حدیثِ قرطاس تحقیق حدیث قلم دوات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حدیثِ قرطاس تحقیق حدیث قلم دوات

  سید احمد شاہ بخاری رحمۃاللہ

صفحہ 3 از 3

ناظرین کرام پہلے واضح کر دیا گیا ہے کہ چونکہ دوسری روایت میں ایسے کلمات شریفہ درج ہیں جن کے معنیٰ چھوڑنے کے ہیں اس لیے مذکورہ بالا روایت میں قُومُو عَنّی کے معنیٰ بھی ان کے مطابق کرنا ضروری ہے اس واسطے اوپر کی روایت  کے ترجمے میں راقم الحروف نے مجھے چھوڑ دو لکھا ہے اور حقیقت اس کی یہ ہے کہ  حاضرین مجلس نبوت میں دو راہیں ہو چکی تھی کچھ لوگوں کی رائے تھی کہ قلم دوات پیش کر دینی چاہیے اور کچھ لوگ اس حالت میں آپ کو تکلیف دینا گوارا نہ کرتے تھے اس لئے کہا کہ خدا کی کتاب کافی ہے یہ رائے حضرت عمر بن خطابؓ کی تھی اور چونکہ آنحضورﷺ کو یہ رائے حضرت عمرؓ کی پسند آ گئی تھی اس لیے دوبارہ قلم دوات آنے کے بارے میں ارشاد نہ فرمایا۔

کتب احادیث میں آیا ہے کہ آنحضرتﷺ کسی کو بلاتے تو عموماً تین دفعہ بلایا کرتے تھے اور کسی کو سلام دیتے تھے تو تین دفعہ سلام دیا کرتے تھے اور وعظ و نصیحت اور خطبوں میں ایک ایک بات کو تین تین دفعہ دہرایا کرتے تھے تاکہ لوگ خوب سمجھ لیں پھر آخر اس کی کوئی وجہ ہونی چاہیے کہ آپ نے قلم دوات کے بارے میں دوسری دفعہ ارشاد نہ فرمایا ظاہر ہے۔

حضرت عمر بن خطابؓ کی رائے پسند خاطر شریف ہوگئی، اس پسندیدگی کی دو وجہیں ہو سکتی ہیں ایک اجتہاد اور دوسرا وحی خداوندی۔

پہلا ارشاد قلم دوات لانے کے بارے میں اجتہاد پر مبنی تھا ناظرین مجلس کی دو رائے ملاحظہ فرمائیں تو اجتہاد میں تبدیلی واقع ہوگی اور عمر بن خطابؓ کی رائے کو پسند فرما لیا اور آنحضورﷺ آزاد تھے کسی کے ماتحت نہ تھے اگر آنحضورﷺ ان صحابہؓ کی رائے کو پسند فرما دیتے جو قلم دوات لے آنے پر اصرار کر رہے تھے تو بھی آپﷺ کو اختیار تھا مگر خدا کی قدرت آنحضورﷺ نے قلم دوات لے آنے والے پر اصرار کرنے والوں کی رائے کو پسند نہیں فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ مجھے چھوڑ دو میں اب قلم دوات منگوانے والوں کے حق میں نہیں ہوں۔

معلوم ہو گیا کہ قُومُوعنّی کا خطاب ان بزرگوں سے ہے جو قلم دوات لے آنے کے حق میں تھے یہ خطاب ان لوگوں سے نہیں ہو سکتا جو اس حالت میں آنحضرتﷺ کو تکلیف دینا گوارا نہ کرسکتے تھے۔ نفی کا تکرار تو عادت کے خلاف ہے تکرار تو اثبات میں واقع ہوتا ہے حضرت عمرؓ نے ایک دفعہ عرض کر دیا کہ ہم اس حالت مرض میں آنحضورﷺ کو تکلیف دینا مناسب نہیں سمجھتے اور اہل بیت میں سے بعض بزرگوں نے تائید بھی کر دی اب یہ  چیز تو تکرار کے قابل ہی نہیں اب تو صرف یہ صورت ہو سکتی ہے کہ حاضرینِ مجلسِ نبوت میں سے کوئی صاحب قلم دوات لانے کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں اور حضرت عمرؓ انہیں پکڑ لیتے ہیں، جانے نہیں دیتے کیا کوئی اہل علم ایسا ہے جو ہمیں یہ چیز کسی معتبر کتاب سے دکھلاوے کہ فلاں صاحب قلم دوات لینے کے لیے جا رہے  تھے اور حضرت عمرؓ نے انہیں پکڑ لیا اور جانے نہ دیا جہاں تک راقم الحروف کے مطالعے کا تعلق ہے یہ چیز  نہیں ملتی ہاں قلم دوات کے خواہشمندوں کی بات قابل تکرار ضرور ہے کیونکہ آنحضورﷺ خاموش ہیں اور یہ صاحب چاہتے ہیں کہ آنحضورﷺ دوبارہ ارشاد فرمائیں تو ہم قلم دوات حاضر کریں اس واسطے بار بار عرض کرتے ہیں کہ یا رسول اللہﷺ کیا ارشاد ہے؟ قلم دوات لائیں آخر آنحضورﷺ نے مہر خاموشی توڑ دی اور فرمایا اس بات کو چھوڑ دو؛ مجھے قلم دوات کی ضرورت نہیں رہی۔

اس کی وجہ  تبدیلی رائے اور تبدیلی اجتہاد تھی چنانچہ ہمارے علمائے اہلسنت نے تبدیلی اجتہاد کو واضح طور پر اپنی کتابوں میں ذکر کیا ہے۔ (فتح الباری: جلد 8 صفحہ 109)  (عمدۃالقاری: جلد 2 صفحہ 171)


صفحہ 3 از 3