دھوکہ نمبر 87 - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

دھوکہ نمبر 87

  شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ

صفحہ 3 از 7

(¹) یہ سارے دلائل اہل اسلام کے عقائد کے خلاف ہیں بلکہ یہود و نصارٰی کے بھی کیونکہ کوئی ولی کسی نبی کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتا ۔

(²) یہ سب باتیں قرآنی نصوص کے بھی خلاف ہیں کیونکہ قرآن میں جا بجا انبیاء کو تمام مخلوقات پر فضیلت دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ ان کو ساری مخلوقات میں سے چنا اور منتخب کیا گیا ہے ۔

(³) ان استدلالات میں انبیاء کرام علیہم السلام کی لغزشوں کو شمار کیا گیا اور پھر ان کا مقابلہ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ ے مناقب و مدائح سے کیا گیا ہے اور انبیاء کے مناقب و مدائح سے آنکھیں بند کر لیں ہیں اگر دونوں کے مناقب اور مجدد شرف کو برابر رکھ کر کچھ کہا جاتا تو ادھر توجہ کا شائبہ جواز نکل آتا ورنہ یہ طریقہ احتجاج تو ہر جگہ چل سکتا ہے، اس کی بناء پر تو کوئی شورہ پشت اور بدبخت یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ حضور ﷺ سے سورۃ عبس میں اسیرانِ بدر سے فدیہ کے معاملے میں ان شاء اللّٰہ چھوڑ دینے پر، منافق کی نماز جنازہ پڑھنے پر، غزوہ تبوک میں منافقین کو عدم شرکت کی اجازت دینے، یا طعیمہ اور اس کے بھائیوں کو جانبداری پر اللّٰہ تعالیٰ نے بانداز عتاب خطاب فرمایا۔

اور دوسری طرف و صرف امیر المؤمنین بلکہ ابوذر، عمار، سلمان اور مقداد (رضی اللّٰہ عنہم) کی فلاں فلاں آیات میں ستائش فرمائی اور اس سے العیاذ باللّٰہ وہ یہ نتیجہ نکالے کہ یہ حضرات حضور ﷺ سے افضل ہوئے۔

(⁴) حضرت آدم علیہ السلام کی جو تمام انسانوں کے باپ اور پوری نوع انسانی کے اصل اصول ہیں ان کی اولاد میں جو نیکی اور خوبی وقوع پذیر ہوتی ہے باپ ہونے کے ناطے ان کے نامہ اعمال میں لکھی جاتی ہے کیونکہ یہ امر مذہباً طے شدہ ہے کہ والدین اگر مومن ہیں تو ان کی اولاد کے اچھے اعمال ان کے نامہ اعمال میں ثبت کئے جائیں گے لہٰذا حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کی بزرگی ان کے حق میں ھل اتیٰ کا نزول اور عین نماز میں فقیر کو انگھوٹھی کا صدقہ، حضرت آدم علیہ السلام کی عظمت و بزرگی کے مقابلہ میں ذرہ حقیر سے زائد نہیں کیونکہ تمام انبیاء و اولیاء، علماء و صلحاء، ائمہ و اوصیاء اور خود امیر المؤمنین کے جتنے بھی اعمال خیر ہیں وہ حضرت آدم علیہ السلام کے اعمال نامہ میں درج اور آپ کی ذات پاک میں جاگزیں ہوں گے کہ بندگی و طاعت، توبہ شرمندگی کی سنت آپ ہی سے تو جاری ہوئی اور اس بارے میں رسول اللّٰہ ﷺ کا ارشادِ صریح ہے مَنۡ سَنَّ فِى الاِسۡلَامِ سُنَّةً فَلَهٗ اَجۡرَهَا وَاَجۡرُ مَنۡ عَمِلَ بِهَا إِلىٰ يَوۡمِ القِيَامَةِ (اسلام میں جس نے نیک رسم ڈالی اس کو اجراء سنت کے اجر کے ساتھ اس پر عمل کرنے والوں کا اجر بھی ملتا رہے گا)۔

(⁵) بیان فضیلت کے سلسلے میں حضرت نوح علیہ السلام اور علی رضی اللّٰہ عنہ کی بیویوں میں موازنہ بھی عجیب اور انوکھا طرزِ استدلال ہے (جو کسی بڑے دماغ والے شیعہ ہی کے لئے طرہ امتیاز ہو تو ہو کسی مسلمان کو تو اپیل نہیں کرتا۔ ن)

کیونکہ کسی کی بیوی کا کسی دوسرے کی بیوی سے افضل ہونا اس کے شوہر کی افضلیت ثابت نہیں کرتا اس منطق کی رو سے ماننا پڑے گا کہ فرعون پیغمبروں سے افضل تھا کیونکہ زوجہ فرعون بالاجماع حضرت نوح و حضرت لوط علیہم السلام کی بیویوں سے افضل تھیں، اور بقول شیعہ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کی زوجہ محترمہ ازواجِ رسول اللّٰہ سے افضل تھیں تو اب آپ دیکھ لیجئے کہ اس استدلال کی روشنی میں کون شوہر کا سے افضل ہوا۔؟ (یہی تو مکر و فریب کے وہ جال ہیں جن سے شیعہ اہل ایمان کا شکار کھیلتے ہیں! ن)

(⁶) حدیث " لو کشف الخطاء" محض گھڑی ہوئی ہے کیونکہ شیعوں اور سنیوں دونوں کی کتابوں میں مذکور سند کے ساتھ یہ حدیث نہیں ہے۔

اور اگر اس کو مان بھی لیا جائے تو اس سے افضلیت ثابت نہیں ہوتی کیونکہ علی رضی اللّٰہ عنہ نے یقین کی زیادتی کا انکار کیا ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اطمینان کی طلب کی ہے اور اطمینان کوئی اور شے ہے اور یقین کچھ اور لہٰذا اطمینان حاصل ہونے کے بعد یقین میں زیادتی لازم نہیں آتی بلکہ اطمینان تو عیاں سے مشابہ ایک حالت کا نام ہے اور یہ طے شدہ قاعدہ ہے کہ زیادہ ہونے والی چیز اس چیز کی جنس سے ہونی چاہئیے جس پر زیادتی کی گئی ہے ۔

(⁷) معراج کی رات میں جس طرح حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کا حاضر ہونا بیان کیا گیا ہے یہ پایۂ نبوت کو نہیں پہنچا بلکہ اس میں اختلاف ہے چنانچہ ابنِ بابویہ قمی نے کتاب المعراج میں حضرت ابوذر غفاری رضی اللّٰہ عنہ کی ایک طویل حدیث میں یوں بیان کیا ہے کہ آسمان پر فرشتوں نے حضور ﷺ سے یوں کہا إِذَا رَجَعتَ إِلىَ الأَرضِ فَاتُوَاء عَلِيًّا مِّنَّا اَلسَّلَامَ ( جب آپ زمین پر تشریف لے جائیں تو علی سے ہمارا سلام کہئے ) پھر اسی کتاب میں ابنِ بابویہ نے یہ بھی لکھا ہے کہ صحیح یہ ہے کہ معراج کی رات حضرت علی حضور ﷺ کے ہمراہ نہیں تھے بلکہ زمین پر تھے البتہ حجاب کا پردہ نظر کے سامنے سے اٹھ گیا تھا جو کچھ حضور ﷺ عالم ملکوت میں مشاہدہ فرما رہے تھے اس کو حضرت علی یہیں زمین سے دیکھ رہے تھے ۔

اور صاحبِ نوادر الاصول نے عمار بن یاسر رضی اللّٰہ عنہ سے اور قطب راوندی نے بریدہ رضی اللّٰہ عنہا سے بایں الفاظ مرفوع روایت نقل کی ہے إِنَّ عَلِيًّا كَانَ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ لَيۡلَةَ الاَسۡرَىٰ وَاِنَّهٗ رَاىٰ كُلَّمَا رَاىَ النَّبِيُّ ﷺ (معراج کی رات جناب علی رضی اللّٰہ عنہ نبی کریم ﷺ کے ہمراہ تھے جو کچھ نبی ﷺ دیکھتے وہی آپ بھی دیکھتے۔) 

شیروں کے نزدیک دونوں روایتیں صحیح ہیں اور دونوں ایک دوسرے کی ضد اور باہم متناقص ہیں 

(⁸) جارد و عبدی کی گزشتہ حدیث میں ذکر ہوا ہے کہ تمام انبیاء کی بعثت ولایت علی رضی اللّٰہ عنہ پر ہوئی بلکہ تشیع کے معنی ہی ولایت علی میں مضمر ہیں چنانچہ قاضی نور اللّٰہ شوشتری نے اس کی تصحیح کی ہے ایسی صورت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب ابتدائے نبوت سے ہی علی کی ولایت حاصل تھی تو معراج کی رات کو اللّٰہ تعالیٰ سے درخواست کرنا تحصیل علم اور پہلے سے موجود چیز کی طلب ہے جو ایک مہمل اور بے معنیٰ عمل ہے۔

صفحہ 3 از 7