حدیثِ قرطاس تحقیق حدیث قلم دوات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حدیثِ قرطاس تحقیق حدیث قلم دوات

  سید احمد شاہ بخاری رحمۃاللہ

صفحہ 1 از 3

حدیثِ قرطاس

تحقیق حدیث قلم دوات

یہ بات بہت مشہور کی گئی ہےکہ حضورﷺ نے مرضِ وفات میں کاغذ اور قلم دوات مانگے مگر حضرت عمرؓ نے پیش نہ کیے اور طرح طرح کی باتیں بنائیں۔

آئیے اس الزام کی کچھ تحقیق کرتے ہیں:

سمع ابن عباس یقول یوم الخمیس وما یوم الخمیس ثمّ بکی حتٰی بلّ دمعہ الحصا قلت یا ابن عبّاس وما یوم الخمیس۔۔۔ قال اشتدّ برسول اللّہ صلى اللّہ عليه واله وسلم وجعہُ فقال ایتونی بکتف اکتب لکم کتاباََ لا تضلّو بعدہُ ابداََ فتنازعوا ولا ینبغی عند نبّیِِ تنازعٌ فقالوا ماله اھجر استفھموہ فقال ذرونی الذی انا فیه خیرٌ مما تدعونی الیہ

(صیح بخاری: جلد اول صفحہ 449)

ترجمہ: سعید بن جبیرؓ نے عبداللہ بن عباسؓ سے سنا فرماتے تھے یوم خمیس بڑا ہی مصیبت کا دن تھا پھر رونے لگے یہاں تک کہ ان کے آنسوؤں سے سنگریزے تر ہو گئے تھے میں نے عرض کی کہ عباسؓ کے بیٹے! یوم خمیس کا حال سنائیے:

حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے فرمایا خمیس کے دن آنحضورﷺ کی بیماری شدت پکڑ گئی پس فرمایا لے آؤ میرے پاس ایک کاغذ لکھ دوں میں تمہارے لئے ایک کتاب جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہوگے، پس حاضرین میں جھگڑا پیدا ہو گیا اور پیغمبر کے یہاں جھگڑا کرنا مناسب نہیں ہے۔ پھر کہنے لگے آنحضورﷺ کیا کر رہے ہیں؟ کیا اس جہان کو چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں پوچھو تو سہی پھر آنحضورﷺ نے فرمایا کہ مجھے چھوڑو کہ میں جس خیال میں ہوں وہ اس سے بہت بہتر ہے جس کی طرف تم مجھے بلاتے ہو۔

اس روایت میں تنازع کی تفصیل نہیں ہے ایک دوسری روایت میں اس تنازعہ کی تفسیر موجود ہے۔

قال عمر رضی اللہ تعالی عنه انّ النّبیّ صلی اللہ علیه وسلم غلبه الوجع وعندکم القراٰنُ فحسبنا کتاب اللّه واختلف اھل البیت واختصمو فمنھم من یّقُول قرّبوا یکتب لکم رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم کتاباََ لّنْ تضلّو بعده ومنھم من یّقول ما قال عمر رضی اللہ تعالی عنہ فلمّا اکثروا اللغظ والاختلاف عند النبّیّ صلی اللہ علیہ وسلم قال قوموا عنّی

(بخاری: 1095 جلد 1)

حضرت عمرؓ نے کہا کہ نبی کریمﷺ پر درد اور بیماری کا غلبہ ہے اور تمہارے لئے قرآن موجود ہے پس ہمیں خدا کی کتاب کافی ہے اور اہل بیت میں اختلاف پیدا ہو گیا اور آپس میں جھگڑا کرنے لگے، بس ان میں سے بعض کہتے تھے کہ قلم دوات پیش کرو ،لکھ دیں گے تمہارے لئے خدا کے رسول ایسی کتاب جس کے بعد کبھی گمراہ نہ ہو سکو گے اور ان میں سے بعض وہی بات کہتے تھے جو کہ حضرت عمرﷺ نے کہی تھی پس جب خدا کے نبی کے پاس شور اور اختلاف زیادہ ہوا تو آپﷺ نے فرمایا مجھے چھوڑ دو۔

اس روایت میں لفظ ھَجَر موجود ہے ہم نے اس کا ترجمہ چھوڑنے کا کیا ہے جو کہ کتبِ لغت کے عین مطابق ہے۔ اس صورت میں اس لفظ کے قائل جو صاحب بھی قرار دیے جائیں، کسی قسم کے اعتراض کے محل نہیں بن سکتے۔ حالت مرض میں قلم دوات کا طلب کرنا اور کچھ وصیت لکھ دینے کے متعلق ارشاد فرمانا فراق اور جدائی کی اطلاع دیتے ہیں اس واسطے حاضرین نے کہا پوچھو تو کیا آنحضرتﷺ اس جہاں سے روانگی کی تیاری فرما رہے ہیں

جو لوگ ھَجَر کے معنیٰ بے ہوشی کے کلام سے کرتے ہیں وہ اگرچہ لغت کے اعتبار سے غلطی نہیں کرتے ( کیوں کہ ارباب  لغت میں یہ معنیٰ بھی تحریر کیے ہیں) مگر خوب ظاہر ہے کہ اس موقع پر وہ معنیٰ مناسب معلوم نہیں ہوتے اور جب آنحضورﷺ کے اس ارشاد سے حاضرین میں روانگی کا تصور پیدا ہو گیا تو بعض نے کہا قلم دوات لاؤ  تاکہ آخری وقت میں آنحضورﷺ جو کچھ لکھوانا چاہتے ہیں وہ لکھ لیا جائے اور حضرت عمرؓ نے آنحضورﷺ شدت مرض کا احساس کرتے ہوئے کہا کہ ایسے تکلیف دہ وقت میں آپ کو تکلیف دینا مناسب نہیں ہے ہمیں خدا کا فیصلہ کافی ہے تو اہل بیت میں سے کچھ لوگ حضرت عمرؓ کی بات کو پسند کر کے کہنے لگے کہ واقعی آنحضورﷺ کو تکلیف نہ دینا چاہیے اب جو لوگ قلم دوات لانے اور وصیت نامہ لکھوانے کے حق میں تھے وہ کثرت حرص کی وجہ سے اور زیادہ اشتیاق کے سبب سے آنحضرتﷺ  سے بار بار عرض کرنے لگے کہ ارشاد ہو تو ہم قلم دوات لے آئیں اس پر آنحضورﷺ نے فرمایا کہ مجھے چھوڑ دو  کہ میں اب جس خیال میں ہوں وہ اس سے بہتر ہے جس کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو۔

ظاہر ہے کہ یہ لوگ چاہتے تھے کے آنحضورﷺ  ہمیں حکم دیں کہ ہم قلم دوات اور کاغذ لے آئیں اور آنحضورﷺ کا ارادہ تبدیل ہو چکا تھا تھا آپﷺ کو تو حضرت عمرؓ کی رائے پسند آچکی تھی؛ اس لیے آپﷺ بار بار فرماتے ہیں کہ مجھے چھوڑ دو میں جس حال میں ہوں وہ اس سے بہت بہتر ہے جس کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو۔

ناظرین کرام کو معلوم ہونا چاہیے کہ بہت سے مواقع آنحضورﷺ کی زندگی میں ایسے آئے ہیں جہاں آپ نے حضرت عمرؓ کی رائے کو پسند فرمایا ہے ان واقعات کو (موافقات عمرؓ) کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ واقعۂ قرطاس بھی موافقات عمرؓ میں سے ہے مگر افسوس زمانہ حال کے بعض فرقہ پرست محض اس لیے کہ اکابر صحابہؓ کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کا کوئی موقع ضائع نہ جانے پائے حضرت عمر فاروقؓ کی اس عظیم منقبت کو ایک مذمت قرار دے رہے ہیں مگر یہ امر پیشِ نظر رہے کہ اس کا منشاء تحقیق نہیں محض فرقہ بندی کے جراثیم کی پرورش ہے علامہ اقبالؒ مرحوم کیا ہی خوب فرما گئے۔۔

             خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد

              جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

لفظ ھَجَرَ کس نے کہا؟: شارحین حدیث نے اس میں دونوں احتمال ذکر کیے ہیں۔ بعض نے تو ھَجَر کو ہجرت سے تسلیم کر کے وطن چھوڑنے کے معنیٰ مراد لیے ہیں اور بعض علماء ایسے گزرے ہیں جنہوں نے ھَجَرَ کو ھجر مریض سے مشتق مان کر غیر ارادی کلام کے معنیٰ کیے ہیں۔ مریض شدت مرض میں جب دماغی توازن سے الگ ہو جاتا ہے تو وہ بے محل،  بے موقع اور بے ربط کلام کرنے لگ جاتا ہے۔ اس بےربط کلام اور بےمحل کلام کو مریض کی ھَجَرَ کہتے ہیں۔

صفحہ 1 از 3