دھوکہ نمبر 91 - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

دھوکہ نمبر 91

  شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ

صفحہ 2 از 4

الْمحِبَّةُ وَالمُبغضةُ إِذَا كَانَا لِله يُوحَدُ صاحبهما وَإِنْ كَانَ الْمحَبُوبُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ وَالْمَبْعُوضُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ لاعتِقَادِ الْخَيْرِ فِي الْأَوَّلِ وَالشَّرِ في الثَّانِي وَإِنْ أَخْطَاءَ فِي اعْتِقَادِه، يَدلُ عَلَى ذَالِكَ مَا رَوَاهُ فِي الْكَافِي بإسْنَادِهِ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا احَبَّ رَجُلًا لِلَّهِ لَاثابَهُ اللهُ عَلَى حُبِّهِ إِيَّاهُ وَإِنْ كَانَ الْمحَبوبُ فِي عِلْمِ اللَّهِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ وَلَوْ أَنَّ رَجُلًا ابغَضَ رجُلا للَّهِ اثَابَهُ اللهُ عَلَى بَغضِهِ إِيَّاهُ وَإِن كَانَا الْمُبَغُوضُ فِي عِلْمِ اللَّهِ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةَ وَلَا يَخْفَى أَنَّ هَذَا الْحَبُّ وَالْبُغض يَرَاب إلى محبة المَقَامِ وَالْحَقِيقَةِ دُونَ الشَّخصَ الْجَرى وَكَذَا الْمُبغضَةُ خُصُوصًا إِذَا لَمْ يَرَا الْمَحَبُّ وَالْمُبْغِضُ محبوبه ومبغوضه وَإِنَّمَا سَمِعَ بِصِفَاتِهِ وَاخْلَاقِهِ وَمِنْ فَهُنَا يَحْكُمُ بِنَجَاةِ كَثِيرٍ مِنَ الْمُخَالِفِينَ الْمُسْتَضْعَفِينَ سيما الواقعين في عفي خفَاء الإِمَامِ الحَقِّ المُحبينَ لأئمتنَا صَلَوَاتُ اللهِ عَلَيْهِمْ وَإِنْ لَمْ يَعْرِفُو اقَدْرهمْ وَإِمَامَكُمْ كَمَا يَدل عَلَيْهِ مَا رَوَاهُ الْكَافِي باسْنَادِهِ الصحيح مَنْ زَرَارَةِ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ قُلْتُ اصلحكَ اللَّهُ ارءيتَ مَنْ صلى وَصام وَاجْتَنَبَ الْمَحارم مَ وَحَسَنَ وَرعَهُ مِمَّنْ لا يَغضبُ وَلَا يعْرِفُ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ يُدْخِلُ أُولَئِكَ الْجَنَّةَ برحمته وفى احتجاج الطبرَ سِي عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِي عَلَيْهِمَا السَّلَامُ أَنَّهُ قَالَ فِي كَلام لَه فَمَنْ أَخَذ بِمَا عَلَيْهِ أَهْلُ الْقِبْلَةِ الَّذِي لَيْسَ فِيهِ اخْتِلافٌ وَرَدَّ عِلْمَ مَا اخْتَلَفُوا فِيهِ إِلَى اللَّهِ سَلِمَ وَنَجَا بِهِ مِنَ النَّارِ وَدَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ وَقَّقاهُ اللهُ تَعَالَى وَمَنَّ عَلَيْهِ وَاحْتَج عَلَيه بِإِن كُورَ قَلْبهُ بِمعْرِفَةِ وَلَا وَالأَمْرِ مِنْ أَئمتِهِمْ وَمَعْدَانِ الْعِلْم أي هُوَ فَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ سَعِيدُ وَاللَّهِ وَلِيُّ ثُمَّ قَالَ بَعْدَ كَلَامٍ إِنَّمَا النَّاسُ ثَلَثَةٌ مَوْ مِنٌ يَعْرِفُ حَقَّنَا وَيُسْلِمُ لَنَا وَيَأتَمْ بنَا فَذَالكَ نَاجٍ محِبٌّ للَّهِ وَلِيّ وَنَاصِبٌ لَنَا الْعَدَادَةَ يَتَبَرَهُ مِنَّا وَيُلَقتنَا وَيَسْتَحِلُ وَمَا دَنَا وَيجحد حَقْنَا وَيَدِينَ اللَّهَ تعَالَى بِالبراء منا فهُوَ كَانَ كَافِرُ مُشْرِكُ فَاسِقٌ وَإِنَّمَا كَفَرُوا أَشْرَكَ مِنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُ كَمَا يَسُبُّ اللَّهَ عَدوا بِغَيْرِ علم وكذالك يُشْرِكْ بِغَيْرِ عِلْمٍ رَجُلٌ أَخَذَ بِمَا لَا يَخْتَلَفُ فِيهِ وَردَ عَلِمَ مَا أَشْكَلَ عَلَيهِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى مَعَ وَلَايَتِنَا وَلَا يَاتُم بِنَا وَلَا يُعَادِينَا وَلَا يَعْرِفُ حَقَّنَا نَحْنُ نَرْجُوا أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ له وَيُدخِلَ الْجَنَّةَ فَهَذَا مُسْلِم ضعیف انتهى

محبت اور دشمنی جب صرف اللّٰه کے لیے ہو تو وہ ماجور من اللّٰه ہے اگرچہ اس کا محبوب دوزخی ہو اور دشمن جنتی کیونکہ اس کو محبوب سے اعتقاد نیک ہوتا ہے اور دشمن سے برائی کا اگرچہ وہ اپنے اعتقاد میں حق بجانب نہ ہو اس پر وہ روایت دلالت کرتی ہے جو صاحب کافی نے اپنے سندوں سے کافی میں بیان کی ہے کہ ابی جعفر عبداللّٰه سے روایت ہے کہ فرمایا جس کسی نے کسی سے اللّٰه کے واسطے محبت رکھی اللّٰه تعالیٰ اس محبت رکھنے پر اس کو ثواب دے گا اگرچہ اس کا محبوب اللّٰه کے علم میں دوزخی ہو اسی طرح اگر کسی نہ کسی سے اللّٰه واسطہ کا بیر (بغض) رکھا تو اللّٰه تعالیٰ اس کے بغض رکھنے پر اس کو اجر دے گا اگرچہ اس کا مبغوض اللّٰه تعالیٰ کے علم میں جنتی ہو اور یہ بات پوشیدہ نہیں کہ یہ محبت و عداوت حقیقت اور مقام محبت کی طرف لوٹتی ہے نہ اس خاص شخص کی طرف خصوصا جبکہ محبت و بغض رکھنے والے نے محبوب ومبغوض کو نہ دیکھا ہو بلکہ اس کے اخلاق و اوصاف سنے ہوں،

اسی نظریہ کے تحت ان برائے نام مخالفوں کی نجات کا حکم لگایا گیا ہے جو کسی امام کی پوشیدگی کے وقت موجود ہوں مگر وہ ہمارے ائمہ کرام کے ساتھ محبت رکھتے ہوں گر وہ ان کی پوری قدر و منزلت اور امامت کو نہ پہچان سکے ہوں، اس پر کافی کی وہ روایت دلالت کرتی ہے جو ذرارہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ابھی عبداللّٰه سے بایں الفاظ روایت کی ہے میں نے آپ سے کہا اللّٰه آپ کو نیک بخت کرے مجھ کو اس شخص کے حال سے باخبر کیجیے جو نماز پڑھتا ہے روزہ رکھتا ہے محرمات سے بچتا ہے اور خوب تقوی والا ہے مگر ہے ایسے لوگوں میں سے جو نہ ائمہ کے دشمن ہیں نہ ان کی امامت کے قائل ہیں پس آپ نے فرمایا اللّٰه تعالیٰ ان کو اپنی رحمت سے جنت میں داخل کرے گا۔

اور احتجاج طبرسی (نام کتاب) میں حضرت حسن بن علی رضی اللّٰه عنہما سے روایت ہے دوران گفتگو ایک مرتبہ فرمایا جس نے اس بات کو لیا جس پر سب اہل قبلہ متفق ہیں اور اختلافی بات کو حوالہ خدا کیا تو وہ محفوظ رہا اور اس نے دوزخ سے نجات پائی اور جنت میں جگہ پائی اور جس پر اللّٰه کا احسان ہو اسے توفیق ملی اور محبت قائم ہوئی تو اس کے دل کو صاحب ریاست اور معدن علم ائمہ کی معرفت سے منور کیا ایسا شخص اللّٰه کے نزدیک نیک بخت ہے اور اللّٰه کا دلی ولی ہے پھر کچھ مزید گفتگو کے بعد فرمایا کہ لوگ تین قسم کے ہیں ایک وہ مومن جو ہمارا حق پہچانتا ہے ہمارے تابعداری اور پیروی کرتا ہے پس وہ نجات پانے والا اللّٰه کا محب اور ولی ہے۔

دوسرا وہ جو ہم سے عداوت رکھتا ہے ہم سے بیزار ہے ہم پر لعنت بھیجتا ہے ہماری خون ریزی کو حلال جانتا ہے ہمارے حق سے انکار کرتا ہے اور ہم سے بیزاری کو اللّٰه تعالیٰ کا دین کہتا ہے پس ایسا شخص کافر مشرک اور فاسق ہے اس نے لاعلمی میں کفر و شرک کیا جیسے بغیر جانے بوجھے کوئی اللّٰه کو گالی دیتا ہے اسی طرح یہ بغیر علم کے شرک کرتا ہے۔

صفحہ 2 از 4