دھوکہ نمبر 87 - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

دھوکہ نمبر 87

  شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ

صفحہ 4 از 7

(⁹) حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ڈر اور خوف اور حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کے اطمینان کے متعلق جو اس روایت میں کہا گیا ہے وہ نرا مغالطہ ہے ۔

اس لئے کہ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ جانتے تھے کہ میں نو عمر بچہ ہوں اور پیغمبر کا تابع مجھ سے ان کو کوئی سوال ہی نہیں تھا کہ اس کے بنا پر مجھے مار ڈالیں اس لئے ان کے ڈرنے کا کوئی سوال تھا ہی نہیں چنانچہ مشرکین مکہ نے انہیں ہاتھ بھی نہیں لگایا ۔

اس کے علاوہ خود حضور ﷺ نے ان کو تسلی دی تھی اور فرما دیا تھا کہ وہ تم کو کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے لہٰذا ان کے اطمینان کا سبب تو پیغمبر پر ایمان تھا، اسی نے ان کے دل کو مطمئن رکھا۔

اس کے علاوہ باہم جنگ و قتال کی ابھی نوبت نہیں آئی تھی اس کے علاوہ دوسری طرف محبت کے اسباب قرابت و رشتہ داری اور ابو طالب کی ریاست یہ سب چیزیں بدستور قائم اور برقرار تھیں اور اسی کے ساتھ یہ خوف بھی لگا ہوا تھا کہ اگر ان کو کوئی پہنچا تو حمزہ و عباس (رضی اللّٰہ عنہم) اور دوسرے چچا زاد بھائی اس کا بدلہ لینے کو تیار موجود ہیں۔

ادھر موسیٰ علیہ السلام کو ان باتوں میں سے کوئی بات حاصل نہ تھی بلکہ ان کو یہ گمان غالب تھا کہ یہ لوگ مجھے قبطی کے بدلہ قتل کر ڈالیں گے اور اسی سلسلہ میں رؤسائے قبط کے مشورے اور تدبیریں ایک معتبر ذریعہ سے ان کو بھی معلوم ہوگئی تھیں اور فرعون سے محفوظ رکھنے کا خدائی وعدہ بھی ابھی نہیں ہوا تھا اور جب یہ وعدہ الٰہی اِنَّنِىۡ مَعَكُمَاۤ اَسۡمَعُ وَاَرٰى(میں تم دونوں کے ساتھ ہوں اور سب کچھ دیکھ اور سن رہا ہوں) اور اَنۡـتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ‏ (تم دونوں اور تمہارے پیروکار ہی غالب رہیں گے) کے الفاظ میں ان تک پہنچا تو ان کی پوری تسلی ہوگئی اور پھر اس فرعون کے مقابلے کے لئے ڈٹ گئے جس کے دبدبہ اور فوج و لشکر کا حال معلوم ہی ہے کہ کفار قریش کی نسبت تو اس کے سامنے اتنی بھی نہیں جتنی ایک تنکے کی پہاڑ کے سامنے ہوتی ہے اور پھر اسی باسطوت و جبروت بادشاہ کی عین ناک کے نیچے اسی شہر میں چالیس سال تک رستے بستے رہے۔

بخلاف حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کے جب (بقول شیعہ) حضرتِ ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ نے ان سے خلافت چھینی تو اس کمزور اور بزدل شخص کا خوف اور ڈر ان کے دل میں اس قدر بیٹھ گیا کہ امامت سے بھی دست بردار ہوگئے۔

حالانکہ ان کی امامت حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نبوت کی طرح اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر شدہ تھی اسی خوف اور تقیہ کی وجہ سے بہت سے فرائض اور واجبات کو چھوڑا اور قرآن کی تحریف اور احکام کی تبدیلی گوارا کی اور اس پر راضی رہے ۔

اسی طرح جب حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ نے اپنے عہد میں (بقول شیعہ) جب ان کی دختر کو چھینا تو انتہائی خوف اور ڈر کی وجہ سے اس ذلّت کو بھی قبول کر لیا۔

حالانکہ یہ سارا خوف و ہراس صرف نقصان پہنچنے کے اندیشۂ موہوم پر مبنی تھا، نہ جان جانے کے خطرے پر اس لئے کہ شیعوں کے نزدیک یہ امر تسلیم کردہ اور طے شدہ امور میں سے ہے کہ ہر امام کو اپنی موت کا وقت معلوم ہوتا ہے اور وہ اپنے اختیار سے مرتا ہے۔

اور اہل سنت کے نزدیک بھی بطریق صحیح یہ ثابت ہے کہ جب ایک دفعہ قصبہ منبع میں حضرت علی بیمار ہوئے اور صحابہ کرام رضوان اللّٰہ عنہم عیادت کو آئے تو آپ سے کہا کہ یہ ابادی گنوار کسانوں کی ہے اس لئے مناسب یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ مدینہ منورہ تشریف لے چلیں اس لئے کہ خدا نخواستہ کوئی امر معین وقوع پذیر ہو جائے تو تجہیز و تکفین تو تسلی بخش طریقے سے ہوسکے، اس پر حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے رسول کریم ﷺ نے میرے قتل کی حقیقت سے پورے طور پر آگاہ فرما دیا ہے جب تک وہ وقت نہ آجائے ایسی ویسی بات کا مجھے کوئی خطرہ نہیں اسی طرح متعدد بار آپ نے اپنی شہادت کے متعلق تفصیلات بتائیں بلکہ منقول قول تو یہاں تک ہے کہ آپ نے قاتل کی تعیین بھی فرما دی تھی تو ان معلومات کے ہوتے ہوئے (شیعوں کا بیان کردہ) خوف و ہراس کیوں تھا ؟

(¹⁰) حضرت سلیمان علیہ السلام کے متعلق روایت میں جو کچھ بیان ہوا ہے اس سے خدا کی پناہ مانگنی چاہئیے کہ وہ جاہ و حشمت دنیاوی کے طالب ہوئے ہوں اس لئے کہ یہ عقیدہ رکھنا تو ان کے دامنِ نبوت پر دھبہ لگانے کے برابر ہے اور صریحاً ان کی نبوت کے انکار کے مترادف ہے جسے غالباً شیعہ بھی گوارا نہ کریں گے اس لئے لا محالہ یہ ماننا پڑے گا کہ اس دعا و طلب میں وجاہت دنیاوی نہیں بلکہ کوئی صحیح غرض مدنظر ہوگی۔

اس سلسلے میں سید مرتضیٰ کی وہ کتاب قابلِ غور و توجہ ہے اور تنزیہ الانبیاء والائمہ کے سلسلہ میں شیعوں کے ہاں معتبر سمجھی جاتی ہے اس میں اس نے جو توجیہات بیان کی ہیں، وہ ذرا سمجھنے کی ہیں۔

(۱) ہوسکتا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس قسم کے ملک کا مطالبہ اس لئے کیا ہو کہ وہ آپ کی نبوت کی دلیل و معجزہ بن جائے کیونکہ معجزہ وہی ہوتا ہے جس پر کوئی دوسرا قادر نہ ہو جائے ۔

(۲) یا ملک کی طلب آپ نے صرف مخلوق خدا میں عدل و انصاف قائم کرنے اور رشد و ہدایت پھیلانے کی غرض سے کی ہو کیونکہ یہ مقصد شاہی اقتدار کے تحت آسان طریقے سے حاصل ہوسکتا ہے جوں جوں اقتدار بڑھتا ہے اس مقصد کی راہیں کشادہ ہوتی ہیں۔

(۳) یا لِاَحَدٍ مِّنۡ بَعۡدِیۡ سے مراد صرف ان کی امت ہو گویا درخواست کا یہ مطلب ہوگا کہ اس بادشاہی امتیاز سے وہ بحیثیت نبی اپنی امت سے ممتاز ہو جائیں، اس توجیہہ میں صاف خلش ہے کیونکہ احادیث صحیحہ اور اس نص کے ظاہری الفاظ عموم پر دلالت کرتے ہیں پھر کوئی توجیہہ اس وقت صحیح ہوتی کہ وہ اسی صفت کہ بادشاہت طلب کرتے نہ اصل بادشاہت اس لئے کہ نبی کا امتیاز اپنی امت سے اور دوسری چیزوں سے بھی ہوسکتا ہے، بادشاہت ہی کیا ضروری ہے ۔

(۴) یا اللّٰہ تعالیٰ نے ان کو باخبر کردیا ہوگا کہ اس طرح کا ملک ہو جانے کے بعد ہی ان کو دنیا میں صلاح و تقویٰ حاصل ہوگا، نیکیوں ، بھلائیوں اور طاعات کی کثرت نصیب ہوگی بخلاف اس کے کہ اگر یہی ملک کسی دوسرے کے ہاتھ آیا تو وہ بجائے اس کے کہ اس کے لئے صلاح و تقویٰ کا سبب بنے توجہ الی الحق اور طاعات و خیرات سے اس کے لئے مانع نہ ہو جائے ۔

صفحہ 4 از 7