عقیدہ امامت و خلافت کی حقیقت اور رافضی دلائل کا رد - سنی…

عقیدہ امامت و خلافت کی حقیقت اور رافضی دلائل کا رد

  جعفر صادق

صفحہ 4 از 10

قبل اس سے کہ اہلِ تشیع کے مزعومہ دلائل کو ذکر کر کے ان کا علمی تجزیہ کیا جائے، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان کی اس توجیہ کا جائزہ لیا جائے جو انہوں نے عقیدہ امامت کے صراحتاً قرآن میں نہ ہونے کے متعلق کی ہے۔ اہلِ تشیع کے نزدیک امامت عقائد دینیہ کا بنیادی جزء ہے جس پر ایمان لائے بغیر ایمان نامکمل ہے لیکن پورے قرآن مجید میں ایک آیت بھی ایسی نہیں جس میں امامت پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہو، یا امامت پر ایمان نہ رکھنے کو کفر و شرک قرار دیا گیا ہو، دور قریب کے معروف شیعی عالم خمینی صاحب نے اپنی کتاب ”کشف الاسرار“ میں امامت پر گفتگو کی ہے اور اس پر دلائل دینے کی کوشش کی ہے۔

قبل اس سے کہ اس کے دلائل کا جائزہ لیا جائے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ خمینی صاحب کی اس توجیہ کا بھی جائزہ لیا جائے جو انہوں نے ایک سوال کے جواب میں پیش کی ہے۔ اسی کتاب کے ص105 پر ایک سوال اٹھایا کہ:

چرا خدا چنیں اصل مہم را یک بارہم در قرآن صریح نہ گفت کہ ایں ہمہ نزاع و خونریزی برسر ایں کار پیدا نشود.

ترجمہ: کیوں اللہ تعالیٰ نے اس اہم اصل (بنیاد) کو قرآن میں صراحتاً ایک بار بھی بیان نہ فرمایا تاکہ اس سلسلہ میں جو اختلاف اور خونریزی ہوئی وہ پیدا ہی نہ ہوتی؟

اس سوال کے کئی جوابات جو خمینی صاحب نے دیے، ان میں سے ایک یہ ہے:

در صورتیکہ امام را در قرآن ثبت میکردند آنہائیکہ جز برائے دنیا و ریاست با اسلام وقرآن سروکار نداشتد و قرآن را وسیلہ اجراء نیات فاسدہ خود کردہ بودند آں آیات را از قرآن بر دارند و کتاب آسمانی را تحریف کنند.

(کشف الاسرار ص114)

ترجمہ: اس صورت میں کہ امام کا قرآن میں ذکر کردیا جاتا تو وہی لوگ جو دنیا طلبی کے سوا اسلام اور قرآن سے کوئی تعلق نہیں رکھتے تھے اور قرآن کو اپنی فاسد نیتوں کا ذریعہ بنا رکھا تھا، ان آیات کو جن میں امام کا ذکر ہوتا قرآن سے نکال دیتے اور آسمانی کتاب میں تحریف کردیتے۔

تبصرہ:

ایک طرف اہلِ تشیع کا دعویٰ ہے کہ امامت کی تعیین اللہ تعالیٰ پر واجب ہے، دوسری طرف بزعم شیعہ حضرات اللہ تعالیٰ مخلوق کی مخالفت کے ڈر سے اس عقیدہ کا صراحتاً ذکر نہیں کر رہے۔ اس سے تو خدا پر یہ الزام آرہا ہے (معاذ اللہ) کہ اللہ تعالیٰ اپنے واجب کی ادائیگی سے قاصر ہے۔

دلیل نمبر1:

خمینی صاحب نے امامت کے اثبات کے لیے اس آیت سے استدلال کیا ہے، لکھتے ہیں:

اینک بذکر بعضی از آیات کہ در موضوع امامت وارد شدہ می پر دازیم واز خرد کہ فرستادہ نزدیک خدا است داوری میخواہیم.

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ.

(کشف الاسرار ص137)

کہ ہم وہ آیات ذکر کرتے ہیں جو امامت کے موضوع پر نازل ہوئی ہیں اور عقل سے جو خدا کا قریب ترین فرستادہ ہے، انصاف چاہتے ہیں۔

خمینی صاحب کا کہنا ہے کہ ”اولی الامر“ سے بارہ ائمہ معصومین مراد ہیں۔

الجواب:

1: محض عقلی قیاسات سے مذہب کا عقیدہ ثابت نہیں ہوتا جب کہ قرآن میں اس کا کوئی ذکر نہ ہو۔ اس سے ہر شخص آیت پڑھ کر اپنا مزعومہ نظریہ قرآن سے ثابت کرنے کی جرأت کرے گا۔

2: پوری آیت کو ملاحظہ فرمائیں:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا.

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تنازع اور اختلاف کے وقت اللہ اور رسول کا فیصلہ حرفِ آخر سمجھا جائے گا نہ کہ اولی الامر کا، اگر اولی الامر سے ائمہ معصومین مراد ہوتے تو ان کی رائے کو چھوڑ کر قرآن و سنت کی طرف رجوع کرنے کا کیا معنیٰ؟

دلیل نمبر2:

خمینی صاحب نے عقیدہ امامت کے اثبات پر اس آیت سے بھی استدلال کیا ہے:

يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ.

(کشف الاسرار مترجم عربی ص149)

خمینی صاحب کا کہنا ہے کہ آیت میں جس چیز کے پہچانے کا ذکر ہے وہ عقیدہ امامت ہے۔

الجواب:

اس آیت سے استدلال باطل ہے اس لیے کہ:

1: آیت میں تبلیغ کا حکم مطلق ہے جس سے مراد شریعت ہے، اسے ایک جز کے ساتھ بغیر دلیل کے مقید کرنا باطل ہے، کیونکہ قاعدہ ہے:

”العبرۃ بعموم اللفظ لا بخصوص السبب“

2: آیت میں ”مَااُنْزِلَ“ کی تبلیغ کرنے کا حکم ہے، اور ”تبلیغ“ تصریح اور بیان کو کہا جاتا ہے۔

خمینی صاحب نے پہلے کہا کہ امامت کا ذکر اس لیے نہیں کیا گیا تاکہ فاسد نیتوں والے کہیں اسے قرآن سے حذف نہ کردیں، سوال یہ ہے کہ اگر”ما انزل“ سے مراد امامت ہے تو اسے اللہ نے خود مخفی رکھا ہے تو اس کی تبلیغ اور تصریح اور بیان کا حکم دینا سوائے تضاد کے اور کیا ہے؟ جب کہ قرآن تضادات سے پاک ہے۔

دلیل نمبر3:

خمینی صاحب لکھتے ہیں کہ ہم قرآنی آیات ذکر کر رہے ہیں جن کی تفسیر میں اہل السنت کے حوالہ جات سے ثابت کریں گے کہ یہ آیات امامت کے بارے میں نازل ہوئی ہیں:

اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِيْنًا.

(کشف الاسرار ص156 عربی مترجم )

اس آیت کے تحت خمینی صاحب لکھتے ہیں کہ ”غایۃ المرام“ میں باب سادس کے تحت چھ احادیث کتبِ اہلِ سنت سے ملتی ہیں جن میں یہ مضمون ہے کہ یہ آیت غدیر خم والے واقعہ کے دن نازل ہوئی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو امامت کے لیے چن لیا اور ان احادیث میں یہ بھی آیا ہے کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا :

اللہ اکبر علی اکمال الدین وتمام النعمۃ ورضا الرب برسالتی والولایۃ لعلی.

(کشف الاسرار ص156 عربی مترجم )

الجواب:

اولاً…… خمینی صاحب نے استدلال میں کتب اہل السنت کے حوالے کے ضمن میں ”غایۃ المرام“ کا حوالہ دیا جس سے موصوف کے استدلال کی ساری قلعی کھل جاتی ہے اس لیے کہ غایۃ المرام سنی عالم کی نہیں بلکہ شیعی عالم کی کتاب ہے جن کا کام علماء اہل السنت پر کذب و افتراء کے علاوہ کچھ نہیں۔

(حاشیہ کشف الاسرار ص156)

صفحہ 4 از 10