سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے اعزہ و اقرباء اور بیت…

سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے اعزہ و اقرباء اور بیت المال سے عطیات

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

3: فتح افریقہ کے موقع پر خمس اور حیوانات اس قدر باقی رہ گئے تھے کہ جن کا مدینہ منتقل کرنا دشوار تھا، مروان نے اس کو ایک لاکھ درہم میں خرید لیا اور قیمت کا اکثر حصہ نقد ادا کر دیا، کچھ رقم باقی رہ گئی اور سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کو فتح کی خوش خبری سنانے کے لیے مروان نے مدینہ کی طرف جلدی کی۔ مسلمان مدینہ میں افریقہ کی اس مہم کے سلسلہ میں فکر مند تھے کہ کہیں مسلمانوں کو شکست کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ جب مروان نے افریقہ کی فتح کی خوش خبری امیر المؤمنین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو سنائی تو اس کے عوض جو رقم باقی تھی اسے معاف کر دیا۔ امامِ وقت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ بشارت سنانے والے کو اس کی محنت و مشقت کے پیشِ نظر جو مناسب سمجھے عطا کر دے۔ 

(فصل الخطاب فی مواقف الاصحاب: صفحہ، 84)

مروان کے عطیہ کے سلسلہ میں یہی ثابت ہے اور جو یہ کہا جاتا ہے کہ فتح افریقہ کا پورا خمس سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے مروان کو عطا کر دیا تھا، جھوٹ ہے۔(ایضاً: صفحہ، 84)

حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ اپنے اقرباء سے شدید محبت رکھتے تھے لیکن اس محبت نے آپؓ کو کسی حرام کے ارتکاب یا سیرت و سیاست کو مال وغیرہ کے سلسلہ میں داغدار کرنے پر آمادہ نہیں کیا، لیکن سبائی پروپیگنڈہ کے حاملین اور رافضی شیعوں نے سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے خلاف کتبِ تاریخ کو باطل اکاذیب سے بھر دیا ہے۔

اقرباء سے متعلق سیدنا عثمانِ غنیؓ کی سیرت، اسلام کے رحم و کرم کے گوشے کو اجاگر کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

ذٰلِكَ الَّذِىۡ يُبَشِّرُ اللّٰهُ عِبَادَهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ‌ؕ قُلْ لَّاۤ اَسۡئَلُكُمۡ عَلَيۡهِ اَجۡرًا اِلَّا الۡمَوَدَّةَ فِى الۡقُرۡبٰى‌ وَمَنۡ يَّقۡتَرِفۡ حَسَنَةً نَّزِدۡ لَهٗ فِيۡهَا حُسۡنًا‌ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ شَكُوۡرٌ ۞

(سورۃ الشورى: آیت 23)

ترجمہ: یہی وہ چیز ہے جس کی خوشخبری اللہ اپنے ان بندوں کو دیتا ہے جو ایمان لائے ہیں، اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں۔ (اے پیغمبر ! کافروں سے) کہہ دو کہ: میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجرت نہیں مانگتا، سوائے رشتہ داری کی محبت کے۔ اور جو شخص کوئی بھلائی کرے گا، ہم اس کی خاطر اس بھلائی میں مزید خوبی کا اضافہ کردیں گے۔ یقین جانو اللہ بہت بخشنے والا، بڑا قدردان ہے۔

اور ارشادِ الہٰی ہے:

وَاٰتِ ذَا الۡقُرۡبٰى حَقَّهٗ وَالۡمِسۡكِيۡنَ وَابۡنَ السَّبِيۡلِ وَلَا تُبَذِّرۡ تَبۡذِيۡرًا ۞

(سورۃ الإسراء: آیت 26)

ترجمہ: اور رشتہ دار کو اس کا حق دو، اور مسکین اور مسافر کو (ان کا حق) اور اپنے مال کو بے ہودہ کاموں میں نہ اڑاؤ۔

اسی طرح سیرتِ عثمانی، سیرتِ مصطفوی کے عملی پہلو کو اجاگر کرتی ہے۔ آپؓ نے رسول اللہﷺ‏ کے ان حالات کا مشاہدہ کیا تھا اور آپﷺ‏ کے سلسلہ میں وہ علم رکھتے تھے جس کا آپﷺ‏ کے ناقدین نے نہ مشاہدہ کیا تھا اور نہ اس کا علم رکھتے تھے۔ آپؓ کو وہ فقہ و بصیرت حاصل تھی جو عام لوگوں کو حاصل نہ تھی، آپؓ نے اقرباء کے ساتھ رسول اللہﷺ‏ کی محبت اور بِر و احسان کا مشاہدہ کیا تھا۔ آپﷺ‏ نے اپنے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو بحرین سے حاصل شدہ مال میں سے اتنا دیا تھا جتنا کسی اور کو نہیں دیا تھا۔ (صحیح البخاری: کتاب الجزیۃ) اسی طرح سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ جو آپﷺ‏ کے چچا زاد اور داماد تھے عہدے دیے تھے۔ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ اور تمام مسلمانوں کے لیے رسول اللہﷺ‏ عظیم قدوہ و بہترین نمونہ ہیں۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد، 7 صفحہ، 201)

علامہ ابنِ کثیرؒ فرماتے ہیں:

حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ اچھے اخلاص کے حامل، بڑے با حیاء اور بے حد فیاض تھے۔ اللہ واسطے اپنے اہل و عیال اور اقارب کو ان کے تالیفِ قلب کے لیے دنیا کے فانی مال و متاع میں ترجیح دیتے تاکہ انہیں آخرت کو دنیا پر ترجیح دینے کی رغبت دلائیں جیسا کہ رسول اللہﷺ‏ کچھ لوگوں کو عطا کرتے اور کچھ لوگوں کو ان کے ایمان و ہدایت کے پیشِ نظر نظر انداز کر دیتے۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی اسی خصلت کی وجہ سے کچھ لوگوں نے تشدد اختیار کیا جیسا کہ بعض خوارج نے رسول اللہﷺ‏ پر تشدد اختیار کیا تھا۔

 (البدایۃ والنہایۃ: جلد، 7 صفحہ، 201)

چنانچہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جعرانہ کے مقام پر رسول اللہﷺ‏ مالِ غنیمت تقسیم فرما رہے تھے کہ ایک شخص بول پڑا: عدل و انصاف سے کام لیں، رسول اللہﷺ‏ نے فرمایا: شقیت ان لم اعدل 

(صحیح البخاری: کتاب فرض الخمس)

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ مجلسِ شوریٰ کے سامنے اہلِ بیتؓ اور قرابت داروں کے ساتھ بِر و احسان پر استدلال کرتے ہوئے فرماتے ہیں: میرے پیش رو میرے دونوں ساتھیوں (سیدنا ابوبکر صدیق و سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما) نے اللہ سے ثواب کی خاطر اپنے اور اپنے اقرباء پر ظلم ڈھایا ہے حالاں کہ رسول اللہﷺ‏ اپنے اقرباء کو عطا کرتے تھے اور میرے خاندان کے لوگ تنگ دست ہیں، اس لیے میں نے اپنا ہاتھ کشادہ کر رکھا ہے اگر تم اسے غلط سمجھتے ہو تو پھر اسے واپس لے لو۔

(الطبقات الکبریٰ: جلد، 3 صفحہ، 64)

علامہ ابنِ تیمیہ رحمۃ اللہ نے ان حضرات کی تردید فرمائی ہے جو سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ پر اتہام باندھتے ہیں کہ وہ بیت المال سے ڈھیر سا مال اپنے اہل و اقارب کو دیتے تھے، قریش کے چار افراد جن کے نکاح میں اپنی بیٹیوں کو دے رکھا تھا، چار لاکھ دینار دیے اور مروان کو دس لاکھ دینار دیے۔ علامہ ابنِ تیمیہؒ فرماتے ہیں کہ اس کا جواب یہ ہے کہ اس کا ثبوت فراہم کرو۔ بلاشبہ آپؓ اپنے اقرباء کو دیتے تھے اور دیگر لوگوں کو بھی دیتے تھے۔ تمام مسلمانوں کے ساتھ احسان کرتے تھے، لیکن یہ مقدار محتاج ثبوت ہے۔ یہ واضح جھوٹ ہے۔ نہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور نہ دیگر خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم نے کسی کو اس قدر مال دیا ہے۔

(منہاج السنۃ: جلد، 3 صفحہ، 190)


صفحہ 2 از 2