دھوکہ نمبر 87 - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

دھوکہ نمبر 87

  شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ

صفحہ 2 از 7

حجاج نے کہا تو نے ٹھیک کہا، اب یہ بتا کہ سلیمان (علیہ السلام) پر علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت کی کیا وجہ ہے حلیمہ (رضی اللہ عنہا) نے کہا کہ سلیمان (علیہ السلام) نے بادشاہ اور دنیاوی جاہ و عزت کے لئے ان الفاظ میں اللّٰہ تعالیٰ سے دعا کی۔

رَبِّ اغۡفِرۡلِىۡ وَهَبۡ لِىۡ مُلۡكًا لَّا يَنۡۢبَغِىۡ لِاَحَدٍ مِّنۡۢ بَعۡدِىۡ‌ۚ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡوَهَّابُ( اے اللہ مجھے اس شان کا مالک فرما جو میرے بعد کسی کے لئے سزاوار نہ ہو بے شک عطا کرنے والا قوی ہے) بخلاف اس کے جناب علی (رضی اللہ عنہ) نے دنیا کو تین طلاقیں دیں اور کہا کہ اِلَيۡكَ عَنِّي يَا دُنۡيَا طَلَّتۡتُكِ ثَلَاثًا لَا رَجۡعَةَ بَعۡدَهَا حَبۡلِكِ عَلىٰ غَارِبِكِ غُرِّىۡ غَيۡرِى لَا حَاجَتَه لِيۡ فِيۡكِ (اے دنیا مجھ سے پرے ہٹ میں نے تجھ کو تین طلاقیں دی جس میں رجوع بھی نہیں ہوسکتا تو جان ترا کام جانے کسی اور کو جا کر بہکا مجھے تجھ سے کوئی سروکار نہیں) حجاج نے کہا یہ بھی تو نے ٹھیک کہا اب یہ بتا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر کس دلیل سے علی (رضی اللہ عنہ) کو فضیلت ہے حلیمہ نے کہا کہ جب موسیٰ علیہ السلام مدین بھاگے تو ہراساں اور ڈرے ہوئے تھے بفرمان اللّٰہ تعالیٰ فَخَرَجَ مِنۡهَا خَآئِفًا يَّتَرَقَّبُ‌(پس وہ مصر سے ڈرے سہمے نکلے) اور ادھر حضور ﷺ کی ہجرت کی رات جناب علی (رضی اللہ عنہ) آپ کے بستر پر آرام کی نیند سو رہے تھے اگر ان پر خوف و ہراس ہوتا تو نیند حرام ہوجاتی، حجاج نے کہا یہ بھی تو نے ٹھیک کہا، اب عیسیٰ علیہ السلام پر وجہ فضیلت بتا بولی اس کی دلیل یہ ہے کہ مقام حساب میں جب عیسیٰ (علیہ السلام) کو کھڑا کیا جائے گا اور ان سے بازپرس ہوگی کہ کیا نصاریٰ نے تمہارے کہنے سے تمہاری عبادت کی اور تم نے ان کو آمادہ کیا تو وہ معذرت چاہنے اور توبہ کرنے پر مجبور ہوں گے چنانچہ اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوۡنِىۡ وَاُمِّىَ اِلٰهَيۡنِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ‌ؕ( کیا تم نے لوگوں سے یہ کہا تھا کہ خدا کو چھوڑ کر مجھے اور میری والدہ کو خدا بنالو) بر خلاف اس کے کہ سبائیہ نے جب امیر المؤمنین کو خدا کہا تو آپ بہت برا فروختہ ہوئے اور ان کو جلا وطن کردیا اور ایسی سزا دی کہ مشرق سے مغرب تک اس کا شہرہ ہوگیا اور امیر المؤمنین بری الذمہ ہوگئے، حجاج بولا تو نے سچ کہا، پھر ایک ہزار دینار اظہار خوشنودی کی خاطر ان کو دئیے اور مستقل سالانہ وظیفہ بھی مقرر کیا۔

اس کے بعد حلیمہ نے حجاج سے کہا کہ ایک دوسرا نکتہ بھی سن کہ جب مریم بنت عمران (علیہا السلام) کو دردزہ ہوا تو وہ بیت المقدس میں تھیں ان کو حکم ہوا کہ فوراً جنگل میں جاؤ اور وہاں کسی خشک کھجور کے درخت کے نیچے حمل زچگی پورا کرو تاکہ تمہارے نفاس کی گندگی سے بیت المقدس آلودہ نہ ہو حالانکہ علی رضی اللہ عنہ کہ والدہ کو بنت اسد تھیں کو دردزہ لاحق ہوا تو ان کو وحی الہٰی آئی کہ کعبے میں جا اور میرے گھر کو اس مبارک بچے کی پیدائش سے مشرف کر اب ذرا انصاف کرو ان میں سے کونسا بچہ افضل ہے حجاج نے دعائے خیر کی اور عزت و احترام کے ساتھ ان کو رخصت کیا۔

آپ یقین کریں کہ پوری کہانی جھوٹوں کے سرداروں کی من گھڑت، بناوٹی افتراء اور جھوٹ کی پوٹ ہے اور اس کی بڑی دلیل یہ ہے کہ حضرت حلیمہ سعدیہ نے باتفاق مؤرخین خلفائے راشدین تک کا زمانہ نہیں پایا تو حجاج تک پہنچنے کا تو امکان ہی نہیں اگر وہ حجاج کے زمانے تک زندہ ہوتیں تو ان کی عمر ایک سو چالیس سال ہونی چاہئیے بلکہ مؤرخین کا اس میں ہی اختلاف ہے کہ حلیمہ رضی اللّٰہ عنہا نے حضور ﷺ کا زمانہ بعثت بھی پایا یا نہیں، اور وہ ایمان بھی لائی تھیں یا نہیں۔

اس کے علاوہ حجاج شرفاء سادات اور خاندان اہل بیت کے وابستگان کے قتل اور خونریزی میں خصوصی طور پر شہرہ آفاق تھا، اور نواسب کا ایک بدترین فرد تھا، امیر المؤمنین اور آپ کی اولاد سے اس کی دشمنی تو زبان زد خلق تھی چنانچہ اہل بیت کی ایک جماعت کو اسی وجہ سے اس نے شہید کیا پھر کسی کو اس کی مجال و تاب کب تھی کہ اس کی مجلس میں بن بلائے گھس جائے۔

اس کے مصاحبوں اور خدام میں سے بھی اگر کوئی اس کے سامنے جاتا تو جان و آبرو بچانے کی فکر میں لرزاں و ترساں رہتا، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ خام خاص رسول اللہ ﷺ اور دیگر صحابہ کرام تک کی توہین و تذلیل سے باز نہ آیا ۔

حضرت حسن بصری رحمۃ اللّٰہ علیہ اور دوسرے بزرگانِ زمانہ کو مار ڈالنے کے کیا کیا جتن نہ کئے اور کہاں کہاں ان کی تلاش نہ کرائی ان حالات میں یہ ممکن ہی کب تھا کہ حلیمہ ان کے پاس آتیں اور دھڑلے سے گفتگو کر پاتیں ۔

اور پھر یہ راز بھی نہیں کھلتا کہ حلیمہ اس کے پاس آئی کیوں تھیں، حجاج نہ تو سخیوں میں سے تھا، نہ اس کے ہاں بخشش و داد و دہش کا سلسلہ تھا کہ کچھ ملنے یا پالینے کی امید میں اپنی قوم بنی سعد کی فرودگاہ سے جو حجاز میں طائف کے حوالی میں تھی، عراق کے دور دراز مقام میں چلی آتیں ۔

اور یہ بات تو تصور میں میں بھی نہیں آسکتی کہ اہل بیت کا اتنا کڑا دشمن یہ ساری باتیں سن کر بھی حلیمہ کو ایک ہزار دینار ہی نہیں دیگا بلکہ اس کا مستقل وظیفہ بھی مقرر کر دے گا یہ بات تو اس کے عقیدہ اور سرشت کے سراسر خلاف تھی اور پھر سارے ہی مؤرخ خواہ سنی ہوں یا شیعہ اس پر متفق ہیں کہ حجاج مرتے دم تک اپنے عقیدہ پر قائم تھا، تائب ہونا تو دور کی بات ہے اس نے اپنے عقیدہ میں نرمی یا کمزوری تک کو داخل نہ ہونے دیا اور یہ بات بھی سب متفق ہوکر کہتے ہیں کہ زندگی کے آخری گھڑی تک امیر المؤمنین رضی اللّٰہ عنہ اور آپ کی ذریت کے ساتھ دشمنی رکھنے اور سادات کشی پر تلا ہوا تھا ۔

اب آئیے ذرا حلیمہ مائی کے دلائل پر ایک تنقیدی نظر بھی ڈال لیں جن کو شیعہ نے بڑے طمراق اور بڑی چمک دمک سے بیان کیا ہے۔

حالانکہ وہ سب چند و رچند وجوہ سے جس پر بڑی طویل گفتگو درکار ہوگی بے حقیقت اور بے معنیٰ ہی نہیں حد درجہ لچر بھی ہیں یہاں ہم اطناب اور طول سے گریز کرکے صرف بارہ وجوہ ہی سپرد قلم کرتے ہیں ۔

صفحہ 2 از 7