عقیدہ امامت و خلافت کی حقیقت اور رافضی دلائل کا رد - سنی…

عقیدہ امامت و خلافت کی حقیقت اور رافضی دلائل کا رد

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 10

1:امام پاک صاف پیداہوتا ہے 2:ناف برید ہ ہوتا ہے 3:مختون پیداہوتا ہے 4:پیداہوتے ہی زمین پر ہاتھ رکھ کر کلمہ پڑھتا ہے۔

ایک جگہ لکھا : وسایہ ندارد(حق الیقین ص42) کہ امام کا سایہ نہیں ہوتا۔

[۲]: عبداللہ شبر نے اپنی تصنیف ”حق الیقین فی معرفۃ اصول الدین“ میں امام کے شرائط و اوصاف کو ذکر کرتے ہوئے لکھا:

الثانی ان یکون افضل من جمیع امتہ من کل جھۃ. .. الثالث: کونہ اشجع الامۃ... السادس: ان یکون ازھد الناس واطوعہم للہ واقربہم منہ.

(حق الیقین ج1ص187، 188)

  امام میں اوصاف نبوت

[1]: امام منصوص من اللہ ہوتا ہے

سید عبداللہ شبر نے امام کے منصوص من اللہ ہونےکا ذکر ان الفاظ میں کیا :

والذی علیہ الفرقۃ المحقۃ والطائفۃ الحقۃ انہ یحب علی اللہ نصب الامام فی کل زمان.

(حق الیقین ص183)

[2]: امام معصوم ہوتا ہے

سید عبداللہ شبر نے امام کی شرائط میں سے پہلی شرط عصمت کی لگائی ہے:

الاول العصمۃ کما تقدم لانہ حافظ للشرع قائم بہ فحالہ کحال النبی صلی اللہ علیہ وسلم.

(حق الیقین ص187)

باقر مجلسی نے لکھا:

بداں کہ اجماع علماء امامیہ منعقد است بر آنکہ امام معصوم است از جمیع گناہان صغیرہ و کبیرہ از اول عمر تا آخر عمرخواہ عمدا وخواہ سہوا.

(حیوٰۃ القلوب ج5ص49)

[3]: امام مفترض الطاعۃ ہوتا ہے

کلینی نے اس کے متعلق مستقل باب قائم کیا ہے:

باب فرض طاعۃ الائمۃ.

(اصول کافی ج1ص241)

[4]:امام صاحبِ وحی ہوتا ہے

کلینی نے ایک باب قائم کیا ہے: ”باب الفرق بین الرسول والنبی المحدث“ اس کے تحت روایت نقل کی کہ رسول وہ ہوتا ہے جس کے پاس وحی لے کر جبرائیل امین تشریف لاتے ہیں، رسول جبرائیل کو دیکھتا بھی ہے اور اس کی بات کو سنتا بھی ہے اور نبی وہ ہوتاہے جو کبھی جبرائیل کو دیکھتا ہے کبھی صرف وحی سنتا ہے،

والامام ھو الذی یسمع الکلام ولا یری الشخص.

(اصول کافی ج1ص231)

[5]:امام کے پاس معجزات ہوتے ہیں

ملاباقر مجلسی نے امامت کی شرائط میں یہ شرط بھی بیان کی ہے:

آنکہ معجزہ ھاازاوظاھر شود کہ دیگران ازاوعاجز باشند.

(حق الیقین ص42)

[6]:امام کو احتلام نہیں ہوتا

(حق الیقین ص42)

[7]:امام کی آنکھ سوتی ہے دل جاگتا ہے

(حق الیقین ص42)

[8]: امام کے پاخانہ سے مشک کی خوشبو آتی ہے نیز اس کو زمین چھپالیتی ہے

(حق الیقین ص42)

ان عبارات سے ثابت ہوا کہ یہ لوگ اگر چہ علی الاعلان امام کو نبی نہیں کہتے لیکن در پردہ امام میں یہ اوصاف مان کر اس کو نبی کے برابر کھڑا کردیتے ہیں بلکہ ان کی بعض کتب سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ امام کو نبی کے برابر بلکہ اس سے بڑھ کر مانتے ہیں، مثلاً:

1: وحق ایں است کہ درکمالات وشرائط وصفات فرق میان پیغمبر وامام نیست.

(حیاۃ القلوب ج5ص18)

2: ان مرتبۃ الامامۃ کالنبوۃ۔۔۔ فکما لایجوز للخلق تعیین نبی فکذا لایجوز لھم تعیین امام.

(حق الیقین لعبد اللہ شبر: ص185)

3:مرتبہ امامت بالا تر از مرتبہ پیغمبر ایست.

(حیوٰۃ القلوب ج5 ص17)

  امام میں خدا کے اوصاف

1: باب ان الائمۃ علیھم السلام یعلمون علم ماکان ومایکون وانہ لایخفیٰ علیھم الشئی صلوات اللہ علیھم.

(اصول کافی ج1ص319)

2: باب ان الائمۃ علیھم السلام اذاشآءوا ان یعلموا علموا.

(اصول کافی ج1ص316)

3: باب ان الائمۃ علیھم السلام یعلمون متیٰ یموتون وانھم لایموتون الا باختیار منھم.

(اصول کافی ج1ص317)

4: باب ان الارض کلھا للامام علیہ السلام.

(اصول کافی ج1ص470)

5: کلینی نے حضرت امام جعفر صادق کی طرف نسبت کرکے لکھا:

اما علمت ان الدنیا والآ خرۃ للامام یضعھا حیث یشاء ویدفعھا الیٰ من یشاء.

(اصول کافی ج1ص472)

بارہویں امام کے خواص:

[۱]: امام غائب کا نام لینا جائز نہیں

کلینی نے اصول کافی میں باب قائم کیا: باب فی النہی عن الاسم اور اس کے تحت امام ابو الحسن علی العسکری کا قول نقل کیا کہ انہوں نے بارہویں امام کے متعلق حکم دیا:

لا یحل لکم ذکرہ باسمہ فقلت [ای داؤد بن قاسم الجعفری] فیکف نذکرہ؟فقال قولوا الحجۃ من آل محمد صلو ات اللہ علیہ وسلامہ.

(اصول کافی ج1ص393 کتاب الحجہ)

اس کے بعد کلینی نے امام جعفر صادق کا یہ قول نقل کیا:

صاحب ھذا الامر لایسمیہ باسمہ الا کافر

(اصول کافی ج1ص394)

[۲]: جب امام غائب آئے گا تو سب سے پہلے اس کی پیروی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کریں گے۔

محمد بن ابراہیم بن جعفر نعمانی نے لکھا:

عن ابی حمزۃ الثمانی قال سمعت ابا جعفر محمد بن علی علیہ السلام یقول لو قد خرج قائم آل محمد علیہم السلام... اول من یتبعہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم وعلی علیہ السلام الثانی.

(غیبت نعمانی المعروف کتاب الغیبۃ ص376 الباب الثالث عشر ماروی فی صفتہ وسیرتہ )

ملا باقر مجلسی نے اس بات کو یوں لکھا:

اول کسے کہ بیعت اور کند محمد باشد وبعد ازاں علی.

(حق الیقین ص 347)

[۳]: امام غائب جب ظاہر ہوگا تو بغیر گواہوں کے حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہما السلام کی شریعت کے مطابق فیصلہ کرے گا

کلینی نے اس پر مستقل باب قائم کر کے حضرت امام محمد باقر کی طرف منسوب کر کے یہ روایت لکھی ہے کہ انہوں نے فرمایا:

اذا قام قائم آل محمد علیہ السلام حکم بحکم داود وسلیمان لا یسئال بینۃ

(اصول کافی ج1 ص461)

[۴]: باقر مجلسی نے اپنے مہدی کی ایک عجیب علامت یہ بھی بیان کی ہے:

بدن برھنہ ای درپیش قرص آفتاب ظاھر خواھد شد .

یعنی مہدی جب آئے گا تو جسم برہنہ ہوگا۔

(حق الیقین ص 347)

دلائل اہل السنت علی ثبوت الخلافۃ

دلیل نمبر1:

وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ•

(سورۃ النور:55)

تفاسیر:

1: علامہ محمود آلوسی بغدادی فرماتے ہیں:

صفحہ 2 از 10