یہ وہ خاتون ہیں جن کی شکایت اللہ نے سات آسمانوں کے اوپر سنی ہے
علی محمد الصلابیایک مرتبہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ مسجد سے نکلے، آپؓ کے ساتھ جارود العبدی بھی تھے، راستے میں ایک عورت مل گئی، حضرت عمرؓ نے اسے سلام کیا ، اس نے سلام کا جواب دیا اور کہا: اے عمر! میں تمہیں اس وقت سے جانتی ہوں جب تمہیں عکاظ کے بازار میں عمیر کہہ کر پکارا جاتا تھا اور تم اپنے ڈنڈے سے دوسرے بچوں کو چھیڑتے تھے، یہاں تک کہ تمہیں عمر کہا جانے لگا اور زیادہ دن نہیں گزرے کہ امیر المؤمنین کہے جانے لگے ہو، لہٰذا رعایا کے بارے میں اللہ سے ڈرو اور یاد رکھو کہ جو شخص وعید الہٰی سے ڈرتا ہے، دور رہنے والا بھی اس کے قریب آ جاتا ہے، اور جو شخص موت سے خوف کھاتا ہے وہ دنیا سے جانے سے بھی گھبراتا ہے۔ جارود نے کہا: اے خاتون! آپ نے امیر المؤمنین کو بہت کچھ کہہ دیا اب بس کریں۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: کہنے دو، کیا تم انہیں پہچانتے نہیں ہو؟ یہ خولہ بنت ثعلبہ ہیں جن کی بات کو اللہ نے سات آسمانوں کے اوپر سنا تھا، تو عمر، ان کی بات کو سننے کا زیادہ حق دار ہے۔
(محض الصواب: جلد 3 صفحہ 777 یہ روایت سنداً ضعیف ہے، کیونکہ قتادہ اور عمر رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے۔
اور ایک روایت میں ہے کہ ’’اللہ کی قسم! اگر وہ رات تک کھڑی رہتیں تو میں صرف نماز کے لیے ان کو چھوڑتا، پھر لوٹ کر ان کے پاس آ جاتا۔‘‘
(الرد علی الجہمیۃ، الدارمی: صفحہ 45)
اور ایک روایت میں ہے کہ ’’یہ وہی خولہ ہیں جن کے بارے میں اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی:
قَدۡ سَمِعَ اللّٰهُ قَوۡلَ الَّتِىۡ تُجَادِلُكَ فِىۡ زَوۡجِهَا ۞(سورۃ المجادلةآیت 1)
(العلو للعلی الغفار: ذہب: صفحہ 63)
ترجمہ:’’یقیناً اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو تجھ سے اپنے شوہر کے بارے میں بات کر رہی تھی۔‘‘