عقیدہ امامت و خلافت کی حقیقت اور رافضی دلائل کا رد - سنی…

عقیدہ امامت و خلافت کی حقیقت اور رافضی دلائل کا رد

  جعفر صادق

صفحہ 8 از 10

(جامع الترمذی: باب مناقب علي بن أبي طالب رضي الله عنه)

ان مجموعہ روایات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مختلف حضرات خصوصاً جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ سفرِ یمن میں شریک تھے، ان کو حضرت علی کی طرف کچھ بد گمانی یا کدورت پیدا ہوگئی تھی، چونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا شمار کبار صحابہ اور السابقون الاولون میں ہے اور مزید یہ کہ آئندہ چل کر اپنے وقت میں امت کی قیادت و امامت کے فرائض بھی آپ نے سر انجام دینے ہیں اس لیے ضروری تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی کی براءت ظاہر کریں بلکہ امت کو یہ حکم بھی دیں کہ وہ حضرت علی کے ساتھ محبت وعقیدت کا تعلق رکھیں۔

چوتھی بات:

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ غدیر خم میں کیا ارشاد فرمایا؟ مختلف روایات اس بارے میں ملتی ہیں۔ ان میں مسند احمد بن حنبل کی روایت تقریباً تمام روایات کی جامع ہے، ملاحظہ ہو:

عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَنَزَلْنَا بِغَدِيرِ خُمٍّ فَنُودِيَ فِينَا الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ وَكُسِحَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ شَجَرَتَيْنِ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَأَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَقَالَ أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ قَالُوا بَلَى قَالَ أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ قَالُوا بَلَى قَالَ فَأَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ فَقَالَ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ قَالَ فَلَقِيَهُ عُمَرُ بَعْدَ ذَلِكَ فَقَالَ هَنِيئًا يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ أَصْبَحْتَ وَأَمْسَيْتَ مَوْلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ.

(مسند احمد: رقم الحدیث 18479)

خلاصہ کلام:

اہل تشیع کا اس روایت سے امامت اور خلافت علی بلا فصل پر استدلال باطل ہے اس لیے کہ:

[1]: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت اور موالاۃ کا اظہار محض اس لیے تھا کہ لوگوں کے دلوں میں ان کے بارے میں کوئی رنجش باقی نہ رہے، خلافت بلا فصل اور امامت کا اس میں دور دور کا تذکرہ نہیں۔

[2]: کتب اہل السنت میں جہاں حدیث غدیر خم موجود ہے وہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے واضح اشارات بھی ہیں جن میں خلافت صدیق اکبر کا ذکر ہے یا خلفاء راشدین کی ترتیب کا ذکر ہے (گو اشارۃً ہی سہی) جس کا مطلب سوائے اس کے اور کیا ہے کہ حدیثِ غدیر خم ایک وقتی ضرورت کے پیش نظر وارد ہوئی نہ کہ مستقلاً اصول امامت یا خلافت کے لیے۔

[3]: اگر یہ حدیث مسئلہ امامت یا حضرت علی کے خلیفہ بلا فصل کے متعلق ہوتی تو اس کا محل اور مقام حجۃ الوداع کا اجتماع تھا جہاں قرب و بعد تمام جگہوں کے مسلمان جمع تھے جو ایک عالمی اجتماع تھا، جس کا مقصد ایک عالمی نظریہ امت کو دینا تھا لیکن یہ حدیث خم کے تالاب کے پاس بیان ہوئی ہے جو اس بات کی یقینی دلیل ہے کہ اس سے مقصود آفاقی اور اجتماعی فیصلہ کا بیان کرنا مقصود نہیں تھا، بلکہ ایک وقتی ضرورت کا بیان کرنا تھا۔

دلیل نمبر5:

بعض شیعہ ویب سائٹس پر کتب اہل السنت سے امامت کا ثبوت کے عنوانات سے صحیحین کی روایات کو مستدل بنایا گیا ہے، جو ان الفاظ میں ہے۔

”ہم صحیحین سے اس بارے میں نقل شدہ روایات پیش کر نے پر اکتفا ء کرتے ہیں:

عن عبد الملک؛ سمعت جابر بن سمرة؛ قال: سمعت النبی(ص)یقول: یکون اثنیٰ عشرامیرا، فقال کلمة،۔ لم اسمعھا،فقال ابی: انہ قال: کلھم من قریش•

[صحیح بخاری ج۹، کتاب الاحکام، باب(۵۲)”استخلاف“ حدیث۶۷۹۶۔ صحیح مسلم ج۶، کتاب الامارة، باب(۱۱)” الناس تبع القریش و الخلافة فی قریش“حدیث ۱۸۲۱]

مسلم نے بھی اس حدیث کو آٹھ سندوں کے ساتھ اپنی کتاب میں نقل کیا ہے اور ا ن میں سے ایک حدیث میں اس طرح آ یا ہے:

جابر بن سمرة؛ قال:انطلقتُ الی رسول(ص) اللّٰہ ومعی ابی، فسمعتہ، یقول: لایَزَالُ ہذَا الدین عَزِیزاً مَنِیعاً اِلیٰ اِثْنیٰ عَشَرَ خلیفة،ً قال کلمة ،صَمَّنِیْہَا الناس،ُ فقلتُ لابی ما قال؟ قال :کلھم من قریش•

[صحیح مسلم ج ۶ ،کتاب الامارہ ،باب۱حدیث۱۸۲۱۔(کتاب الامارة کی حدیث نمبر۹)]

اس حدیث کومختلف مضامین کے ساتھ اہل سنت کی اہم کتابوں میں کثرت کے ساتھ نقل کیا گیا ہے اور یہ حدیث مسلمانوں کے دیگر فرقوں کے بطلان اور مذہب شیعہ کے حق ہونے پر ایک محکم و مضبوط دلیل ہے، اس لئے کہ اس حدیث کا مضمون مذہب شیعہ کے علاوہ کسی اور فرقہ ٴ اسلامی کے رہنماؤں سے منطبق نہیں ہوتا،کیونکہ اہل سنت خلفائے راشدین (جو چار ہیں ) کے قائل ہیں ، یا پھر امام حسن مجتبی (ع) کی خلافت کو ملا دیں توپانچ ہوتے ہیں ، لیکن حدیث میں رسول(ص) نے بارہ فرمائے ہیں ، لہٰذا ان کے مذہب سے یہ حدیث منطبق نہیں ہوتی۔۔۔۔ لہٰذا صرف شیعہ اثنا عشریہ کے خلفاء کی تعداد سے منطبق ہوتی ہے، ان میں سر فہرست مولائے متقیان حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام اور آخر حضرت مھدی حجة ابن الحسن العسکری ارواحنا لہ الفداء ہیں۔ “

الجواب :

یہ روایت مختلف الفاظ کے ساتھ کتب اہل السنت میں آئی ہے، جن میں سے چند کتب کے الفاظ پیش ہیں تاکہ اس روایت کا مطلب واضح ہو:

صحیح مسلم(حدیث نمبر1821) میں یہ الفاظ ہیں:

لا يزال أمر الناس ماضيا ما وليهم اثنا عشر رجلا•

کہ جب تک بارہ خلفاء ہوں گے لوگوں کا معاملہ چلتا رہے گا۔

سنن ابی داؤد(حدیث نمبر4282) میں ہے:

لا يزال هذا الدين عزيزا إلى اثني عشر خليفة•

کہ یہ دین بارہ خلیفہ کے آنے تک غالب رہے گا۔

صحیح بخاری (حدیث نمبر7222) میں یہ الفاظ ہیں:

يَكُونُ اثْنَا عَشَرَ أَمِيرًا••• كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ•

(کہ بارہ امیر ہوں گے، سب کے سب قریشی ہوں گے۔)

اس حدیث کا معنی و مطلب:

صفحہ 8 از 10