دلیل القرآن: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین…

دلیل القرآن: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین الصالحین (نیکوکار)

  نقیہ کاظمی

صفحہ 2 از 2
بعض دیگر اہلِ علم کی آراء:
بعض لوگوں کے نزدیک ان کی حیثیت ان منافقین کی طرح ہے جو حضورﷺ کے زمانے میں پائے جاتے تھے۔ اس کے باوجود کہ اللہ تعالیٰ کو ان کے کفر و نفاق کا علم تھا یا انہیں ان کے نفاق پر قائم رہنے دیا گیا۔
کچھ لوگوں کے نزدیک ان کی حیثیت ذمیوں جیسی ہے۔ جو لوگ یہ بات تسلیم نہیں کرتے انہوں نے منافقین اور اہل الذمہ کے درمیان یہ فرق کیا ہے کہ اگر ایک منافق کے نفاق کا علم ہو جائے تو ہم اسے اس پر برقرار رہنے نہیں دیں گے اور اس سے اسلام یا تلوار کے سوا اور کوئی بات قبول نہیں کریں گے، اس کے برعکس ذمیوں سے جزیہ لے کر انہیں ان کی حالت پر برقرار رکھا جاتا ہے جب کہ ایسے لوگوں سے جزیہ لینا جائز نہیں ہے جو تاویل کی بناء پر کفر میں مبتلا ہوں اور اپنی نسبت اسلام کی طرف کرتے ہوں انہیں جزیہ کے بغیر چھوڑنا بھی درست نہیں ہے۔ اس لیے اس بارے میں ان کا حکم یہ ہے کہ ہمیں ان میں سے کسی کے متعلق جب کفر کے اعتقاد کا علم ہو جائے گا تو اس پر اسے برقرار رہنے دیا جانا جائز نہیں ہوگا۔ بلکہ اس پر مرتدین کے احکامات جاری کیئے گے اس پر کافروں کے احکام جاری کرنے کے سلسلے میں اس امکان پر انحصار نہیں کیا جائے گا کہ ہو سکتا ہے کہ اس کا عقیدہ درست ہو اور اسے غلطی لگ گئی ہو بلکہ وہ اپنے مافی الضمیر کا اظہار کرتے ہوئے اگر ہمارے سامنے ایسے اعتقاد کا اظہار کرے گا جو اس کی تکفیر واجب کر دے تو اس صورت میں اس پر مرتدین کے احکام جاری کرنا جائز ہوگا یعنی اس سے یہ مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ اپنے اس غلط عقیدے سے توبہ کرے۔ ورنہ اسے قتل کردیا جائے گا واللہ اعلم۔
وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَـنُدۡخِلَـنَّهُمۡ فِى الصّٰلِحِيۡنَ ۞ 
(سورۃ العنکبوت: آیت، 9)
ترجمہ: اور جو لوگ ایمان لائے ہیں، اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ہم انہیں ضرور نیک لوگوں میں شامل کریں گے۔
 تشریح: نیک اہلِ ایمان کو صالحین کے گروہ میں شامل کرنے کا یہ وعدہ دنیا کے لیے بھی ہے اور آخرت کے لیے بھی۔ اس مژدہ جانفزا کے مفہوم کو بھی مکہ کے مذکورہ حالات کے پس منظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے جہاں اہلِ ایمان اپنے پیاروں سے کٹ رہے تھے والدین اپنے جگر گوشوں کو چھوڑنے پر مجبور تھے اولاد والدین کی شفقت و محبت سے محروم ہو رہی تھی اور بھائی بھائیوں سے جدا ہو رہے تھے۔
جیسے سردارِ قریش عتبہ بن ربیعہ کے بڑے بیٹے سیدنا حذیفہؓ ایمان لے آئے جب کہ چھوٹا بیٹا ولید کافر ہی رہا عتبہ اور اس کا بیٹا ولید غزوہِ بدر میں سب سے پہلے مارے جانے والوں میں سے تھے۔ 
اگر انسانی سطح پر دیکھا جائے تو سیدنا حذیفہؓ کے لیے یہ بہت کڑا امتحان تھا۔
بہرحال جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس آزمائش اور امتحان سے دو چار ہوئے انہوں نے غیر معمولی حوصلے اور استقامت کا مظاہرہ کیا۔ لیکن آخر تو وہ انسان تھے اندر سے ان کے دل زخمی تھے اور ان کے زخمی دلوں پر مرہم رکھنے کی ضرورت تھی۔
چنانچہ آیت زیرِ نظر کو اس سیاق و سباق میں پڑھا جائے تو اس کا مفہوم یوں ہوگا کہ اے میرے جاں نثار بندو اگر تم لوگ مجھ پر اور میرے رسول اللہﷺ پر ایمان لا کر اپنے والدین بھائی بہنوں اور عزیز رشتہ داروں سے کٹ چکے ہو تو رنجیدہ مت ہونا دوسری طرف ہم نے تمہارے لیے نبی رحمت اور اہلِ ایمان کے گروہ کی صورت میں نئی محبتوں اور لازوال رفاقتوں کا بندوبست کردیا ہے۔
ہمارے ہاں تمہارے لیے ایک نئی برادری تشکیل پا رہی ہے جس کی بنیاد ایک مضبوط نظریے پر رکھی گئی ہے اب تم لوگ اس نئی برادری کے رکن بن کر ہمارے برگزیدہ بندوں کے گروہ میں شامل ہوگئے ہو جہاں رحمۃٌ للعالمینﷺ آپ لوگوں کو اپنے سینے سے لگانے کے لیے منتظر ہیں اور جہاں سیدنا ابوبکرؓ اپنے ساتھیوں سمیت تم لوگوں پر اپنی محبت و شفقت کے جذبات نچھاور کرنے کو بے قرار ہیں۔
اس حوالے سے نبی اکرمﷺ کو بھی بار بار یاد دہانی کرائی جا رہی ہے۔ 
(سورة الحجر: آیت، 88 اور سورة الشعراء: آیت، 215) 
کہ مومنین کے لیے آپﷺ اپنے کندھوں کو جھکا کر رکھیے اور ان کے ساتھ محبت و رأفت کا معاملہ کیجیئے۔
دوسری طرف صالحین کے گروہ میں شمولیت کی اس خوشخبری کا تعلق آخرت سے بھی ہے جس کا واضح تر اظہار سورة النساء کی اس آیت میں نظر آتا ہے:
وَمَنۡ يُّطِعِ اللّٰهَ وَالرَّسُوۡلَ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الَّذِيۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيۡقِيۡنَ وَالشُّهَدَآءِ وَالصّٰلِحِيۡنَ‌ وَحَسُنَ اُولٰٓئِكَ رَفِيۡقًا ۞
(سورۃ النساء: آیت، 69)
ترجمہ: اور جو کوئی اطاعت کرے گا اللہ کی اور اس کے رسول ﷺ کی تو ایسے لوگوں کو معیت حاصل ہوگی ان لوگوں کی جن پر اللہ کا انعام ہوا یعنی انبیاء کرام علیہم السلام صدیقین شہداء اور صالحین۔ اور کیا ہی اچھے ہیں یہ لوگ رفاقت کے لیے۔
 اَلصَّالِحِیْنَ سے مراد ہیں انبیاء کرام علیہم السلام اولیاء شہداء یعنی ہم نیکوکار مؤمنوں کو انبیاء کرام علیہم السلام اولیاء وغیرہ کے ساتھ شامل کر دیں گے یا ان کا حشر ان لوگوں کے ساتھ کریں گے یا جنت میں ان کے ساتھ ان کو داخل کریں گے جنت میں سب ساتھ ہو جائیں گے۔
صلاح اور نیکی میں کمال مؤمنوں کے درجات کی انتہاء ہے اور انبیاء کرام علیہم السلام کی تمنا کا بھی یہ ہی آخری نقطہ ہے کیونکہ کمالِ صلاح کا معنیٰ یہ ہے کہ کسی طرح کا بگاڑ اور خرابی نہ ہو نہ عقیدہ میں نہ عمل میں نہ اخلاق و مشاغل زندگی میں۔

صفحہ 2 از 2