مسئلہ قلم و دوات (واقعہ قرطاس) عمررضی اللہ عنہ نے رسول اللہ…

مسئلہ قلم و دوات (واقعہ قرطاس) عمررضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو رد کر دیا، جو کہ اللہ کی طرف سے وحی تھا

  زینب بخاری

صفحہ 2 از 3

  امامیہ بھی اس کے قائل نہیں کہ آپﷺ جو بولتے ہیں۔ سب وحی ہوتا ھے، دیکھیے محمد بن الحنفیہ امیر المؤمنين علیؓ سے راوی ہیں،  انہوں نے فرمایا :ماریۃ قبطیہ کے بارہ میں جو کہ ابراہیمؓ فرزند رسول اللہﷺ کی والدہ ہیں، لوگوں نے اس کے چچیرے بھائی سے متعلق بہت باتیں بنائیں، جو اس کے پاس آتا جاتا تھا، مجھے رسول اللہﷺ نے فرمایا یہ تلوار لو، اگر تم اسے ماریہ کے پاس پاؤ تو قتل کر دو، علیؓ اس کی طرف گیا تو وہ کھجور کے درخت پر چڑھ گیا، اور گدی کے بل خود کو نیچے گرا لیا، اس کی ٹانگ اٹھ گئی وہ مقطوع الذکر تھا، مردوں کی طرح نہ تھا، نہ تھوڑا نہ زیادہ میں نے تلوار میان میں کی، اور رسول اللہﷺ کے پاس آ گیا. اور آپﷺ کو اس کی اطلاع دی، آپﷺ نے فرمایا یا اللہ کا شکر ہے، اس نے ہمارے اہل بیت سے رجس کو دور فرما دیا ھے۔

 اگر جمیع منطوق وحی ہوتا، حضرت علیؓ کو قبطی کے قتل کرنے کے لئے نہ بھیجتے، مشورہ کے طور پر رسول اللہﷺ کے فرمان کی مراجعت جرم نہیں ھے، بلکہ اس کا حکم ھے، جیسا کہ رسول اللہﷺ نے حضرت موسیٰ کے مشورہ سے نو بار اللہ کی جناب میں مراجعت کی حالانکہ اللہ تعالیٰ کا حکم پچاس نماز کا ھو چکا تھا۔ اسی طرح موسیٰؑ کو حکم مل چکا ھے۔

أَنِ ائْتِ الْقَوْمم قَوْمَ فِرْعَوْنَ أَلَا يَتَّقُونَ (سورة الشعراء: آیت 10، 11)

 ترجمہ:-ظالم قوم یعنی قوم فرعون کے پاس جاؤ، وہ کیوں نہیں ڈرتے۔ مگر موسیٰؑ اس کے بعد رب قدوس کی جناب میں مراجعت فرماتے ہیں 

إِنِّي أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ

ترجمہ:- مجھے اندیشہ ھے مجھے جھٹلائیں گے۔ (الٰہی) میں ڈرتا ہوں، مجھے قتل نہ کر دیں۔ (الشعراء آیت 12، 14)

لہٰذا حضرت عمرؓ کا رسول اللہﷺ کی طرف اس بارہ میں مراجعت فرمانا کیسے وحی رد کرنے کے مترادف بن سکتا ھے؟

 حضرت عمرؓ کا مقولہ قد غلبہ الوجع،، اظہار شفقت کے طور پر ھے، تکلیف کا غلبہ ایک بشری تقاضا ھے، انبیاءؑ و غیر انبیاءؑ سب اس میں برابر ہیں، اس میں ترک ادب کی کوئی بات نہیں.نیز مقولہ اهجرا استفهموه دو معانی کا محتمل ہے۔

1: جو لوگ [قاضی عیاضؒ نے یہی مفہومِ واضح کیا ھے، دیکھیے شرح النودی صفحہ 43 جلد 2۔

نیز لفظ ہجر ہجران سے ھے جس کا لغوی مفہوم چھوڑنے کا ھے، قائل کا مقصد یہ ہے کہ کیا رسول اللہﷺ ہمیں چھوڑ رہے ہیں: آپ سے پوچھو اور تحقیق کرو، یہ مفہوم بھی ھو سکتا ھے، یاد رہے قد غلبہ علیہ الوجع اور عندکم القرآن حسبنا کتاب اللہ عمرؓ نے رسول اللہﷺ کے حکم کے مقابلہ میں نہیں فرمایا، بلکہ عمرؓ کے ساتھ کسی نے منازعت کی ھے۔ اس کے جواب میں کہا ہے، دیکھیے شرح النووی علے الصحيح المسلم جلد 2 صفحہ 443 ] قلم دوات لانا چاہتے تھے. وہ استفہام انکار کے طور پر کہہ رہے ہیں کہ کیوں نہ قلم و دوات لائی جائے، پیغمبرﷺ سے ہذیان محال ھے اس لئے آپ جو فرماتے ہیں اس پر عمل کرنا چاہئے۔

2:  وہ لوگ جو قلم و دوات لانے میں توقف کر رہے تھے، یہ ان کا مقولہ ھے، اس صورت میں ہجر کا مقصد یہ ہے کہ آلات تکلم کے کمزور ہونے اور زبان پر خشکی کے غلبہ کی وجہ سے آپ کی بات بخوبی نہیں سمجھی جا سکی، دوبارہ آپ سے پوچھو تا کہ آپ کے حکم کی بجا آوری کریں، کسی صحیح روایت میں نہیں ھے کہ یہ مقولہ اهجرا استفهموه حضرت عمرؓ نے کہا تھا. 

• کیا قلم و دوات منگوانے کا مقصد خلافت علیؓ لکھوانا تھا؟ یہ سوچنا کہ رسول اللہﷺ حضرت علیؓ کی خلافت لکھوانا چاہتے تھے، باطل ھے ھو سکتا ھے، اس کے علاوہ کچھ اور لکھوانا چاہتے ھوں امام احمدؒ نعیم بن زید سے روایت کرتے ہیں: (صحیح مسلم: جلد 2 صفحہ 273 باب مناقب ابی بکرؓ.)

علیؓ فرماتے ہیں مجھے نبیﷺ نے حکم دیا میں ایک طبق لاؤں جس پر آپ لکھ دیں تاکہ امت آپ کے بعد گمراہ نہ ھو۔ میں نے خطرہ محسوس کیا، آپ میرے لانے سے پہلے نہ فوت ہو جائیں، میں نے کہا جی آپ مجھے بتا دیں میں یاد رکھوں گا، آپﷺ نے فرمایا میں نماز اور زکوٰۃ اور غلاموں کے بارہ میں وصیت کرتا ہوں۔

اگر خلافت کا فیصلہ کرنا چاہتے تھے، تو وہ ابوبکرؓ کی خلافت ہی ہو سکتی ھے حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: میرے لئے ابوبکرؓ اور اپنے بھائی کو بلاؤ میں ابوبکرؓ کے لئے کتاب لکھ دوں۔ (مسند جلد 2 حدیث صفحہ 693 سند حسن) 

 اکابرین امت پر شیعہ کی غلط بیانیاں

 شیعہ گروہ ائمہ عظام پر غلط بیانی کر کے ان کی طرف ایسی چیزیں منسوب کرتا ھے، جن میں صریح مخالفت رسول اللہﷺ اور مخالفت احکام قرآن لازم آتی ھے اور صحابہ کرامؓ کو فاسد اور کمزور تاویلیں کر کے مخالف رسولﷺ ثابت کرتے ہیں، اور ان کی تکفیر کرتے ہیں ما اضلھم و ما اکفرھم.

ائمہ پر ان کی غلط بیانیوں کے چند حوالے ملاحظہ کیجیے 

1: محمد بن بابو امالی میں دیلمی ارشاد القلوب میں روایت کرتے ہیں: "رسول خداﷺ نے فاطمہؓ کو سات درہم دئیے، اور کہا علیؓ کو دے، وہ اہل و عیال کے لئے طعام خرید کر لائے، کیونکہ ان پر بھوک کا غلبہ تھا۔ فاطمہؓ نے علیؓ کو دے دئیے، اور کہا تجھے رسول اللہﷺ نے حکم دیا ھے کہ ہمارے لئے طعام خرید لاؤ، علیؓ دراہم لے کر دروازہ سے باہر نکلے ایک سائل کی آواز سنی وہ دراہم اس کو دے دئیے،، شیعہ کی بیان کردہ اس روایت میں علیؓ کو مخالف امر رسول اللہﷺ کی حیثیت میں پیش کیا گیا ہے، اور اس میں دوسرے کے مال میں بلا اجازت تصرف بھی ھے، اور اہل پر سختی کرنا بھی کہ ان کی بھوک کا خیال نہ کیا، اور یہ بھی کہ ایک متعذوب کام کیا، اور اہل و عیال کا نفقہ جو کہ واجب تھا. ترک کر دیا، عمرؓ اور عمرؓ کے افعال پر رضا ظاہر کرنا، اور ان کی بزرگی کا خیال رکھنا اس بارہ میں رسول اللہﷺ کی نظر میں دونوں برابر ہیں۔

(فروع کافی: جلد 5 صفحہ 468 کتاب النکاح باب الرجل یحل جاریۃ الاخیہ والمرأۃ تحل جار ہیتا لزدجہا.)

2: ما انزل اللہ کے خلاف اپنے ائمہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے غیر مملوک لونڈی کے ساتھ باذن مالک مجامعت کی اجازت دی ھے، حالانکہ حق تعالیٰ فرماتے ہیں:

وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ لِفُرُوۡجِہِمۡ حٰفِظُوۡنَ، اِلَّا عَلٰۤی اَزۡوَاجِہِمۡ اَوۡ مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُہُمۡ فَاِنَّہُمۡ غَیۡرُ مَلُوۡمِیۡنَ،فَمَنِ ابۡتَغٰی وَرَآءَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الۡعٰدُوۡنَ

صفحہ 2 از 3