سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی پیشانی چومتے ہیں
علی محمد الصلابیایک آدمی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شکایت لے کر آیا، حضرت عمرؓ جب معاملہ کے تصفیہ کے لیے بیٹھے تو حضرت علیؓ سے کہا: اے ابو الحسن! اپنے حریف کے سامنے آؤ، حضرت علیؓ کا چہرہ غصہ سے بھر گیا، حضرت عمرؓ نے معاملے کا تصفیہ کیا، اور پھر حضرت علیؓ سے فرمایا: اے ابو الحسن! کیا آپ اس وجہ سے غصہ ہو گئے کہ میں نے آپ کو آپ کے حریف کے برابر کھڑا کیا؟ حضرت علیؓ نے فرمایا: نہیں، بلکہ اس لیے غصہ ہوں کہ آپ نے میرے اور میرے حریف کے درمیان انصاف نہیں کیا، آپ نے مجھ کو عزت دی اور مجھے میری کنیت سے یعنی ابوالحسن کہہ کر پکارا، جب کہ میرے حریف کو اس کی کنیت سے نہیں پکارا، یعنی اس کا نام لیا حضرت عمرؓ نے بڑھ کر حضرت علیؓ کی پیشانی چوم لی، اور کہا: اللہ مجھے اس زمین پر باقی نہ رکھے جس پر ابوالحسن نہ ہوں۔
(عمر بن الخطاب: صالح عبدالرحمن: صفحہ 79)