مسئلہ تحریف قرآن (ممتاز قریشی/ابوھشام) قسط 4 - سنی شیعہ…

مسئلہ تحریف قرآن (ممتاز قریشی/ابوھشام) قسط 4

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 4

♦️ بصری اور کوفیوں میں تعداد آیات میں اختلاف ہے۔ اس لئے سترہ ہزار آیات بھی قرآن میں تسلیم کی جائیں! (ابوھشام)

– بصری اور کوفیوں کے تعداد آیات قرآنی میں اختلاف کا تحریف قرآن سے کیا تعلق!!؟؟ نمبر شمار، کسی آیت کی حیثیت پر اختلاف اپنی جگہ لیکن اس سے قرآن کریم میں معاذاللہ کوئی تبدیلی تھوڑی ہوجاتی ہے!!

♦️ چوتھی قسط میں ابوھشام کے لرزہ خیز اعترافات: 

1- آیات کے نمبر شمار اور حیثیت کا اختلاف تحریف قرآن نہیں ہے۔۔!! 

⬅️ اس اعتراف سے ثابت ہوا کہ اہل سنت مؤقف برحق ہے۔ تعداد آیات یا بسم اللہ کی حیثیت پر اختلاف سے قرآن کریم میں کوئی تبدیلی نہیں ہوجاتی۔

2- علامہ مجلسی سے خطا ہوئی ہے۔ روایت ضعیف ہے۔

⬅️ اہل سنت مطالبہ: صرف حکم سند نہیں بلکہ حکم متن میں بھی خطا تسلیم کرنا پڑے گا!!  پھر چار جید علماء کرام کو بھی خطاوار ماننا پڑے گا!!

3- سترہ ہزار آیات کے نزول کو تسلیم کرنا یا اس روایت کو صحیح روایت تسلیم کرنا علامہ مجلسی کی اجتہادی خطا ہے!!!

حقیقت: تحریف قرآن کا قائل ہونا اہل تشیع کے نزدیک کوئی مسئلہ نہیں ہے بلکہ ایک اجتہادی خطا ہے ، مطلب تحریف کا قائل مسلمان ہے! (پہلی قسط میں بھی یہی اعتراف کیا گیا تھا)

4- اہل تشیع کے ہاں سند کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہے !!

حقیقت: اس سے ثابت ہوا کہ کسی بھی صحیح روایت کا سرے سے انکار کردینا اہل تشیع کے ہاں کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے!!

اہم نکتہ: اصول کافی میں موجود امام جعفر صادق کے اس قول کو صحیح السند کہنے کے بجائے ضعیف کیوں نہیں قرار دیا گیا؟؟ 

♦️ چار جیّد شیعہ علماء

– سند ⬅️ صحیح

– متن ⬅️ نقص القرآن ، تغییر، ساقط، تحریف 

♦️ قرآن میں نقص و تغییر کا اقرار۔ (علامہ باقر مجلسی)

♦️ اسقاط بعض القرآن و تحریف ثبت (علامہ مازندرانی)

ان الفاظ سے بھی اگر قرآن کریم میں لفظی تحریف ثابت نہیں ہوتی تو پھر اور کونسے الفاظ سے ثابت کی جائے!!؟؟

اہل بصرہ، اہل مکہ، اہل کوفہ اور اہل حجاز میں آیات میں اختلاف کا تحریف قرآن سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ کسی اہل سنت عالم نے اس قسم کے اختلاف کو تحریف القرآن نہیں کہا۔ 

  بسم اللہ کے اختلاف سے قرآن کریم میں کمی،  بیشی، تبدیلی وغیرہ نہیں ہوتی۔  قرآن کریم تو وہی متواتر چلا آ رہا ہے۔!!

موجودہ قرآن کریم میں تعداد آیات کا اختلاف چھ ہزار سے ساڑھے چھ ہزار کے بیچ میں ہے اور وہ بھی اس وجہ سے کہ آیات کا نمبر شمار ، زیر زبر، اعراب بعد میں ڈالے گئے، اس وجہ سے بسم اللہ کی حیثیت وغیرہ پر بھی اختلاف پیدا ہوا، لیکن اس قسم کے اختلاف سے قرآن کریم میں کوئی تبدیلی ہرگز نہیں ہوجاتی۔ علماء اہل سنت ان اختلافات کو تحریف قرآن ہرگز نہیں سمجھتے۔

 ⬅️ سترہ ہزار آیات سے براہ راست موجودہ قرآن میں دو حصہ ضایع ہونے کا دعوی  خود شیعہ جید علماء ہر دور میں تسلیم کرتے آرہے ہیں!!

♦️علامہ باقر مجلسی کو بچانے کے لئے شیعہ عالم ابوھشام کی عجیب و غریب باتیں:

1- نقص اور تغییر کے الفاظ سے علامہ مجلسی کا مقصد تحریف قرآن نہیں ہے۔

2- نقص اور تغییر کے الفاظ سے قرآن کریم  میں کوئی عیب ظاہر نہیں ہوتا۔

3- نقص اور تغییر کے الفاظ سے علامہ مجلسی کا مقصد علامہ خود بتا سکتے ہیں!  

4- نقص اور تغییر کے الفاظ سے علامہ مجلسی کا مقصد لفظی تحریف نہیں ہے۔ 

غور فرمائیں! مضحکہ خیر تاویلات سے ابوھشام علامہ مجلسی کا دفاع تو کرتے رہے لیکن اس کی مذمت نہ کر سکے۔

یاد رہے کہ علامہ باقر مجلسی نے نقص اور تغییر القرآن کے الفاظ سترہ ہزار آیات کی روایت کے تحت بیان کئے ہیں۔

حقیقت: موجودہ قرآن کریم میں تو سترہ ہزار آیات نہیں ہیں!

مطلب واضح طور پر علامہ باقر مجلسی نے دو حصہ قرآن کا کم ہوجانا تسلیم کیا ہے اور اسے قرآن کریم میں نقص اور تغییر سمجھا ہے۔ (معاذاللہ ثم معاذاللہ)

⬅️ابوھشام کی طرف سے متن کی ایک اور کمزور تاویل➡️

اہل سنت کے ہاں تعداد آیات میں اختلاف ہے ، اس لئے آیات قرآنی چھ ہزار ، آٹھ ہزار، سترہ ہزار اور بیس ہزار بھی ہوسکتی ہیں!! (ابوھشام)

اہل سنت کا رد:

بیشک آیات قرآنی کا نمبر شمار بعد میں کیا گیا، بسم اللہ کی حیثیت، سورتوں کی آیات کے نمبر پر علمائے اہل سنت میں اختلاف تحریف ہرگز نہیں ہے، کیونکہ اس اختلاف سے قرآن کریم میں کمی یا کسی زیادتی کا ہونا ممکن نہیں ہے۔ بالفرض یہ اختلاف پانچ سو، ہزار یا دو ہزار کا بھی سمجھا جائے تو بھی اصول کافی کے اس قول کی تاویل ممکن نہیں کیونکہ اس قول میں سترہ ہزار آیات کے نزول کی بات کہی گئی ہے۔  

یعنی موجودہ قرآن کریم کی ہر آیت کو تین حصوں میں تقسیم کرنا پڑے گا!!! 

تصور کریں!!  سترہ ہزار آیات کرنے سے قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت اور انداز بیان کا کیا عالم ہوگا!!! 

♦️ کیا نقص اور تغییر کے معنی و مفہوم کے لئے عربی جاننا ضروری ہے؟ 

یہ اتنے سادہ الفاظ ہیں کہ ایک عام فہم بھی سمجھ سکتا ہے کیونکہ اردو میں بھی عیب، خرابی یا کمی بیشی کے لئے نقص اور تغییر کے الفاظ عام استعمال کئے جاتے ہیں۔ 

نقص اور تغییر کے معنی سمجھنے اتنے مشکل نہیں ہیں کہ عربی جانے بغیر کوئی سمجھ ہی نہ سکے!! 

♦️ نقص اور تغییر کے الفاظ سے علامہ باقر مجلسی کا مؤقف کچھ اور تھا! (ابوھشام) 

اگر علامہ مجلسی کا مؤقف لفظی تحریف قرآن نہ ہوتا اور وہ اس روایت میں لفظ “آیت” کا مفہوم کسی اور طرح سے لیتے تو پھر قرآن کریم میں کیسا نقص؟؟ کیسا تغییر؟؟

♦️ اہل سنت کی دلیل اصول کافی کی روایت بمعہ تائید چار شیعہ علماء : 

– چار جید شیعہ علماء نے امام جعفر صادق کا قول صحیح تسلیم کیا ہے!! 

– دو شیعہ علماء نے واضح  الفاظ میں نقص القرآن و تغییر (علامہ باقر مجلسی) اور تحریف القرآن، ساقط کے الفاظ  (علامہ مازندرانی) استعمال کئے ہیں!! 

✳️ اب یا تو چاروں علماء سے شیعہ ہاتھ اٹھائیں، ان کی مذمت کریں یا پھر ان کی بات تسلیم کرتے ہوئے اقرار کریں کہ معاذاللہ موجودہ قرآن کریم  تحریف شدہ ہے!!

♦️ شیعہ عالم ابوھشام کا اعتراض

اہل سنت کی دلیل درست نہیں اور استدلال کا طریقہ بھی درست نہیں ہے! (ابوھشام)

غور فرمائیں: 

– اہل سنت دلیل ⬅️ اصول کافی کی ایک صحیح السند روایت

– امام جعفر صادق  کا قول ⬅️ ساتھ میں چار جید شیعہ علماء کی توثیق

– اسی روایت کے تحت دو جیّد شیعہ علماء کا تحریف قرآن تسلیم کرنا!

صفحہ 2 از 4