ہے۔

♦️  معترض کم عقل ہے کہ اس روایت کو تحریف پر دلالت سمجھ لیا ہے!! یہی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ عربی سے ناواقف ہے۔ (ابوھشام)!

اہل سنت کا جواب: معترض نے اس روایت سے جو استدلال پیش کر کے قرآن کریم میں معاذاللہ نقص ، تغییر ہوجانا اپنی طرف سے بیان نہیں کیا بلکہ علامہ باقر مجلسی نے اس روایت سے جو سمجھا وہی بیان کیا ۔

۔معترض نے اس روایت سے قرآن کریم میں معاذاللہ تحریف، قرآن کریم کا کچھ حصہ ساقط ہونا ،اپنی طرف سے بیان نہیں کیا بلکہ علامہ مازندرانی نے اس روایت سے جو سمجھا وہی بیان کیا


نتیجہ: علامہ باقر مجلسی اور علامہ مازندرانی  دونوں کم عقل  اور عربی سے ناواقف تھے، اصول کافی کی اس روایت کو سمجھ ہی نہ سکے اور قرآن کریم میں نقص اور تغییر سمجھ لیا! علامہ مازندرانی نے تو اس روایت سے تحریف اور کچھ حصہ ساقط ہوجانا بھی بیان کردیا!

♦️متن کی تاویل: اس روایت میں ایسی کوئی چیز نہیں جو تحریف پر دلالت کرتی ہو! (ابوھشام)

اہل سنت کا جواب: علامہ باقر مجلسی اور علامہ مازندرانی کو اس حقیقت کا ادراک نہ ہوسکا!! بلکہ زمانہ قدیم سے زمانہ جدید تک کسی ایک شیعہ جیّد عالم نے اس روایت کی ایسی شرح بیان نہیں کی، یہ تاریخی اعزاز صرف عالم فاضل ابوھشام کو حاصل ہوا ہے!

♦️ اس روایت میں لفظ “آیت” سے مختلف معنی مراد ہیں! 

علامت ظاہری، معجزہ،عبرت،نمونہ۔پس کلام امام صادق کا مفہوم واضح ہوگیا کہ قرآن مجید میں 17000 نشانیاں، معجزات یا عبرت وغیرہ موجود ہیں۔ معترض کو اس میں کون سی چیز تحریف پر دلالت کرنے والی نظر آئی؟ (ابوھشام)

اہل سنت کا جواب: معترض کو چار جیّد شیعہ علماء کی تشریح تحریف قرآن کی تائید میں نظر آئی ہے۔

ان چارعلماء کی شرح کا جواب چاہئے۔

اہل سنت کی طرف سے جو استدلال پیش کیا گیا وہ روایت کے متن پر نہیں تھا بلکہ اس روایت کے ذیل میں علامہ باقر مجلسی اور علامہ مازندرانی کی وضاحت پر تھا۔
ابوھشام آخر تک اپنے علماء کی وضاحتوں پر کوئی جواب نہ دے سکے!! جبکہ وہی وضاحتیں تحریف قرآن پر دلالت کرتی ہیں۔

♦️ ابوھشام: اہل سنت کے ہاں بھی تعداد آیات میں سخت اختلاف ہے۔ بسم اللہ کے متعلق بھی شدید اختلاف ہے۔

اہل سنت کا جواب:  اہل سنت کے کسی عالم نے اس قسم کے اختلافات کو تحریف قرآن پر محمول نہیں کیا!! 

✳️  اہل سنت کے ہاں تعداد آیات کے اختلاف سے قرآن کریم کی آیات تو کیا بلکہ کسی ایک لفظ کی بھی کمی بیشی ممکن نہیں ہے!! 

دوسری طرف اصول کافی کی اس روایت سے دو جیّد شیعہ علماء نقص، تغییر، تحریف، کچھ حصہ ساقط ہوجانا بیان کر کے تحریف کو تسلیم کر رہے ہیں۔

♦️ ابوھشام: نوادر میں وہ احادیث ہوتی ہیں جو غیر مشہور یا جن پر عمل نہیں ہوتا۔ اصول کافی کی یہ روایت بھی باب نوادر میں ہے، اس لئے قابل قبول نہیں ہے۔

اہل سنت کا جواب: علامہ باقر مجلسی باب نوادر کی اس روایت کو صحیح اور اس جیسی روایات کو متواتر معنوی اور علامہ مازندرانی بھی اس روایت کو تسلیم کہہ کر نقص ، تغییر، تحریف اور کچھ حصہ ساقط ہونا کیوں بیان کر رہے ہیں؟  دونوں علماء کو باب نوادر میں روایت کا غیر اہم ہونا معلوم نہیں تھا۔

♦️ابوھشام: احمد بن محمد نام کے کئی راوی مشترک ہیں اور معصر بھی ہیں لہاذا اس سند میں کونسا احمد بن محمد ہے یہ پتہ کرنا مشکل ہے!!

اہل سنت کا جواب: اگر راوی کا جاننا واقعی اتنا مشکل ہے تو علامہ باقر مجلسی، علامہ مازندرانی علامہ مظفر شیخ اور علامہ آیت اللہ خوئی پر فتوی لائیں کہ انہوں نے سند کی توثیق غلط کردی ہے۔ بغیر علم کے ، بغیر تحقیق کے ، بغیر شواہد اور قرینوں کے ان چاروں نے اصول کافی کی شرح لکھ کر امت میں خواہ مخواہ فتنہ و فساد ڈال دیا ہے!

♦️ابوھشام: احمد بن محمد السیاری نے یہ روایت اپنی کتاب میں عین اسی سند و متن سے نقل کی ہے، اس لئے راوی برقی نہیں بلکہ السیاری ہی ہے۔

اہل سنت کا جواب:  بالفرض آپ کی بات درست سمجھی جائے تو السیاری اسماء الرجال کے مطابق ضعیف ہے، فاسد المذہب ہے۔
مطلب چار جیّد شیعہ علماء ایک ایسی روایت کی توثیق کر رہے ہیں جس میں ایک راوی سخت ضعیف ہے!! پھر ان چاروں کی تمام توثیقات، تحقیقی کتب وغیرہ مشکوک ہوجاتی ہے!! ان چاروں کو سند  پرکھنا نہیں آتا!! انہیں راویوں کی خبر ہی نہیں کہ کون ضعیف ہے اور کون ثقہ!!!
اہم بات: اس بات کی تائید میں شیعہ جیّد علماء کا فتوی لایا جائے تاکہ یہ مؤقف تسلیم کیا جائے۔

♦️ابوھشام: علامہ مجلسی نے اس روایت کو موثق کہا ہے، موثق وہ روایت ہوتی ہے جس کی سند میں راوی غیر امامی ہو!

اہل سنت کا جواب:  یہ صریح جھوٹ ہے۔ علامہ باقر مجلسی  نے اس روایت کو موثق کے ساتھ ساتھ صحیح بھی کہا ہے۔ ثبوت ملاحظہ فرمائیں۔

صفحہ 3 از 7