دھوکہ نمبر 87 - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

دھوکہ نمبر 87

  شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ

صفحہ 6 از 7

اور حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ سے باز پرس نہ ہوگا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ہونا یہ قرین انصاف تو ہے قابلِ اعتراض بالکل نہیں اس لئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیغمبر تھے اور پیغمبر کا فرمان قطعی دلیل ہوتا ہے اس لئے اس سے استدلال کرکے اللّٰہ تعالیٰ کے سامنے عذر بیان کیا جاسکتا ہے بخلاف حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کہ آپ سید الاولیاء تو تھے مگر پیغمبر بالکل نہ تھے اور ولی کا قول دلیل قطعی بالکل نہیں اور نہ اس سے استدلال کرکے بارگاہ ایزدی میں خود کیا جاسکتا ہے ۔

اور پھر ایک بات اور بھی ہے کہ امت کی اچھائی اور برائی پر پیغمبر کی شہادت ضروری ہے چنانچہ ارشادِ باری ہے وَيَوۡمَ نَـبۡعَثُ فِىۡ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِيۡدًا عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ اَنۡفُسِهِمۡ‌ وَجِئۡنَا بِكَ شَهِيۡدًا عَلٰى هٰٓؤُلَاۤءِ ‌ؕ( یوم بعثت میں ہم ہر امت پر ایک گروہ ٹھائیں گے اور ان سب پر آپ سے گواہی لیں گے) اس مضمون کی اور بھی آیات ہیں مگر امت پر ولی کی شہادت ضروری نہیں لہٰذا معلوم ہوگیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے سوال کرنا اور حضرت علی سے نہ کرنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی فضیلت کی واضح دلیل ہے ۔

(¹²) روایت مذکورہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کے بارے میں جو ذکر کیا گیا ہے وہ محض لچر اور تاریخی اعتبار سے سراسر بے اصل و بنیاد ہے اس لئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جائے پیدائش میں بڑا اختلاف ہے بعض کہتے ہیں فلسطین میں ہوئی تو بعض دوسرے مصر میں مانتے ہیں اور بعض دمشق (شام) میں مگر مشہور قول یہ ہے کہ آپ کی ولادت بیت اللحم میں ہوئی مگر یہ بات کسی مؤرخ نے لکھی نہیں کہ حضرت مریم علیہا السلام کو بیت المقدس میں دردزہ لاحق ہوا اور اگر یہ صورت تسلیم کر لی جائے تو یہ کہاں سے ثابت ہوا کہ ان کو بیت المقدس سے نکالا گیا قرآنی عبارت تو صاف یہ بتاتی ہے کہ ان کو دردزہ کی وجہ سے سخت بے چینی لاحق تھی انہوں نے چاہا کہ کسی چیز سے پیٹھ لگا کر سہارا لیں چنانچہ ویرانے کی طرف نکل کھڑی ہوئیں ۔

چونکہ بچہ بے باپ کا نفخ ملک (فرشتہ) سے تھا اس لئے وہ شرماتی بھی تھیں اسی لئے کسی سے مدد بھی نہ لینا چاہتی ہوں گی، لا محالہ اس وقت جنگل ہی ان کے حال کے مطابق تھا وہاں جاکر ایک کھجور کے تنے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئیں جنگل کا ماحول، ولادت کے عمل سے ناواقفیت تنہائی اور دردزہ اس لئے بے ساختہ موت کی دعا لبوں پر آگئی فَاَجَآءَهَا الۡمَخَاضُ اِلٰى جِذۡعِ النَّخۡلَةِ‌ۚ قَالَتۡ يٰلَيۡتَنِىۡ مِتُّ قَبۡلَ هٰذَا وَكُنۡتُ نَسۡيًا مَّنۡسِيًّا(دردزہ ان کو ایک کھجور کے تنے کے طرف لایا (اس وقت) انہوں نے کہا کاش میں اس سے قبل ہی مر کر بھولی بسری ہوجاتی)۔

فاطمہ بنت اسد رضی اللّٰہ عنہا کے متعلق جو یہ کہا گیا کہ ان کو وحی ہوئی کہ خانہ کعبہ میں جاکر وضع حمل کریں درحقیقت ایک بے لطف جھوٹ ہے کیونکہ اسلامی یا غیر اسلامی کسی فرقہ کے نزدیک بھی وہ نبی نہیں تھیں پھر حجاج نے اس کو کس بناء پر تسلیم کرلیا یہ قابلِ تعجب بات ہے۔

مشہور روایت میں آیا ہے کہ ایام جاہلیت میں یہ رواج تھا کہ رجب کی پندرہ تاریخ کو کعبہ کا دروازہ کھولتے اور اس مبارک گھر کی زیارت کے لئے اندر داخل ہوتے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش بھی چونکہ اسی دن ہوئی تھی اس لئے اس کو یوم الاستفتاح یا روزہ مریم کہتے ہیں۔

بزرگوں نے اس دن کے کچھ اوراد و وظائف بھی مقرر کئے ہیں، رسم یہ تھی کہ اس دن سے ایک دو روز پہلے عورتیں کعبہ کی زیارت کرتیں، اتفاقاً عورتوں کے لئے مخصوص انہی دنوں میں فاطمہ بنت اسد رضی اللّٰہ عنہا نے بھی زیارت کا ارادہ کیا گو ان کی مدت گزر چکی تھی مگر یہ دن چونکہ سال میں ایک ہی مرتبہ آتا تھا اس لئے باوجود ایسے دنوں میں حرکت دشواری اور باعث تکلیف ہوتی ہے مگر انہوں نے تکلیف برداشت کرکے اپنے کو کعبہ کے دروازے تک پہنچایا اس زمانہ میں بابِ کعبہ قد آدم سے اونچا تھا اور سیڑھی وغیرہ بھی نہیں ہوتی تھی اس لئے عورتوں کو ان کے مرد بدقت تمام اوپر چڑھاتے تھے۔

چنانچہ اسی اٹھانے بٹھانے کے سبب درد میں اضافہ ہوگیا، فاطمہ بنت اسد رضی اللّٰہ عنہا نے خیال کیا کہ تھوڑی دیر میں یہ تکلیف جاتی رہے گی میں اس کی وجہ سے زیارتِ کعبہ سے کیوں محروم رہوں وہ جیسے ہی دروازہ میں داخل ہوئیں داد نے شدت اختیار کر لی اور حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کی ولادت ہوگئی ۔

شیعوں کی روایت میں یہ واقعہ دوسرے انداز سے بیان ہوا ہے کہ مدت حمل گزر جانے اور درد کی شدت میں اضافہ کے سبب جناب ابو طالب مایوس ہوکر شفا طلبی کے لئے ان کو کعبہ میں لے گئے، اللّٰہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور جلد ولادت ہوگئی۔

کتب شیعہ میں یہ روایت جناب امام زین العابدین رحمہ اللّٰہ سے ان الفاظ میں مروی ہے

اَخۡبَرۡتَنِيۡ زَبۡدَةُ بِنتُ عَجۡلَانٍ السَّاعِدِيَّةِ عَنۡ أُمِّ عَمَّارَةَ بِنۡتِ عُبَادِ السَّاعِدِيَّةِ أَنَّهَا قَالَتۡ كُنۡتُ ذَاتَ یَوۡمٍ فِى نِسَاءٍ مِّنَ العَرَبِ إِذَا اَقۡبَلَ أَبُو طَالِبٍ لَئِيۡبًا فَقُلۡتُ لَهٗ مَا شَانُكَ قَالَ إِنَّ فَاطِمَةَ بِنۡتَ أَسَدٍ فِيْ شِدَّةٍ مِّنَ الطَّلَقِ وَاِنَّهَا لَا تَضَعُ ثُمَّ إِنَّهٗ أَخَذَ بِيَدِهَا وَجَاءَ بِهَا إِلىَ الكَعۡبَةِ فَدَخَلَ بِهَا وَقَالَ اِجۡلِسِىۡ عَلىٰ اِسۡمِ اللّٰهِ فَجَلَسَتۡ وَطَلَّقَتۡ طَلَقَةً فَوَلَدَتۡ غُلَامًا تَطِيۡفًا فَسَمَّاهُ أَبُو طَالَبِ عَلِيًّا 

انہوں نے فرمایا کہ مجھ کو زبدۃ بنت عجلان الساعدیہ نے خبر دی اور انہوں نے روایت کی ام عمارہ بنت عباد الساعدیہ سے، انہوں نے کہا میں ایک روز مستورات عرب کے ساتھ بیٹھی ہوئی کہ اچانک ابو طالب فکر مند سے وہاں آئے میں نے ان سے خیریت اور حال پوچھا تو کہنے لگے فاطمہ بنت اسد دردزہ کی تکلیف میں مبتلا ہے مگر ولادت نہیں ہورہی پھر انہوں نے فاطمہ کا ہاتھ پکڑا اور کعبہ تک لائے اور اندر لے گئے اور کہا اللّٰہ کا نام لے کر بیٹھ جا وہ بیٹھ گئیں تو درد شدت اور بڑھ گئی اور بالآخر ایک بچہ جنم دیا جس کا نام ابو طالب نے علی رضی اللّٰہ عنہ رکھا 

صفحہ 6 از 7