مالی سیاست، زمام حکومت سنبھالتے ہوئے جس کا اعلان سیدنا…

مالی سیاست، زمام حکومت سنبھالتے ہوئے جس کا اعلان سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کیا

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

6: دعوت پیش کرنے کے بعد معاندین اسلام کے خلاف اعلان جہاد کرنا یہاں تک کہ اسلام قبول کر لیں یا جزیہ ادا کرنے پر تیار ہو جائیں تاکہ اللہ کا دینِ اسلام تمام ادیان پر غالب آ جائے۔

7: بغیر کسی ظلم و زیادتی کے مالِ فے اور صدقات کو وصول کرنا۔

8: بیت المال سے مستحقات اور عطیات کو بغیر اسراف و بخالت کے مقرر کرنا اور بغیر کسی تقدیم و تاخیر کے وقت مقررہ پر ادا کرنا۔

9: با صلاحیت، امانت دار اور خیر خواہ افراد کو جمع کرنا اور ان کے ذمہ اعمال و اموال سپرد کرنا تاکہ باصلاحیت افراد کے ذریعہ سے اعمال صحیح طریقہ پر انجام پائیں اور امانت دار افراد کے ذریعہ سے مال محفوظ رہے۔

10: خود امور و مسائل کی نگرانی کرے اور حالات کا جائزہ لے تاکہ امت کی سیاست اور ملت کی حفاظت میں ترقی کے منازل طے کرے، لذت یا عبادت میں مشغول ہو کر دوسروں پر تکیہ نہ کرے۔

(الاحکام السلطانیۃ والولایات الدینیۃ، ابو الحسن الماوردی: صفحہ، 16، 17) 

بالاختصار خلیفہ کے فرائضِ بیعت کے دو شرائط حفاظتِ دین اور سیاستِ دنیا سے متفرع ہوتے ہیں،

(مقدمۃ ابنِ خلدون: صفحہ، 191) 

جو رسول اللہﷺ‏ کے فرائضِ منصبی میں سے ہیں جن کا یہ خلیفہ ہے۔ علامہ ماوردیؒ اور فراء ہم عصر ہیں، فرائضِ خلیفہ سے متعلق ان دونوں کی تعیین ایک دوسرے سے مطابقت رکھتی ہے۔ یہ ان دونوں کا اجتہاد ہے جو ان کے دور میں امت کی ضروریات کے مطابق تھا لیکن یہ کسی طرح مناسب نہیں ہے کہ ایک عالم نے اُمت کے جو حقوق شمار کرائے ہیں اسی پر اکتفاء کیا جائے خواہ وہ فضیلت اور وسعتِ علم میں کتنے ہی اونچے مقام پر کیوں نہ فائز ہو اور اس موضوع سے متعلق اس کی نگاہ کتنی ہی وسیع اور ہمہ گیر کیوں نہ ہو اور وہ معاصرین ہی میں سے کیوں نہ ہو چہ جائے کہ صدیوں قبل کے آراء و اجتہادات پر اکتفا کیا جائے۔

(الخلافۃ بین التنظیر و التطبیق، محمد المرداوی: صفحہ، 66)

لہٰذا ضروری ہے کہ خلیفہ کے فرائض کی تعیین مذکورہ بیعت کی دونوں شرائط حفاظتِ دین اور سیاستِ دنیا کی بنیاد پر کی جائے اور علمائے امت کی کمیٹیاں اپنے دور کے لوگوں کے لیے اس کام کو انجام دیں۔

(الخلافۃ بین التنظیر و التطبیق، محمد المرداوی: صفحہ، 67) 

یہ خلیفہ کے بعض فرائض ہیں جسے فقہائے امت نے بیان کیا ہے، عصور و ازمان میں تطور کے ساتھ ان میں بھی تطور ہو سکتا ہے بشرطیکہ یہ تطور نصوص کتاب و سنت اور احکامِ دین کے مخالف نہ ہو۔

(السیاسۃ المالیۃ لعثمان بن عفان: صفحہ، 63)

مسلمانوں سے بیت المال کا حق وصول کرنا

خراج وصول کرنے والے بیت المال کے حقوق کو جمع کرنے کے لیے حکومت کے نمائندے ہوتے ہیں جب انہوں نے مسلمانوں پر عائد شدہ حقوق حاصل کر لیے تو انہوں نے اپنی ڈیوٹی ادا کر دی اور اگر انہوں نے بیت المال کے حقوق کو وصول کرنے میں غلو سے کام لیا تو انہوں نے مال ادا کرنے والوں پر ظلم ڈھایا، انہیں نقصان پہنچایا اور ان کی طاقت سے بالاتر ان کو مکلف کیا اور رسول اللہﷺ‏ نے بیت المال کے حق کو حاصل کرنے میں غلو سے منع فرمایا ہے اور زکوٰۃ میں لوگوں کا بہترین مال لینے سے منع فرمایا ہے اور پھلوں کی زکوٰۃ وصول کرنے میں آسانی و تخفیف کا حکم فرمایا ہے۔

(السیاسۃ المالیۃ لعثمان بن عفان: صفحہ، 64)

بیت المال سے مسلمانوں کا حق ادا کرنا

بیت المال سے مسلمانوں کا عطیہ یا تو براہِ راست ہو گا جیسے زکوٰۃ کو مستحقین پر صرف کرنا اور بیت المال سے زائد مال کو عطیات کے نظام کے تحت مسلمانوں کے مابین تقسیم کرنا، یا براہِ راست نہ ہو گا جیسے خدمات عامہ (پبلک سروسز) جو حکومت اپنی رعایا کے لیے پیش کرتی ہے، اس پر بیت المال سے خرچ کیا جائے گا۔ دونوں طرح کے عطیات میں لازم ہے کہ حق کو قائم رکھا جائے براہِ راست عطیات ظلم و زیادتی سے پاک ہوں۔ بایں طور کہ مقررہ اصولوں کی مخالفت نہ کی جائے کہ بلا سبب اور کسی وجہ جواز کے بغیر کسی کو فائدہ اور کسی کو نقصان پہنچایا جائے، اور یہ جائز نہیں کہ عطیات کو ان کے مقررہ وقت سے مؤخر کیا جائے خواہ یہ تاخیر کارروائی کی پیچیدگی کی وجہ سے ہو یا ان رکاوٹوں کی وجہ سے جن کی وجہ سے وہ حضرات جو حق تلفی کا شکار ہیں ذمہ داروں تک نہیں پہنچ پاتے کہ وہ عطیات کی تاخیر یا قلت یا عدمِ وصول کے سلسلہ میں بات کر سکیں۔ اور اسی طرح خدمات عامہ (پبلک سروسز) کی شکل میں حکومت عوام کو جو عطیات پیش کرتی ہے اس میں یہ جائز نہیں کہ فردِ معین کی منفعت پیشِ نظر ہو بلکہ ضروری ہے کہ پوری امت کی منفعت پیشِ نظر رہے۔

(السیاسۃ المالیۃ لعثمان بن عفان: صفحہ، 66)



صفحہ 2 از 2