حدیثِ قرطاس تحقیق حدیث قلم دوات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حدیثِ قرطاس تحقیق حدیث قلم دوات

  سید احمد شاہ بخاری رحمۃاللہ

صفحہ 2 از 3

ان علماء کرام نے ساتھ ساتھ یہ بھی تحریر کیا ہے کہ لفظ ھجر کے اوپر جو ہمزۂ استفہام ہے وہ انکار کے لیے ہے اور اس لفظ ھجر کے بولنے والے وہ بزرگ ہیں جنہوں نے قلم دوات کاغذ لے آنے کو ترجیح دی تھی اور ان بزرگوں کے انکار کی وجہ ان لوگوں کی جانب ہے جو آنحضورﷺ کو اس حالت میں تکلیف دینے کے حق میں نہیں تھے جن میں حضرت عمر بن الخطابؓ کا نامِ نامی سرفہرست ہے۔

تشریح اس کی یوں ہو گی کہ: اے قلم دوات کے لانے سے روکنے والو! تم قلم دوات کاغذ کیوں نہیں لانے دیتے؟ کیا حضورﷺ مریضوں کی سی بات فرما رہے ہیں ہرگز نہیں اگر آنحضورﷺ کے کلام کو مریض کا وہ کلام قرار دیا جائے جو کہ شدت مرض کی حالت میں سرزد ہو جاتا ہے تو بےشک قابل تعمیل نہ ہو سکے گا مگر واقعہ یوں نہیں ہے آپﷺ کی مبارک زبان تو حقیقت کی ترجمان ہے آپ کی زبان تو وحی الٰہی کی ترجمان ہے اس لیے آپ کا کلام بے محل  بے موقع ہرگز نہیں ہو سکتا پس یہی مناسب ہے کہ قلم دوات پیش کرو تاکہ آنحضورﷺ جو کچھ لکھوانا چاہتے ہیں لکھوا دیں۔

اب معلوم ہو گیا ہوگا کہ ھجر کہنے والے وہ بزرگ ہیں جو قلم دوات لانے کے حق میں تھے اور قلم دوات نہ لانے والوں کو الزام دے رہے ہیں  کہ جب تم مانتے ہو کے آنحضورﷺ سے ھجر ناممکن ہے تو پھر قلم دوات لانے میں پس و پیش کیوں کرتے ہو؟!

نہایت افسوس کا مقام ہے کہ شیعہ حضرات اس لفظ ھجر کو بلا کسی دلیل کے حضرت عمرؓ کی طرف منسوب کر رہے ہیں، حاشا و کلّا ھجر کی نسبت آنحضورﷺ کی طرف کسی نے  بھی  صحابہؓ میں سے  نہیں کی تھی صرف بات اتنی ہے کہ قلم دوات لانے کے حق میں جو صاحب تھے انہوں نے یہ لفظ بطور استفہام انکاری کہا تھا۔۔

بر افگن پردہ تا معلوم گردد

کہ یاراں دیگرے رامے پرستند

قاعدہ کلّیہ:

حدیث کے فہم اور اسکی معانی کی تحقیق کے لیے یہ قاعدہ ہے کہ اس کی تمام روایات کو جمع کر لیا جائے اور مختلف الفاظ میں سے جو لفظ عقل و نقل اور موقع محل کے مطابق ہو اسے اصل قرار دیا جائے اور دوسرے الفاظ کو روایت بالمعنٰی قرار دے کر اس کی طرف پھیرا جائے۔

قرطاس کی روایت مذکورہ میں آنحضورﷺ نے اختلاف اصوات کے موقع پر دعونی فرمایا تھا۔

یعنی مجھے چھوڑ دو اسی مضمون کو بعض راویوں نے ذَرُونِی کے فقرے سے ادا کیا اور اسی مضمون کو بعض راویوں نے قُومُو اَعنّی سے تعبیر کیا اسی لئے راقم الحروف نےقُومُو اَعنّی کا ترجمہ  مجھے چھوڑ دو کیا ہے باقی رہی یہ بات کہ قیام معنیٰ میں"ترک" کے بھی آتا ہے؟

سو اس کے لیے شرح حدیث نے لکھا ہے کہ قَامَ عَنِ الاَمرِ اِذَا  تَرَکَه محاورات عرب میں موجود ہے۔

فضائل قرآن میں ایک حدیث روایت کی گئی ہے جسے تمام ائمہ حدیث نے اپنی اپنی کتابوں میں درج کیا ہے:

اور نبی کریمﷺ نے فرمایا:

اقرأ القرآن ما استلفت علیہ قلوبکم فاذا اختلفتم فقومو عنه

ترجمہ: نبی کریمﷺ نے فرمایا قرآن پڑھا کرو جب تک کہ تمہارے دل اس پر اکٹھے رہیں پھر جبکہ تمہارے دل پراگندہ ہونے لگیں تو چھوڑ دو۔

مطلب حدیث مذکور کا یہ ہے کہ جب تمہارے دل قرآن پڑھنے میں خوشی اور اطمینان اور دلجمعی محسوس کریں تو پڑھتے رہو اور جب قرآن پڑھتے پڑھتے دل تنگ ہونے لگے اور خیالات متفرق ہونے لگیں تو ترک کر دو۔

اس حدیث میں وہی لفظ ہے جو حدیث قرطاس میں ہے پس کیوں نہ ترجمہ دونوں کا ایک طرح کیا جائے۔

صاحب صحیح حضرت امام محمد بن اسماعیل البخاریؒ نے اپنی کتاب کے صفحہ نمبر 1095 پر مذکورہ بالا دونوں حدیثوں کو جمع کیا ہے  اول حدیثِ قرآن کو درج کیا ہے اور پھر ساتھ ہی حدیثِ قرطاس  کو درج فرما دیا ہے آپ کے اس طریقہ کار سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ حدیثِ قرطاس کی تفسیر کر رہے ہیں اور آپ کے ادراک شریف میں قومُوعَنّیِ کے وہی معنیٰ ہے جو قُومُوا عنه کے ہیں۔

صاحب مجمع البحار نے اپنی کتاب مجمع جلد اول صفحہ 40 پر حدیث قرآن کی یوں تفسیر فرمائی ہے

یعنی اقرأوہ علیٰ نشاط منکم و خواطرکم مجموعۃ فاذا حصلت ملاله وتفرق القلوب فاترکوه فانّه اعظم من ان یقرأ من غیر حضور

ترجمہ: مراد حدیث کی یہ ہے کہ قرآن پڑھتے رہو دل کی خوشی سے در آنحالیکہ خیالات ایک جگہ پر جمع ہوں یہ جس وقت دل کی تنگی حاصل ہو جائے اور خیالات پریشان ہونے لگیں تو قرآن کو چھوڑ دو اس لیے وہ حضورِ قلب کے بغیر پڑھنے کے قابل نہیں ہے اور اس سے کہیں زیادہ بلند ہے اور اس کی شان بہت اونچی ہے۔

ناظرین کرام امید کرتا ہوں کہ مذکورہ تشریح کو اگر غور سے پڑھیں گے تو حدیث قرطاس کے معنیٰ دریافت کرنے میں کسی قسم کی دقت سے دوچار نہ ہوں گے اور مخالفینِ عمرؓ کے دلوں میں چونکہ بغض اور کینہ بھرا ہوا ہے اس لئے وہ صحیح معنیٰ بیان کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔

عن ابن عباس رضي الله عنہ قال لمّا حُضر النّبیّ صلی الله عليه وسلم  قال وفی البیت رجال فیھم عمر بن الخطاب قال النّبی صلی اللہ علیہ وسلم ھلُمّ اکتب لکم کتاباََ لن تضلّو بعده قال عمر رضی اللہ تعالی عنہ ان النّبیّ صلی اللہ علیہ وسلم غَلَبَه الْوَجَعُ وَعِنْدَکُمُ الْقُرْآنُ حَسْبُنَا کِتَابُ اﷲِ فَاخْتَلَفَ أَهلُ الْبَيْتِ وَاخْتَصَمُوا فَمِنْهمْ مَنْ يَقُولُ قَرِّبُوا يَکْتُبُ لَکُمْ رسول الله صلي الله عليه وسلم کِتَابًا لَن تَضِلُّوا بَعْدَه وَمِنْهمْ مَنْ يَقُولُ ما قال عمر فلمّا اکثرواللغظ والاختلاف عند النّبیّ الی اللہ علیہ وسلم قال قوموا عنی

ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہا آنحضورﷺ کی وفات قریب ہوگی تو فرمایا لے آؤ قلم دوات، تمہارے لئے ایسی چیز لکھ دوں جس کے بعد گمراہ نہ ہو سکو گے، اس  وقت گھر میں بہت مرد تھے جن میں عمر بن خطابؓ بھی تھے حضرت عمرؓ نے کہا کہ حضورﷺ پر بیماری کا غلبہ ہے اور تمہارے پاس قرآن موجود ہے پس ہمیں خدا کی کتاب کافی ہے اور اہل بیت نے اختلاف  کیا اور جھگڑنے لگے ان میں سے بعض وہ تھے جو حضرت عمرؓ کی تائید کرتے تھے پس جب کہ نبی کریمﷺ کے نزدیک آواز اور اختلاف زیادہ ہو گیا تو آپﷺ نے فرمایا کہ مجھے چھوڑ دو۔

( صحیح بخاری: جلد دوم صفحہ 1095)

صفحہ 2 از 3