Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ایک آدمی کو دوران جہاد ایسا کاری زخم لگا کہ اس کے چہرے میں گڑھا ہوگیا

  علی محمد الصلابی

ایک مرتبہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے سامنے لوگ اپنے عطیات لے رہے تھے، اچانک آپؓ کی نگاہ ایک ایسے آدمی پر پڑی جس کے چہرے پر کاری زخم کا نشان تھا آپؓ نے اس سے اس کی وجہ پوچھی، اس نے آپؓ کو بتایا کہ فلاں غزوہ میں مجھے یہ زخم آیا ہے، آپؓ نے فرمایا: اسے ایک ہزار درہم دے دو، اسے ایک ہزار درہم دئیے گئے، پھر آپؓ نے فرمایا: مزید ایک ہزار دے دو، اسے دوبارہ ایک ہزار درہم دئیے گئے، پھر آپؓ نے فرمایا: مزید ایک ہزار دے دو، اس آدمی کو ایک ہزار درہم دئیے گئے، آپؓ نے چار مرتبہ یہی حکم دیا اور وہ چاروں مرتبہ دراہم سے نوازا گیا۔ حضرت عمرؓ کی کثرت ذرہ نوازی سے اس آدمی کو شرم آ گئی، اور وہ باہر نکل گیا، آپؓ نے اس کے بارے میں پوچھا کہ وہ کہاں گیا؟ تو آپؓ کو بتایا گیا کہ آپؓ کی کثرت عنایت پر وہ شرما گیا تھا اور چلا گیا۔ آپؓ نے فرمایا: اگر وہ ابھی ہوتا تو جب تک ایک درہم باقی رہتا میں مسلسل اسے دیتا ہی رہتا۔ وہ ایسا آدمی تھا جو راہِ جہاد میں زخمی کیا گیا، جس سے اس کے چہرے پر گڑھے پڑ گئے۔ 

(مناقب عمر: ابن الجوزی: صفحہ 74، اس کی سند منقطع ہے۔ محض الصواب: جلد 1 صفحہ 368)