علم اور تعلیم و تربیت کی قدرت و صلاحیت - دفاعِ اہلِ سنت |…

علم اور تعلیم و تربیت کی قدرت و صلاحیت

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

ترجمہ: اور ان لوگوں سے دنیوی زندگی کی یہ مثال بھی بیان کر دو کہ وہ ایسی ہے جیسے ہم نے آسمان سے پانی برسایا، تو اس سے زمین کا سبزہ خوب گھنا ہو گیا، پھر وہ ایسا ریزہ ریزہ ہوا کہ اسے ہوائیں اڑا لے جاتی ہیں۔ اور اللہ ہر چیز پر مکمل قدرت رکھتا ہے۔ مال اور اولاد دنیوی زندگی کی زینت ہیں، اور جو نیکیاں پائیدار رہنے والی ہیں، وہ تمہارے رب کے نزدیک ثواب کے اعتبار سے بھی بہتر ہیں، اور امید وابستہ کرنے کے لیے بھی بہتر۔ 

خلیفہ ثالث سیدنا عثمانِ غنیؓ کا یہ خطبہ خلافت جن معانی و مفاہیم کے گرد گردش کر رہا ہے وہ اللہ رب العزت اور دنیا میں زہد کی طرف متوجہ ہونے پر لوگوں کو ابھارتا ہے، اور موقع و محل کے مناسب بھی یہی تھا، کیوں کہ اسلام روئے زمین میں پھیل چکا تھا، اور اسے غلبہ و قوت حاصل ہو چکی تھی، مختلف ممالک فتح ہو چکے تھے، اور دنیا ناز و نعم کے ساتھ مسلمانوں کے پاس سمٹ آئی تھی، لوگوں کے اندر دنیا کے سلسلہ میں مقابلہ کا جذبہ برپا ہو چکا تھا خاص کر ان لوگوں کے اندر جو صحابیت کا شرف حاصل نہ کر سکے تھے، لہٰذا آپؓ کا بیان و فرمان مقام کے بالکل موافق تھا۔

(الکفاء ۃ الإداریۃ فی السیاسۃ الشرعیۃ، القادری: صفحہ، 93)

حضرت عثمانِ غنیؓ نے رسول اللہﷺ‏ سے متعدد احادیث روایت کیں جن سے امت مستفید ہوئی۔ چنانچہ سیدنا ابو عبدالرحمٰن سلمیٰؓ وہ حدیث بیان کرتے ہیں جو انہوں نے سیدنا عثمانِ غنیؓ سے سن کر اس پر عمل کیا۔ سیدنا سعد بن عبیدؓ، سیدنا ابو عبدالرحمٰن سلمیٰؓ سے اور وہ حضرت عثمانِ غنیؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ‏ نے فرمایا:

خیرکم من تعلم القرآن و علمہ (البخاری: حدیث، 5028)

ترجمہ: تم میں بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔

اس حدیث کو سن کر حضرت ابو عبدالرحمٰن سلمیٰؓ نے حضرت عثمانِ غنیؓ کے دورِ خلافت میں قرآن پڑھانا شروع کیا یہاں تک کہ حجاج بن یوسف برسرِ اقتدار آیا۔

(سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے آغاز سے لے کر حجاج بن یوسف کے اختتامِ اقتدار تک تین ماہ کم بہتر (72) سال ہوتے ہیں، اور حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے اختتامِ خلافت سے لے کر حجاج بن یوسف کے آغازِ اقتدار تک 38 سال ہوتے ہیں، حافظ ابنِ حجر رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو عبدالرحمٰن سلمیٰؓ کے پڑھانے کے آغاز و اختتام کی تعیین معلوم نہیں۔ (فتح الباری: جلد، 8 صفحہ، 695مترجم)

سیدنا ابو عبدالرحمٰن سلمیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ھذا الذی اقعدنی مقعدی ھذا 

(یہاں اشارہ اس حدیث کی طرف ہے جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے قرآن کی تعلیم دینے میں لگ گیا تاکہ یہ فضیلت حاصل کر سکوں، اور اس کا بھی احتمال ہے کہ اشارہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف ہو۔ چنانچہ سیدنا ابو عوانہؓ کی روایت میں یہ الفاظ وارد ہیں: وھو الذی اجلسنی ھذا المجلسی ترجمہ: انہوں نے ہی مجھے اس مقام پر بٹھایا ہے۔ (فتح الباری: جلد، 8 صفحہ، 695 مترجم)

ترجمہ: اسی نے مجھے اس مقام پر بٹھایا ہے۔

اور شعبہ کی ایک روایت میں ہے کہ سیدنا ابو عبدالرحمٰن سلمیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

اس نے مجھے اس مقام پر بٹھایا، اور وہ لوگوں کو قرآن پڑھاتے تھے۔

(الخلافۃ الراشدۃ: د، یحییٰ الیحییٰ: صفحہ، 420، 421 دیکھیے: فتح الباری: جلد، 8 صفحہ، 695 مترجم)

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ موقع و محل کی مناسبت سے رسول اللہﷺ‏ کی احادیث مسلمانوں سے بیان کرتے رہتے تھے، آپؓ کی بیان کردہ چند احادیث یہ ہیں:


صفحہ 2 از 2