عقیدہ امامت و خلافت کی حقیقت اور رافضی دلائل کا رد - سنی…

عقیدہ امامت و خلافت کی حقیقت اور رافضی دلائل کا رد

  جعفر صادق

صفحہ 10 از 10

ترجمہ: خلفاء کی تعداد ”بارہ“ ہو یہ کم از کم عدد ہے بارہ سے زیادہ خلفاء ہونے کے منافی نہیں ہے۔

مطلب یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ”بارہ خلیفہ“ کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کی زینت اور طاقت ان خلفاء کے وجود تک رہے گی چاہے وہ 12 ہوں یازیادہ کیونکہ12 کہنے سے زائد کی نفی نہیں ہوتی۔ یہی بات علامہ عینی نے ان الفاظ میں لکھی ہے :

أنه لم يقل لا بلى إلا اثنا عشر وإنما قال يكون اثنا عشر فلا يمنع الزيادة عليه•

(عمدۃ القاری ج35ص328)

کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ نہیں فرمایا کہ ”صرف بارہ خلیفہ ہوں گے“ بلکہ فرمایا: ”بارہ ہوں گے“ (یعنی بارہ کے عدد پر منحصر نہیں کیا) اس سے پتا چلا کہ بارہ سے زائد بھی خلفاء ہو سکتے ہیں۔

خلاصہ کلام:

1: اس حدیث میں جن خلفاء کا ذکر ہے ان سے مراد وہ حضرات ہرگز مراد نہیں جن کے شیعہ قائل ہیں، اس لیے کہ اہل السنت و الجماعت (جن کی کتب میں یہ حدیث درج ہے) خود اس کی تشریح جن خلفاء سے کرتے ہیں وہی معتبر ہو گی نہ کہ شیعہ حضرات کی من چاہی تشریح، مزید یہ کہ دوسری توجیہہ کے مطابق تو یہ عدد حصر کے لیے ہے ہی نہیں تو ان سے حتمی طور پر بارہ مراد لینا کیسے درست ہو گا؟ البتہ اس دوسری توجیہہ کے مطابق اہل السنت والجماعت کے ہاں چونکہ ان بارہ مذکورہ حضرات کے علاوہ بھی خلفاء گزرے ہیں اس لیے ان کے ہاں ”بارہ“ کا عدد تکثیر کے لیے بھی ہو تب بھی ان کے خلفاء پر منطبق آتا ہے۔ لہذا شیعہ حضرات کا یہ کہنا ”ان (اہل السنۃ) کے مذہب سے یہ حدیث منطبق نہیں ہوتی“ باطل و مردود ہے۔

2: علماء اہل السنت و الجماعت نے ان کا مصداق جن خلفاء کو قرار دیا ہے ان کے نام ماقبل میں پیش کر دیے گئے ہیں۔

3: یہ حدیث ان خلفاء پر منطبق ہوتی ہے جن کے ہم اہل السنت و الجماعت قائل ہیں۔ تفصیل عرض کر دی گئی ہے۔


صفحہ 10 از 10