مسئلہ تحریف قرآن (ممتاز قریشی/ابوھشام) قسط 5 - سنی شیعہ…

مسئلہ تحریف قرآن (ممتاز قریشی/ابوھشام) قسط 5

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 7

ﺍﻭﺭ ﻧﻮﺡ ﮐﯽ ﻗﻮﻡ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺟﺐ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺭﺳﻮﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﮭﭩﻼﯾﺎ ﺗﻮ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻏﺮﻕ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻧﺸﺎﻧﯽ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﺎ، ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﻧﮯ ﻇﺎﻟﻤﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺩﺭﺩﻧﺎﮎ ﻋﺬﺍﺏ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ۔

5 نمونہ 

ﻗَﺪْ ﻛَﺎﻥَ ﻟَﻜُﻢْ ﺍٰﻳَﺔٌ ﻓِﻰْ ﻓِﺌَﺘَﻴْﻦِ ﺍﻟْﺘَﻘَﺘَﺎ ۖ ﻓِﺌَﺔٌ ﺗُﻘَﺎﺗِﻞُ ﻓِﻰْ ﺳَﺒِﻴْﻞِ ﺍﻟﻠّـٰﻪِ ﻭَﺍُﺧْﺮٰﻯ ﻛَﺎﻓِﺮَﺓٌ ﻳَّّﺮَﻭْﻧَـﻬُـﻢْ ﻣِّﺜْﻠَﻴْﻬِـﻢْ ﺭَﺍْﻯَ ﺍﻟْﻌَﻴْﻦِ ۚ ﻭَﺍﻟﻠّـٰﻪُ ﻳُﺆَﻳِّﺪُ ﺑِﻨَﺼْﺮِﻩٖ ﻣَﻦْ ﻳَّﺸَﺂﺀُ ۗ ﺍِﻥَّ ﻓِﻰْ ﺫٰﻟِﻚَ ﻟَﻌِﺒْـﺮَﺓً ﻟِّﺎُﻭﻟِﻰ ﺍﻟْﺎَﺑْﺼَﺎﺭِ

‏( 13 ال عمران  ‏)

ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﻧﻤﻮﻧﮧ ﺩﻭ ﻓﻮﺟﻮﮞ ﮐﺎ ﮔﺰﺭ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺁﭘﺲ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﯿﮟ، ﺍﯾﮏ ﻓﻮﺝ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﻟﮍﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻓﻮﺝ ﮐﺎﻓﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﮨﮯ ﻭﮦ ﮐﺎﻓﺮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﮯ ﺩﻭﮔﻨﺎ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ، ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﺳﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺍﻟﻠﮧ ﺟﺴﮯ ﭼﺎﮨﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﮯ ﻗﻮﺕ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ، ﺍﺱ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻋﺒﺮﺕ ﮨﮯ۔

ہم نے اختصار کے سبب فقط بعض معنی پر ہی اکتفا کیا،

ان متعدد آیات سے یہ بات بلکل واضح ہو گئی کہ آیت کا اطلاق، نشانی، عبرت، نمونہ معجزہ پر بھی ہوتا ہے، پس کلام امام علیہ السلام کا مفہوم بلکل واضح ہو گیا کہ قرآن مجید میں 17000 نشانیاں یا معجزات، یا عبرت وغیرہ موجود ہیں، تو معترض  کو اس میں کون سی چیز تحریف پر دلالت کرنے والی نظر ائ؟

اور اگر فرض محال آیات سے وہ آیات بھی مراد لیا جائے جو سوروں میں موجود ہیں تب  بھی اس سے تحریف لازم نہیں آتی کیونکہ سنیوں  کے یہاں خود قرآن کی آیات کی تعداد   میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے جس کا ذکر ہم نے کیا مگر معترض کو اتنا شعور نہیں کہ وہ ہماری بات کو سمجھ سکے۔ 

ﻓﺈﻥ ﺍﻻﺧﺘﻼﻑ ﻗﺪ ﻭﻗﻊ ﺑﻴﻦ ﺍﻟﻌﻠﻤﺎﺀ ﻓﻲ ﻋﺪ ﺁﻱ ﺍﻟﻘﺮﺁﻥ، ﻗَﺎﻝَ ﺍﻟﺪَّﺍﻧِﻲُّ :

ﺃَﺟْﻤَﻌُﻮﺍ ﻋَﻠَﻰ ﺃَﻥَّ ﻋَﺪَﺩَ ﺁﻳَﺎﺕِ ﺍﻟْﻘُﺮْﺁﻥِ ﺳِﺘَّﺔُ ﺁﻟَﺎﻑِ ﺁﻳَﺔٍ ﺛُﻢَّ ﺍﺧْﺘَﻠَﻔُﻮﺍ ﻓِﻴﻤَﺎ ﺯَﺍﺩَ ﻋَﻠَﻰ ﺫَﻟِﻚَ ﻓَﻤِﻨْﻬُﻢْ ﻣَﻦْ ﻟَﻢْ ﻳَﺰِﺩْ ﻭَﻣِﻨْﻬُﻢْ ﻣَﻦْ ﻗَﺎﻝَ : ﻭَﻣِﺎﺋَﺘَﺎ ﺁﻳَﺔٍ ﻭَﺃَﺭْﺑَﻊُ ﺁﻳَﺎﺕٍ، ﻭَﻗِﻴﻞَ : ﻭَﺃَﺭْﺑَﻊَ ﻋَﺸْﺮَﺓَ، ﻭَﻗِﻴﻞَ : ﻭَﺗِﺴْﻊَ ﻋَﺸْﺮَﺓَ، ﻭَﻗِﻴﻞَ : ﻭَﺧَﻤْﺲٌ ﻭَﻋِﺸْﺮُﻭﻥَ، ﻭَﻗِﻴﻞَ : ﻭَﺳِﺖٌّ ﻭَﺛَﻠَﺎﺛُﻮﻥَ

علماء نے قرآن کی آیات کے متعلق اختلاف کیا ہے دانی نے کہا کہ اس پر اجماع کیا ہے کہ قرآن میں 6000 آیات ہیں اس کے بعض زیادہ کے متعلق اختلاف کیا ہے ان میں سے بعض ایسے ہیں جو زیادہ نہیں کرتے بعض نے 204  و 14 و 19 و 25 و 36

 لنک

خود بسم اللہ کے متعلق شدید اختلاف ہے ایک گروہ کے نزدیک فقط دو سورتوں کا جز ہے، دوسرے گروہ کے نزدیک 113 سروں کا جز ہے، 

بعض کے نزدیک فقط ایک سورے کا جز ہے، 

نتیجہ یہ کہ فقط بسم اللہ میں ہی سنیوں  کے یہاں شدید اختلافات پائے گئے 113 کا اختلاف فقط بسم اللہ میں، 

تو اگر قرات اہل بیت علیہم السلام میں اس موجودہ قرآن کو 17000 آیات میں تقسیم کیا گیا ہو تو معترض کو اس میں تحریف کہاں نظر آگئی؟ 

یہ ان اشکالات کے جوابات تھے جو معترض نے متن پر کئے تھے جس سے خود معترض ہی مورد الزام ٹھہرا اور الحمدللہ روایت میں کوئی بھی ایسی چیز نہ دکھا سکا جو تحریف پر دلالت کرتی ہو

معترض نے پھر ایک جھوٹ بولا اور اپنے مذہب کا باطل عقیدہ ہم پر چسپاں کرنے کی ناکام کوشش کی ہم نے یہ بات تم پر حجت تمام کرنے کے لیے کہیں تھی کہ اگر فرض محال 17000 آیات نازل بھی ہوئیں اور اس میں سے بہت سی منسوخ ہو گئیں تو تم کو اعتراض کا کوئی حق حاصل نہیں کیونکہ تمہارے باطل مذہب میں خلاف قرآن ایک اصول ہے کہ آیت کی تلاوت منسوخ ہو جاتی ہے مگر اس کا حکم باقی رہتا ہے۔

اب سند کے متعلق بھی اشکالات کے جوابات دیتے ہیں، مگر اس سے پہلے یہ بتاتے چلیں کہ کلینی علیہ الرحمہ نے اس روایت کو باب نوادر میں نقل کیا ہے اور علمائے امامیہ رضوان اللہ علیہم اجمعین باب نوادر میں نقل شدہ روایت کو حجت تسلیم نہیں کرتے درحقیقت اس باب میں ائ ہوئ روایت قابل احتجاج نہیں ہوتی تو اب اگر روایت کی سند صحیح بھی ہو تو تب بھی باب نوادر میں آنے کے سبب روایت حجت نہیں،  چنانچہ 

آقا بزرگ تہرانی علیہ الرحمہ عنوان نوادر کے متعلق لکھتے ہیں 

 ( النوادر ) عنوان عام لنوع من مؤلفات الأصحاب في القرون الأربعة الأولى للهجرة ، كان يجمع فيها الأحاديث غير المشهورة ، أو التي تشتمل على أحكام غير متداولة . أو استثنائية ( 1 ) ومستدركة لغيرها .

نوادر ایک عام عنوان ہے ہمارے اول چار قرنوں کے علماء اپنی تالیفات میں لائے ہیں جس میں احادیث غیر مشہورہ، یا جن پر عمل نہیں ہوتا یا مستثنیات کو لاتے ہیں 

الذّريعة إلى تصانيف الشّيعة  جلد : 24  صفحه : 315/316

لنک

شیخ مفید علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ 

: في أبواب النوادر ، والنوادر هي التي لا عمل عليها.

أبواب نوادر، اور نوادر وہ ہے جس پر عمل نہیں ہوتا 

جوابات اهل الموصل في العدد والرؤية : الشيخ المفيد جلد : 1  صفحه : 19

لنک

ہم نے ذکر کیا تھا کہ احمد بن محمد نام کے کئی مشترک راوی ہیں اور معصر بھی ہیں لہذا اس لیے سند میں کون سا محمد بن احمد ہے پتا کرنا کچھ مشکل ہے مگر چونکہ محمد بن احمد سیاری نے یہ روایت اپنی کتاب میں عین اسی سند و متن سے نقل کی ہے اب اس کے بعد کوئی اشکال باقی نہیں رہتا کہ راوی برقی نہیں بلکہ سیاری ہی ہے اور ثانیا علامہ مجلسی علیہ الرحمہ نے روایت کو موثق کہا ہے موثق وہ روایت ہوتی ہے جس کی سند میں راوی غیر امامی ہو جبکہ اگر راوی برقی مراد لیا جائے تو سند صحیح ہوگی نہ کہ موثق کیونکہ پھر سند کے تمام راوی امامی ہوں گے،

صفحہ 2 از 7