تحریف قرآن پر خیر طلب سے فیس بک پر مکالمہ - سنی شیعہ مناظرے…

تحریف قرآن پر خیر طلب سے فیس بک پر مکالمہ

  رانا مظہر

صفحہ 16 از 29

ترجمہ:امر خامس:کیا قرآن پاک تغیر و تبدیلی سے محفوظ ہے؟جواب یہ ہے کہ قرآن پاک میں کمی بیشی ،تغیر و تبدیلی کے بارے میں مختلف اقوال ہیں ،اور اس مسئلہ کا عنوان تحریف قرآن ہے۔۔۔تحریف قرآن کے قائلین کون ہیں اور ان کے کیا دلائل ہیں ؟جواب یہ ہے کہ محدثین و اخباریوں کے ایک گروہ نے قرآن پاک میں کمی کی روایات نقل کئے ہیں اور اس وجہ سے انہوں نے تحریف کا قول اختیار کیا ہے ۔
۳۔معروف شیعہ عالم حسین البحرانی کی کتاب ’’الانوار الوضیہ‘‘ کے محقق و محشی العصفور البحرانی مذکورہ کتاب کے حاشیے میں لکھتے ہیں :

قد اختلف علمائنا الابرار فی ھذہ المسئلۃ :فمن ھم من جعل الحفظ لاجل ۔۔۔ومن ھم من لم یسلم فیہ الحفظ لا فی المعانی ولا فی المبانی(۱۴)

ترجمہ:ہمارے علماء کا اس بارے میں اختلاف ہے ،بعض نے کچھ وجوہات کی بنا پر حفاظت والا قول لیا ہے ،اور کچھ ایسے ہیں ،جنہوں نے الفاظ اور معانی دونوں میں اس کی حفاظت کو تسلیم نہیں کیا ہے۔
۴۔عصر حاضر کے مشہور شیعہ عالم اپنی تفسیر ’’آلاء الرحمن فی تفسیر القرآن ‘‘ کے مقدمے میں عقیدہ تحریف سے متعلق لکھتے ہیں :

اختلفوا فی وقوع الزیادۃ والنقصان فیہ ،اوالصحیح ان القرآن العظیم محفوظ عن ذلک (۱۵)

ترجمہ:علمائے شیعہ کا قرآن پاک میں کمی بیشی کے بارے میں اختلاف ہے ،صحیح قول یہ ہے کہ قرآن پاک تبدیلی سے محفوظ ہے۔
۵۔عصر حاضر میں عدم تحریف کے سب سے بڑے وکیل اور مشہور شیعہ عالم سید ابو القاسم الخولی اپنی تفسیر ’’البیان فی تفسیر القرآن‘‘ میں عقیدہ تحریف پر مفصل بحث کر کے آخر میں لکھتے ہیں :

وجملۃ القول ان المشہور بین علماء الشیعہ و محقیقیھم،بل المتسالم علیہم بینہم،ھو القول بعدم التحریف،نعم ذہب جماعۃمن المحدثین من الشیعہ و جمع من علماء اہل السنۃ الی وقوع التحریف(۱۶)
صفحہ 16 از 29