مسئلہ قلم و دوات (واقعہ قرطاس) عمررضی اللہ عنہ نے رسول اللہ…

مسئلہ قلم و دوات (واقعہ قرطاس) عمررضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو رد کر دیا، جو کہ اللہ کی طرف سے وحی تھا

  زینب بخاری

صفحہ 3 از 3

ترجمہ:-جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، بیویوں اور اپنی مملوک لونڈی کے سوا کہ ان کو کوئی ملامت نہ ھے ان کے علاوہ جو تلاش کر لے گا، پس وہ حد سے بڑھنے والے ہیں۔ دیکھیے عاریتہً لی ہوئی نہ بیوی کے حکم میں ھے، اور نہ ملک یمین کے حکم ہیں۔

3: خون اور زخم سے آلودہ کپڑے میں نماز پڑھنا جائز کہتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ھے:

وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ ( المدثر 4)

ترجمہ:-اپنے کپڑے پاک کر

4:  جس ذمی نے کسی مسلمان کو قتل کر دیا ہے، اس کی اولاد کو غلام بنا لینا حکم لگاتے ہیں، حالانکہ حکم الٰہی اس بارہ میں قصاص ھے. 

5: بعض ترکہ میں بعض وارثوں کو مخصوص کر دیتے ہیں، حالانکہ نص قرآنی عام ھے،

 6: امام صادقؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عورت کو مسئلہ احتلام کی تعلیم سے منع کر دیا ھے۔ اور امام کاظم سے نسبت کیا کہ اس نے مخلوق کو اصول دین سیکھنے سے روکا ھے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تعلیم علوم کا حکم فرمایا ہے۔

1: فروع کافی جلد 3 صفحہ 404 باب الرجل لصیلی فی الثوب و ھو غیر طاہر عالما اوجا ہلا.

2: فروع کافی جلد 8 صفحہ 301 میں ہے نصرانی نے مسلمان کو قتل کر دیا، امام ابو جعفر کہتے ہیں مقتول کے ورثا کے سپرد کر دیا جائے، چاہیں قتل کر دیں معاف کریں اور چاہیں اسے غلام بنا لیں۔ انتہی (کتاب الریات باب الحلم یقتل الذمی مسلما) 

3: فروع کافی جلد 7 صفحہ 7576 کتاب باب مایرث الکبر من الولرددن    غیرہ میں ھے. 

ابو عبداللہؒ فرماتے ہیں جب ایک شخص فوت ہو جائے تو اس کی تلوار، انگشتری، مصحف، اس کی کتابیں، رہائشی مکان اور سامان اور اس کی سواری اور کپڑے بڑے بیٹے یا بیٹی کو ملیں گے۔ انتہی

4: فروع کافی جلد 3 صفحہ 49 لفظ لا تحرثو ہن بہذا فلیتخذنہ علۃ انتہی. باب احتلام الرجل والمرأۃ



صفحہ 3 از 3