دھوکہ نمبر 87 - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

دھوکہ نمبر 87

  شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ

صفحہ 5 از 7

ان توجیہات کے علاوہ اسی قسم کی اور باتیں بھی اس کتاب میں درج ہیں بہرحال ان سے حضرت سلیمان کی کمتری اور حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کی برتری ثابت نہیں ہوتی اس لئے کہ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ نے دنیا کو طلاق دینے کے بعد بھی خلافت کی نہ صرف خواہش کی بلکہ اس کے لئے جدو جہد بھی فرمائی تاآنکہ مسلمانوں میں باہم کشت و خون کی نو تک آئی ۔

اس طرزِ عمل سے گویا یہ واضح ہوگیا کہ بعض لوگوں کے لئے دنیا سے دست برداری طلب ملک کے مخالف نہیں کیونکہ طلب ملک سے ان کا مقصد حصول جاہ و مال نہیں بلکہ دشمنانِ خدا سے جہاد کرنا، کفار کی بیخ کنی، حکام شریعت کو رواج دینا، بیت المال کی نگہداشت اور حقداروں پر اس کی تقسیم بھی اس طلب کا مقصد ہوسکتا ہے لہٰذا حضرت سلیمان اور حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ دونوں اس امر میں تو باہم متفق ہیں کہ طلب ملک و خلافت کے وقت دونوں کے دلوں میں یہی نیک ارادے اور نیت صالح تھی اتنا فرق البتہ ہے کہ سلیمان علیہ السلام نے اللّٰہ تعالیٰ سے یہ دعا کی کہ بلا امداد و اسباب ظاہری مخلوقات ان کے تابع فرمان اور زیر نگیں ہو چنانچہ ایسا ہی ہوا فَسَخَّرۡنَا لَهُ الرِّیۡحَ(آپس میں ہوا کو ہم نے ان کے تابع کردیا)، وَالشَّیٰطِیۡنَ کُلَّ بَنَّاءٍ وَ غَوَّاصٍ ( شیاطین ان کے لئے تعمیر و غوطہ خوری کرتے تھے)۔

اور جناب حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ نے اسبابِ ظاہری یعنی فوج کشی اور جنگ و قتال کی صورت میں اس قسم کی درخواست کی لیکن ان کو اس میں کامیابی نہیں ہوئی صرف اس مصلحت کی وجہ سے کہ ان کی نظر سے اسبابِ ظاہری کی وقعت و منزلت گر جائے کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ کا معاملہ اپنے خاص بندوں سے کچھ اسی طرح کا ہوتا ہے اس لئے کہ ان کو ادب و رشد کا سبق دینا ہوتا ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ دنیا سے بالکل قطع تعلق دین محمد ﷺ کا مقصد ہر گز نہیں ہوتا اگر ترک دنیا ہی باعثِ فضیلت ہے تو ہند کے جوگی، کشمیر کے رشی، نصاریٰ کے رہبان، اور چین کے لامے جو دنیا سے اپنا رشتہ بالکل کاٹ چکے ہیں اور عبادت اور خشک خوری کو اپنی عادت بنا چکے ہیں کیا نعوذ باللّٰہ حضرت سلیمان و حضرت یوسف علیہم السلام سے افضل کہلائیں گے۔

(¹¹) حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کو فضیلت دینے کے سلسلے میں جو بیان ہوا اس کا لب لباب اور خلاصہ دو باتوں پر مبنی ہے:

ایک یہ کہ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ نے اپنے متعلق بد اعتقادی کے مجرموں کو جلا وطن کیا، ان کو سزا دی، جب کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ایسا نہیں کیا،

دوسرے یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے باز پرس ہوگی اور وہ اپنا عذر پیش کرنے پر مجبور ہوں گے مگر جناب علی کرم اللّٰہ وجہہ سے نہ باز پرس ہوگی اور نہ وہ عذر و معذرت پر مجبور ہوں گے لیکن ہمیں ان دونوں باتوں پر اشکال و اعتراض ہے اس لئے کہ یہ دونوں باتیں حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کی برتری حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ثابت نہیں کرتیں۔

اب دیکھئے سزا دینے نہ دینے کا معاملہ تو ہم کہتے ہیں کہ جناب امیر رضی اللّٰہ عنہ کی محبت میں حد سے بڑھ جانے والوں نے تو یہ لغو عقیدہ اور کلماتِ کفر خود جنابِ امیر رضی اللّٰہ عنہ کی موجودگی میں شائع و ذرائع کر دئیے اور عوام و خواص میں پھیلا دئیے تھے جب کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی محبت میں غلو کرنے والوں نے جو کچھ کیا ان کے آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد کیا ان حالات کے پیشِ نظر جنابِ علی رضی اللّٰہ عنہ کے لئے تو سزا دینا ممکن تھا اور اگر یہ قتل ہوجاتا تو فتنہ کی جڑ ہی کٹ جاتی اور پھر کوئی اس کا نام بھی نہ لیتا لیکن چونکہ یہ مقدر نہ تھا اس لئے ایسا نہ ہوا جلا وطنی کے بعد بھی وہ اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے بلکہ اب محتاط ہوکر ان کو یہ کفر مدائن، عراق اور تبریز میں پھیلانے کا بہتر موقعہ مل گیا۔

اب جواب طلبی کے معاملہ کو لیجئیے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے باز پرس کا ذکر تو قرآن مجید میں آگیا مگر حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کے متعلق اس سلسلہ میں کچھ معلوم نہیں اور کسی چیز سے لا علمی اصل بات یا چیز کے وجود کی نفی کو لازم نہیں، ہاں اگر حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کے بعد کوئی رسول ہوتا یا ان پر وحی اترتی اور اس میں ان سے باز پرس کی نفی ہوتی تو یہ فرق کچھ قابلِ لحاظ ہوتا بلکہ بعض آیات قرآنی کا عموم تو یہ بتاتا ہے کہ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ بھی اس باز پرس سے نہ بچیں گے اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ وَمَا يَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ فَيَقُوۡلُ ءَاَنۡـتُمۡ اَضۡلَلۡـتُمۡ عِبَادِىۡ هٰٓؤُلَاۤءِ اَمۡ هُمۡ ضَلُّوا السَّبِيۡلَ (جس دن وہ جمع کرے گا لوگوں کو اور ان کو جس کی وہ خدا کے سوا عبادت کرتے تھے پس ان سے پوچھے گا کہ تم نے میرے ان بندوں کو بہکایا تھا یا وہ خود ہی بہک گئے تھے)

اس پر یہ حضرت بھی عذر کریں گے قَالُوۡا سُبۡحٰنَكَ مَا كَانَ يَنۢۡبَغِىۡ لَنَاۤ اَنۡ نَّـتَّخِذَ مِنۡ دُوۡنِكَ مِنۡ اَوۡلِيَآءَ (وہ کہیں گے تو پاک ہے ہمارے لئے یہ لائق ہی نہ تھا کہ ہم تیرے سوا کسی کو ولی بناتے) اور ظاہر ہے اس قسم کی باز پرسی میں کوئی الزامی پہلو نہیں ہے کیونکہ اس باز پرس سے تو ان پرستش کرنے والوں کو ڈانٹنا ڈپٹنا مقصود ہے اور تنبیہ کرکے خود ان کے معبودوں کی زبانی ان کے مذہب و عقیدہ کا کذب ظاہر کرنا ہے۔

اور دلیل اس کی یہ ہے کہ ایسی بازپرس فرشتوں سے بھی ہوگی حالانکہ فرشتے بالاجماع معصوم اور غیر مکلف نہ وہ قابل مواخذہ ہیں نہ لائق عتاب،

چنانچہ ارشاد ہے وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ جَمِيۡعًا ثُمَّ يَقُوۡلُ لِلۡمَلٰٓئِكَةِ اَهٰٓؤُلَاۤءِ اِيَّاكُمۡ كَانُوۡا يَعۡبُدُوۡنَ (جس دن وہ ان سب کو جمع کرے گا اس وقت فرشتوں سے پوچھے گا کہ یہ لوگ تم کو پوجتے تھے )

صفحہ 5 از 7