عقیدہ امامت و خلافت کی حقیقت اور رافضی دلائل کا رد - سنی…

عقیدہ امامت و خلافت کی حقیقت اور رافضی دلائل کا رد

  جعفر صادق

صفحہ 5 از 10

ثانیاً…… غایۃ المرام جو ہاشم بن سلیمان البحرانی الشیعی کی کتاب ہے، اس میں جن چھ روایات کا ذکر ہے جو بزعم خمینی صاحب کتب اہل السنت سے لی گئی ہیں، ان تمام کا ماخذ جوینی کی کتاب”فرائد السمطین فی فضائل المرتضیٰ و البتول و السبطین“ ہے۔

(دیکھیے غایۃ المرام ص560، 572)

”جوینی“ نام کے کئی محدث و مؤلف ہیں:

1: الجويني: الإمام الكبير شيخ الإسلام أبو عمران موسى بن العباس الخراساني الجويني الحافظ مؤلف " المسند الصحيح " الذي خرجه كهيئة " صحيح " مسلم . توفي أبو عمران بجوين سنة ثلاث وعشرين وثلاث مئة

[سير أعلام النبلاء للذهبي الجزء15 صفحة235]

2: الجويني: شيخ الشافعية أبو محمد عبد الله بن يوسف بن عبد الله بن يوسف بن محمد بن حيويه الطائي السنبسي كذا نسبه الملك المؤيد الجويني والد إمام الحرمين.... توفي في ذي القعدة سنة ثمان وثلاثين وأربع مئة

[سير أعلام النبلاء للذهبي الجزء17 صفحة617]

3: الجويني: الإمام الكبير شيخ الشافعية إمام الحرمين أبو المعالي عبد الملك بن الإمام أبي محمد عبد الله بن يوسف بن عبد الله بن يوسف بن محمد بن حيويه الجويني ثم النيسابوري ضياء الدين الشافعي صاحب التصانيف . ولد في أول سنة تسع عشرة وأربع مئة.... توفي في الخامس والعشرين من ربيع الآخر سنة ثمان وسبعين وأربع مئة ودفن في داره ثم نقل بعد سنين إلى مقبرة الحسين فدفن بجنب والده.

[سير أعلام النبلاء للذهبي الجزء18 صفحة468]

یہ تین محدث ہیں جو اہل السنت کے جید ائمہ ہیں۔ ایک چوتھا آدمی بھی ”جوینی“ کے نام سے مشہور ہے۔ اس کے حالات یہ ہیں:

الجويني (644 - 722 ه‍ = 1246 - 1322 م) إبراهيم بن محمد بن المؤيد أبي بكر بن حمويه الجويني صدر الدين أبو المجامع... من أهل (جوين بها رحل في طلب الحديث فسمع بالعراق والشام والحجاز وتبريز وآمل طبرستان والقدس وكربلاء وقزوين وغيرها وتوفي بالعراق ... جعله الأمين العاملي من أعيان الشيعة ولقبه بالحموئي (نسبة إلى جده حمويه) وقال : له (فرائد السمطين في فضائل المرتضى والبتول والسبطين) في طهران في 160 ورقة وقال الذهبي : شيخ خراسان كان حاطب ليل - يعني في رواية الحديث - جمع أحاديث ثنائيات وثلاثيات ورباعيات من الأباطيل المكذوبة.

[الأعلام لخير الدين الزركلي الجزء1 صفحة63]

اس سے معلوم ہوا کہ ”فرائد السمطین“ کا مصنف شیعہ ہے، شیعہ حضرات کا اسے ”شیخ الاسلام“ کے لقب سے ذکر کرنا کذب صریح ہے اس لیے کہ ”شیخ الاسلام“ تو موسى بن العباس الجويني کا لقب ہے نہ کہ ابراہیم بن محمد۔ مزید یہ کہ اس کتاب کے مطالعہ اور دیگر حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص اثنی عشری شیعہ تھا، ثبوت پیش خدمت ہے:

1: یہ عصمت غیر انبیاء کا قائل تھا۔

(فرائد السمطين ج2 ص133)

2: مختلف دلائل دے کر بارہ اماموں کا اثبات کرتا ہے۔

(فرائد السمطين ج2 ص140 الباب الثاني والثلاثون)

3: یہ اس بات کا قائل تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے بارہ ائمہ کی وصیت کی تھی۔

(فرائد السمطين ج2 ص136 الباب الثاني والثلاثون)

4: یہ عليّ بن موسى المعروف امام رضا کی عصمت کا قائل تھا اور انہیں آٹھواں امام کہتا تھا۔

(فرائد السمطين ج2 ص187 الباب التاسع والثلاثون)

5: اس کے کئی شیخ اور استاذ رافضی تھے۔

(دیکھیے: فرائد السمطين ج2 ص73 الباب السادس عشر، الذريعة لآقا بزرگ الطهراني الجزء2 صفحة442، )

6: کتب شیعہ کو بطور حجت پیش کرتا ہے۔ مثلاً

نقل من كتاب كمال الدين

[فرائد السمطين ج2 صفحات 140 و 142 و 147]

نقل من كتاب عيون أخبار الرضا

[فرائد السمطين ج2 صفحات 174 و179 و188 و191 و192 و200 إلخ]

7: شیعوں کا اعتراف ہے کہ یہ انہی میں سے تھا۔

(دیکھیے: ذيل كشف الظنون لآقا بزرگ الطهراني ص70، الذريعة لآقا بزرگ الطهراني الجزء8 صفحة126، موسوعة مؤلفي الإمامية - مجمع الفكر الإسلامي الجزء1 صفحة379 وغیرہ)

یہ تمام امور اس کے شیعہ ہونے پر دال ہیں۔ لہٰذا اس کو سنی کہنا اور اس کی روایت کو سنیوں پر بطور حجت پیش کرنا انصاف کا خون کرنے کے مترادف ہے۔

خمینی صاحب نے سنیوں کے حوالے سے ثابت کرنا تھا کہ آیت کا شان نزول امامت علی کے بارے میں ہوا لیکن افسوس کہ یہ لوگ تو شیعہ نکلے۔

ثالثاً…… شیعی مفسرین کا یہ دعویٰ کہ یہ آیت حجۃ الوداع سے واپسی کے موقعہ پر غدیر خم پر 18ذی الحجہ کو خطبہ کے بعد نازل ہوئی، غلط ہے اس لیے کہ جمہور مفسرین کا اتفاق ہے کہ یہ آیت حجۃ الوداع کے موقع پر میدان عرفات میں نازل ہوئی یعنی 9ذی الحجہ بروز جمعہ شام کے وقت۔ خود حضرت علی رضی االلہ عنہ کا قول ہے کہ یہ آیت عرفہ کی شام (یعنی 9ذی الحجہ) کو نازل ہوئی۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں:

عن علي قال: نزلت هذه الآية على رسول الله صلى الله عليه وسلم، وهو قائم عَشِيَّةَ عرفة{ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ}

(تفسیر ابن کثیر: ج3 ص27)

امام بخاری حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مختلف نے روایات نقل کی ہیں کہ یہ آیت یوم عرفہ کو نازل ہوئی مثلاً:

عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَتْ الْيَهُودُ لِعُمَرَ إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ آيَةً لَوْ نَزَلَتْ فِينَا لَاتَّخَذْنَاهَا عِيدًا فَقَالَ عُمَرُ إِنِّي لَأَعْلَمُ حَيْثُ أُنْزِلَتْ وَأَيْنَ أُنْزِلَتْ وَأَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُنْزِلَتْ يَوْمَ عَرَفَةَ وَإِنَّا وَاللَّهِ بِعَرَفَةَ.

(صحیح البخاری: حدیث نمبر4606 تفسیر سورۃ المائدۃ)

رابعاً…… سنی مفسرین نے اس روایت کا صراحتا رد کیا ہے۔ لہٰذا اسے سنیوں کے سر تھوپنا غلط ہے:

قال الآلوسی البغدادی: وأخرج الشيعة عن أبى سعيد الخدرى أن هذه الآية نزلت بعد أن قال النبى صلى الله عليه و سلم لعلى كرم الله وجهه فى غدير خم : من كنت مولاه فعلى مولاه فلما نزلت قال عليه الصلاة و السلام : الله أكبر على إكمال الدين وإتمام النعمة ورضاء الرب برسالتى وولاية على كرم الله وجهه بعدى ولايخفى أن هذا من مفترياتهم وركاكة الخبر شاهدة على ذلك فى مبتدأ الأمر.

(روح المعانی: ج6 ص61)

صفحہ 5 از 10