عقیدہ امامت و خلافت کی حقیقت اور رافضی دلائل کا رد - سنی…

عقیدہ امامت و خلافت کی حقیقت اور رافضی دلائل کا رد

  جعفر صادق

صفحہ 9 از 10

شیعہ حضرات کااس حدیث سے اپنے مزعومہ ائمہ مراد لینا کسی طرح درست نہیں اس لیے کہ ائمہ اہل السنت نے اس حدیث کے جو مطلب بیان کیے ہیں وہ شیعہ موقف کی واضح تردید کرتے ہیں اور اصول اور عقل کا تقاضا بھی یہی ہے کہ جو روایت کتب اہل السنت میں ہے س کا معنی بھی اہل السنت کا بیان کردہ ہی معتبر ہو گا نہ کہ شیعہ فرقہ کا، اس لیے اس حدیث کے چند مطلب پیش خدمت ہیں:

مطلب نمبر1:

حافظ ا بن حجر عسقلانی رحمہ اللہ( م 852 ھ) نے اس حدیث پر طویل گفتگو فرمائی ہے اور جس تشریح کو راجح قرار دیاہے وہ علامہ ابن الجوزی اور قاضی عیاض مالکی کی تشریح ہے، جو کہ پیش خدمت ہے:

وينتظم من مجموع ما ذكراه (یعنی ابن الجوزی و القاضی عیاض) أوجه: أرجحها الثالث من أوجه القاضي (و ہو ان المراد ان يكون الاثنا عشر في مدة عزة الخلافة وقوة الإسلام واستقامة أموره والاجتماع على من يقوم بالخلافة) لتأييده بقوله في بعض طرق الحديث الصحيحة كلهم يجتمع عليه الناس• وإيضاح ذلك ان المراد بالاجتماع انقيادهم لبيعته والذي وقع ان الناس اجتمعوا على أبي بكر ثم عمر ثم عثمان ثم علي إلى ان وقع أمر الحكمين في صفين فسمى معاوية يومئذ بالخلافة ثم اجتمع الناس على معاوية عند صلح الحسن ثم اجتمعوا على ولده يزيد ولم ينتظم للحسين أمر بل قتل قبل ذلك ثم لما مات يزيد وقع الاختلاف إلى ان اجتمعوا على عبد الملك بن مروان بعد قتل بن الزبير ثم اجتمعوا على أولاده الأربعة الوليد ثم سليمان ثم يزيد ثم هشام …… فهؤلاء سبعة بعد الخلفاء الراشدين والثاني عشر هو الوليد بن يزيد بن عبد الملك اجتمع الناس عليه لما مات عمه هشام…… وانتشرت الفتن وتغيرت الأحوال من يومئذ ولم يتفق ان يجتمع الناس على خليفة بعد ذلك لأن يزيد بن الوليد الذي قام على بن عمه الوليد بن يزيد لم تطل مدته بل ثار عليه قبل ان يموت بن عم أبيه مروان بن محمد بن مروان ولما مات يزيد ولى أخوه إبراهيم فغلبه مروان ثم ثار على مروان بنو العباس إلى ان قتل ثم كان أول خلفاء بني العباس أبو العباس السفاح ولم تطل مدته مع كثرة من ثار عليه…… وانفرط الأمر في جميع أقطار الأرض إلى ان لم يبق من الخلافة الا الاسم في بعض البلاد…… ومن نظر في أخبارهم عرف صحة ذلك•

(فتح الباری شرح صحیح البخاری: ج13 ص263)

ترجمہ: ابن الجوزی اور قاضی عیاض نے جو کچھ ذکر کیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ انہوں نے اس حدیث کی چند توجیہات کی ہیں جن میں سے تیسری توجیح راجح ہے کہ ”بارہ سےمراد وہ اربابِ خلافت ہیں جو اس دور میں ہوں گے جس میں خلافت کی شان وشوکت ، اسلام کی قوت، اسلام کے امور کی طاقت عروج پر ہوگی اور لوگ ان خلفاء پر متفق اور مجتمع ہوں گے“ اس مطلب کی تائید بعض طرق سے بھی ہوتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کلھم یجتمع علیہ الناس“ [ کہ ان خلفاء پر لوگ متفق اور مجتمع بھی ہوں گے] لوگوں کے متفق اور مجتمع ہونے کا مطلب یہ ہے کہ سارے لوگ ان بارہ کی بیعت کے لیے متفق ہوں گے۔ جو کچھ اتفاق اس بارے میں پیش آیا وہ یہ ہے کہ لوگ پہلے پہل حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت پر متفق ہوئے ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت پر متفق ہوئے ، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت پر متفق ہوئے ، پھر حضر ت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی خلافت پر متفق ہوئے یہاں تک کہ واقعہ صفین میں حکم مقرر کرنے کا معاملہ پیش آیا جسے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے خلافت کا نام دیا۔ پھر لوگ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت پر متفق ہوئے جب حضرت حسن بن علی کی نے دستبرداری کر کے صلح کرا دی تھی۔ پھر لوگ حضرت معاویہ کے بیٹے یزید کی خلافت پر متفق ہوئے۔ [بقول ابن الجوزی حدیث کی یہ پیشنگوئی استقامت سلطنت سے متعلق تھی باعتبار مدح خلیفہ کے نہیں تھی۔ بحوالہ كشف المشكل من حديث الصحيحين لابن الجوزی: ج1 ص289، لہذا اس سے یزید کی مدح و تعریف لازم نہیں آتی۔ از ناقل] حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ پر اتفاق ہو نہیں پایا تھا کہ آپ شہید ہوگئے۔ جب یزید کی وفات ہوئی تو خلافت کے معاملے میں اختلاف پڑ گیا یہاں تک کہ حضرت عبداللہ بن زبیر کی شہادت کے بعد عبد الملک بن مروان کی خلافت پر لوگ متفق ہوگئے۔ عبد الملک بن مروان کی وفات کے بعد ان کے چار بیٹوں ولید ، سلیمان ، یزید اور ہشام کی خلافت پر اتفاق پایا گیا، تو خلفاء راشدین کی بعد یہ سات حضرات ہیں۔ بارہواں خلیفہ ولید بن یزید بن عبدالملک ہے اس پر لوگوں کا اتفاق اس وقت ہوا تھا جب اس کا چچا ہشام بن عبدالملک فوت ہو ا تھا (تو لوگوں نے متفقہ طور پر ولید بن یزید بن عبدالملک کو خلیفہ نامزد کر دیا) اس کی وفات کے بعد سے اب تک فتنوں کا دور دورہ رہا اور حالات ابتر رہے۔ اس کے بعد خلیفہ کی نامزدگی پر کبھی (مجموعی) اتفاق نہیں پایا گیا۔ اس لیے کہ یزید بن ولید جو اپنے چچا ولید بن یزید پر قابض ہوا ، کی مدت حکومت زیادہ دیر نہ رہی بلکہ اس کےمرنے سے قبل اس کے باپ کا چچا زاد بھائی مروان بن محمد بن مروان اس پر مسلط ہوا۔ جب یزید فوت ہوا تو اس کا بھائی ابراہیم تخت نشین ہوا۔ جس پر مروان (مروان الحمار ) غالب ہوا پھر مروان الحمار پر بنو العباس حملہ آور ہوتے رہے یہاں کہ وہ قتل ہوگیا۔ بنو عباس کے پہلا خلیفہ ابو العباس السفاح تھا ، وہ بھی زیادہ مدت نہ ٹھہر سکا کیونکہ اس پر بھی فتنوں کا سیلاب امڈ پڑا اور معاملات ایسے چلتے رہے کہ صرف چند شہروں میں خلافت برائے نام رہ گئی ( اس کی حکومت کا استحکام اور اتفاقِ عوام ویسا نہ رہا جیسا کہ بنی عبدالملک بن مروان کے ادوار میں رہا) تو جو شخص ان ادوار کے حالات میں غور کرے تو اس پر بخوبی واضح ہو گا کہ یہ بارہ خلفاء کے تعین کے بارے میں یہ قول صحیح ہے۔

اس راجح تشریح سے واضح ہوا کہ بارہ خلفاء سے مراد وہ نہیں ہیں جن کے شیعہ قائل ہیں، لہذا شیعہ حضرات کا اس حدیث کو اپنے موقف پر دلیل سمجھنا سوائے بے خبری کے اور کچھ نہیں۔

مطلب نمبر2:

مفتی محمد تقی عثمانی حفظہ اللہ لکھتے ہیں:

ان عدد الاثنی عشر مبنی علی الاقل و لا ینافی ان یکون الخلفاء اکثر منہ•

(تکملہ فتح الملہم للعلامۃ تقی العثمانی: ج3 ص285)

صفحہ 9 از 10