عقیدہ امامت و خلافت کی حقیقت اور رافضی دلائل کا رد - سنی…

عقیدہ امامت و خلافت کی حقیقت اور رافضی دلائل کا رد

  جعفر صادق

صفحہ 6 از 10

کہ شیعوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ مذکورہ آیت (الیوم اکملت لکم دینکم) غدیر خم پر اس وقت نازل ہوئی جب نبی علیہ السلام نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے فرمایا:” من کنت مولاہ فعلی مولاہ“ پھر جب یہ آیت نازل ہوگئی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”اللہ اکبر علی اکمال الدین واتمام النعمۃ ورضا الرب برسالتی وولایۃ علی کرم اللہ وجہہ بعدی“

یہ روایت شیعہ افتراءات کا ایک نمونہ ہے اور سند کے علاوہ اس روایت کے رکیک الفاظ بھی خود اس کے من گھڑت ہونے پر گواہ ہیں۔

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے دو شیعہ روایتیں نقل کر کے فرمایا:

ولا يصح هذا ولا هذا، بل الصواب الذي لا شك فيه ولا مرية: أنها أنزلت يوم عرفة، وكان يوم جمعة، كما روى ذلك أمير المؤمنين عمر بن الخطاب، وعلي بن أبي طالب، وأول ملوك الإسلام معاوية بن أبي سفيان، وترجمان القرآن عبد الله بن عباس، وسَمُرَة بن جندب، رضي الله عنهم، وأرسله [عامر] الشعبي، وقتادة بن دعامة، وشَهْر بن حَوْشَب، وغير واحد من الأئمة والعلماء.

(تفسیر ابن کثیر: ج3 ص26 تحت ھذہ الآیۃ)

ترجمہ: نہ یہ روایت صحیح ہے نہ وہ بلکہ حق بات جس میں ادنیٰ شک و شبہ کی گنجائش نہیں وہ یہ ہے کہ یہ آیت عرفہ 9 ذی الحجہ کو جمعہ کے دن نازل ہوئی جیسا کہ امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ نیز امام شعبی، امام قتادہ ،امام شہر بن حوشب اور دیگر ائمہ اور علماء کا یہی قول ہے۔

علامہ فخر الدین رازی رحمہ اللہ نے اس آیت سے شیعہ کے استدلال پر بہترین رد فرمایا، لکھتے ہیں:

المسألة الثالثة : قال أصحابنا : هذه الآية دالة على بطلان قول الرافضة ، وذلك لأنه تعالى بيّن أن الذين كفروا يئسوا من تبديل الدين ، وأكد ذلك بقوله {فَلا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ } فلو كانت إماة علي بن أبي طالب رضي الله عنه منصوصاً عليها من قبل الله تعالى وقبل رسوله صلى الله عليه وسلّم نصاً واجب الطاعة لكان من أراد إخفاءه وتغييره آيساً من ذلك بمقتضى هذه الآية ، فكان يلزم أن لا يقدر أحد من الصحابة على إنكار ذلك النص وعلى تغييره وإخفائه ، ولما لم يكن الأمر كذلك ، بل لم يجر لهذا النص ذكر ، ولا ظهر منه خبر ولا أثر ، علمنا أن ادعاء هذا النص كذب ، وأن علي بن أبي طالب رضي الله عنه ما كان منصوصاً عليه بالإمامة.

(التفسیر الکبیر للرازی: تحت ہذہ الآیۃ)

ترجمہ: ہمارے علماء نے فرمایا کہ یہ آیت ”الیوم اکملت لکم دینکم“ روافض کے قول کے بطلان پر دلالت کرتی ہے، اس لیے کہ اللہ نے اس آیت کی ابتداء میں فرمایا ہے ”اَلْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ دِينِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ“ (آج کے دن کافر ناامید ہوگئے تمہارےدین سے، سو ان سے مت ڈرو اور مجھ سے ڈرو) جس نے واضح کردیا کہ کافر دین میں تبدیلی سے مایوس ہوگئے ہیں اور یہ بھی فرمادیا کہ اب ان سے مت ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو۔ اگر حضرت علی بن ابی طالب کی امامت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف سے منصوص ہوتی یعنی نص واجب الطاعۃ ہوتی تو اسے چھپانے اور اسے تبدیل کرنے والے کو اس آیت کے مطابق نا امید ہوجانا چاہیے تھا یعنی صحابہ میں سے کوئی بھی اس نص کے انکار، اس کی تبدیلی یا اس کے چھپانے پر قادر نہ ہوتا، اور جب ان میں سے کوئی بات پیش نہ آئی بلکہ اس نص امامت کا ذکر ہوا نہ اس کی خبر ظاہر ہوئی اور نہ اس کی کوئی روایت آئی تو ہمیں علم ہوگیا کہ کہ اس نص کا دعویٰ محض کذب ہے اور یہ کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ یقیناً منصوص بالامامت نہیں تھے۔

دلیل نمبر4:

شیعہ حضرات نے اپنے دعوی پر ایک حدیث یہ بھی پیش کرتے ہیں:

من کنت مولاہ فعلی مولاہ .

کہ جس کا میں مولیٰ ہوں اس کا علی مولا ہے۔

شیعہ کہتے ہیں کہ یہ روایت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت بلا فصل پر نص ہے اور عقیدہ امامت کی بنیاد ہے۔ ( اسی روایت کی وجہ سے یہ لوگ قرآنی آیات میں تاویلات بلکہ تحریفات کر گزرتے ہیں)

الجواب:

اس حدیث کے متعلق چند بنیادی باتیں بیان کی جاتی ہیں تاکہ اصل مفہوم واضح ہو اور شیعہ استدلال کی قلعی کھل سکے۔

پہلی بات:

روایت کی اسنادی حیثیت

یہ حدیث متعدد طرق سے مروی ہے ، بعض صحیح اور بعض حسن درجہ کے ہیں۔

1: حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

واما حدیث من کنت مولاہ فعلی مولاہ فقد اخرجہ الترمذی والنسائی وھو کثیر الطرق جدا وقد استوعبہا ابن عقدۃ فی کتاب مفرد و کثیر من اسانیدہا صحاح و حسان.

(فتح الباری: ج7س74)

2: حافظ ابن حجر مکی الہیثمی لکھتے ہیں:

وبیانہ انہ حدیث صحیح لا مریۃ فیہ وقد اخرجہ جماعۃ کالترمذی والنسائی و احمد وطرقہ کثیرۃ جدا.

(الصواعق المحرقہ ص42)

دوسری بات:

خطبہ غدیر کا وقت اور موقع محل

فتحِ مکہ کے بعد لوگ جوق در جوق دین اسلام میں داخل ہونا شروع ہوئے (کما قال تعالیٰ: ورایت الناس یدخلون فی دین اللہ افواجاً) دین اسلام کی تکمیل ہورہی تھی یہاں تک کہ حجۃ الوداع جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری اور اہم سفر تھا، میں 9ذی الحجہ کو آیت ”الیوم اکملت لکم دینکم الخ“ نازل ہوئی، اس سفر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دینِ اسلام کے بنیادی اصولوں، امت کو پیش آنے والی گمراہیوں سے بچانے والی نصیحتوں اور ارشادات سے نوازا تاکہ امت باہمی اختلافات سے محفوظ رہ کر صراط مستقیم پر گامزن رہے۔

حجۃ الوداع سے واپسی پر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان ”حجفہ“ کے قریب ایک تالاب کے کنارے درختوں کے سائے میں آپ صلی علیہ وسلم نے پڑاؤ ڈالا، یہ جگہ ”وادی خم“ اور ”غدیر خم“ کے نام سے معروف ہے، نماز کا اعلان کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ظہر پڑھائی اور اس کے بعد خطبہ ارشاد فرمایا۔ یہی خطبہ ”حدیث غدیر“ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ اتوار کا دن تھا اور ذی الحجہ کی 18 تاریخ تھی۔

(السیرۃ النبویۃ لابن کثیر ج4ص414 )

تیسری بات:

خطبہ دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی 

صفحہ 6 از 10