سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے اعزہ و اقرباء اور بیت…

سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے اعزہ و اقرباء اور بیت المال سے عطیات

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

خوارج اور جہال کی طرف سے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ پر یہ اتہام لگایا گیا کہ آپؓ بیت المال کا مال اپنے اقرباء و اعزہ میں لٹاتے رہے۔ اس اتہام کو شیعہ روافض اور سبائی تحریک کے حاملین کے باطل پروپیگنڈوں سے تقویت ملی اور تاریخی کتابوں میں اسے جگہ مل گئی اور بعض مفکرین و مؤرخین نے اس باطل پروپیگنڈہ کو حقیقت تصور کر لیا حالاں کہ یہ باطل ہے، ثابت نہیں کیوں کہ یہ موضوع و من گھڑت ہے اور اعزہ و اقرباء کو عطیات سے متعلق جو روایات ثابت ہیں وہ آپؓ کے مناقب میں سے ہیں، مثالب میں سے انہیں تصور نہیں کیا جا سکتا ہے۔

1: سیدنا عثمان بن عفانؓ بہت بڑے مال دار اور دولت مند آدمی تھے صلہ رحمی میں بہت ہی آگے تھے 

(فصل الخطاب فی مواقف الاصحاب: صفحہ، 82) 

صلہ رحمی میں بے دریغ اپنا مال خرچ کرتے تھے۔ شرپسند لوگوں نے اس کو ناپسند کیا اور آپؓ پر اتہام لگایا کہ آپؓ بیت المال سے صلہ رحمی کرتے ہیں اور اپنے اعزہ و اقرباء پر خرچ کرتے ہیں۔ 

حضرت عثمان بن عفانؓ نے اس اتہام کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: لوگوں کا کہنا ہے کہ میں اپنے خاندان والوں سے محبت کرتا ہوں اور انہیں مال دیتا ہوں۔ واضح رہے ان کے ساتھ میری محبت انہیں جور و ظلم پر نہیں ابھارتی بلکہ میں ان پر حقوق و واجبات کو عائد کرتا ہوں۔ رہا میرا انہیں عطیات دینا تو واضح رہے میں انہیں اپنے مالِ خاص سے عطا کرتا ہوں میں مسلمانوں کے مال کو نہ اپنے لیے جائز سمجھتا ہوں اور نہ کسی اور کے لیے، میں تو رسول اللہﷺ‏ اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ و سیدنا عمر فاروقؓ کے ادوار میں بھی بڑے بڑے عطیات اپنے مالِ خاص سے لوگوں کو دیتا رہا ہوں اور کیا اب میں بخیل و حریص ہو گیا ہوں؟ کیا اب جب کہ میری عمر خاندان کی عمر سے تجاوز کر گئی ہے اور میری عمر ختم ہو چکی ہے اور اہل و عیال کے سلسلہ میں خواہشات کو الوداع کہہ چکا ہوں، ملحدین ایسی باتیں کہتے ہیں۔ 

(تاریخ الطبری: جلد، 5 صفحہ، 356)

حضرت عثمانِ غنیؓ نے اپنی جائداد اور مال و زمین کو بنو امیہ کے درمیان تقسیم کر دیا اور اپنی اولاد کو اور لوگوں کے برابر ہی دیا چنانچہ بنو ابو العاص سے تقسیم کرنا شروع کیا، آلِ حکم کو عطا کیا، ان کے مردوں کو دس دس ہزار عطا کیا اس طرح انہیں ایک ایک لاکھ ملا اور بنو عثمان کو اسی کے مثل دیا۔ بنو عاص، بنو عیص اور بنو حرب میں تقسیم کیا۔

(تاریخ الطبری: جلد، 5 صفحہ، 356)

اس طرح کے یہ نصوص جو سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں مشہور ہیں اور اسی طرح احادیثِ صحیحہ جو آپؓ کے فضائل و مناقب میں وارد ہیں، اس بات پر واضح دلیل ہیں کہ سیدنا عثمانِ غنیؓ سے متعلق یہ پروپیگنڈہ کہ آپؓ بیت المال میں اسراف کرتے اور اپنے اعزہ و اقرباء اور قصور و محلات پر بے دریغ خرچ کرتے تھے، سراسر بے بنیاد ہے۔

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے اس اتہام سے براءت کے باوجود بعض علماء کی رائے ہے کہ مالِ غنیمت میں ذوی القربیٰ کا حصہ امامِ وقت کے اقرباء کا حق ہے۔

امام ابنِ تیمیہ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں:

ذوی القربیٰ کے حصہ سے متعلق بعض فقہاء اس طرف گئے ہیں کہ یہ امامِ وقت کے قرابت داروں کا حق ہے جیسا کہ حسن بصری اور ابو ثور رحمہما اللہ کا قول ہے اور نبی کریمﷺ‏ اسی امامت کے پیشِ نظر اپنے قرابت داروں پر اس کو خرچ کرتے تھے۔ نبی کریمﷺ‏ کی حیاتِ طیبہ میں ذوی القربیٰ سے مقصود آپﷺ‏ کے قرابت دار تھے اور آپﷺ‏ کی وفات کے بعد اس سے مقصود امامِ وقت اور آپ کے جانشین کے قرابت دار ہیں کیوں کہ امامِ وقت کی نصرت و تائید فرض ہے اور اس کے اعزہ و اقرباء جس طرح اس کی نصرت و تائید کر سکتے ہیں، دوسرے نہیں کر سکتے۔ عام طور سے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بعد جن لوگوں نے زمامِ خلافت سنبھالی وہ اپنے بعض اقارب کو عہدے یا مال سے نوازتے رہے ہیں۔

(منہاج السنۃ: جلد، 3 صفحہ، 187، 188) 

نیز علامہ ابنِ تیمیہ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مال سے متعلق جو مؤقف اختیار کیا، اس کے تین مآخذ ہیں:

٭ آپؓ نے اپنے اقرباء کو عامل مقرر کیا اور عامل غناء و مال داری کے باوجود مستحقین میں سے ہے۔

٭ ذوی القربیٰ کا جو حصہ قرآن میں مذکور ہے اس سے مقصود امامِ وقت کے اقرباء ہیں۔

٭ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قرابت دار حضرت ابوبکر صدیق و حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما کے اقرباء کی طرح تھوڑے نہیں تھے بلکہ آپؓ کا قبیلہ بہت بڑا تھا اس لیے آپؓ کو سیدنا صدیقِ اکبر و سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما کے مقابلہ میں اپنے اقارب کو عہدے و مناصب عطا کرنے اور عطیات دینے کی زیادہ ضرورت پیش آئی، سیدنا عثمانؓ نے خود اس سے استدلال کیا ہے۔ 

(منہاج السنۃ: جلد، 3 صفحہ، 237، الدولۃ الامویۃ، حمدی شاہین: صفحہ، 163)

2: تاریخ طبری میں ہے کہ حضرت عثمانؓ نے جب سیدنا عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رضی اللہ عنہ کو مصر سے تیونس پر حملہ آور ہونے کا حکم دیا تو ان سے فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ نے افریقہ پر تمھیں فتح عطا کی تو مسلمانوں کو جو ماِل غنیمت حاصل ہو گا اس کے خمس کا خمس تمھیں دیا جائے گا۔ وہ اپنی فوج لے کر مصر سے نکلے اور افریقہ کی سر زمین میں گھس گئے اور اس کے میدانی اور پہاڑی علاقوں کو فتح کر لیا اور مالِ غنیمت کو اپنی فوج میں تقسیم کیا اور پھر خمس کے پانچ حصے کیے ایک حصہ خود لے لیا اور چار حصے ابنِ وثیمہ نضری کے ہاتھ امیر المؤمنین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں مدینہ بھیج دیے۔ جو وفد اس کے ساتھ مدینہ پہنچا اس نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے اس کی شکایت کی۔ حضرت عثمانِ غنیؓ نے ان سے کہا: میں نے ہی حضرت عبداللہ بن سعدؓ کو اس کا حکم دیا تھا اور اگر آپ لوگ اس کو ناپسند کرتے ہیں تو اس کو لوٹا لیتا ہوں۔ ان لوگوں نے کہا: ہمیں یہ ناپسند ہے۔ سیدنا عثمانِ غنیؓ نے سیدنا عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ یہ مال واپس کر دو۔ انہوں نے واپس کر دیا۔

(منہاج السنۃ: جلد، 3 صفحہ، 237، الدولۃ الامویۃ، حمدی شاہین: صفحہ، 163)

احادیث سے مال داروں اور جہاں میں برادری کا جوہر دکھانے والوں کو عطیات دینا ثابت ہے۔

(تاریخ الطبری: جلد، 5 صفحہ، 253)

صفحہ 1 از 2