امامت اور ولایت ہی دین و ایمان ہے - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

امامت اور ولایت ہی دین و ایمان ہے

  مولانا اللہ یار خان

صفحہ 2 از 3

عہد الست کی لوگوں نے بڑی ناقص تعمیر کی جو کہہ دیا کہ اقرار توحید تھا بس شیعہ مفسرین نے ثابت کردیا کہ اس مکار قطب اور محور تو امامت تھی اگر عدالت میں امامت کا ذکر نہ ہو تو انبیاء کی بعثت ہی عبث ٹہرتی ہے ۔ لہٰذا مخلوق جب صاب آدم میں بشکل ذر تھی اس سے امامت کا عہد لیا گیا تھا۔

مفسر البرہان نے ص 50 پر جو بات کی اس میں ایک کمی رہ گئی تھی لہٰذا آگے ص 52 پر وہ بھی پوری کردی۔

وتو بعده الناس متن سمى على اد والمونس ما انكر و ا فصله سمى امير العومة بين وادم بين الروب والحسد.

اگر لوگ جانتے کہ علی کو امیر المؤمنین کا لقب کب ملا تو اس کی فضیلت کا انکار نہ کرتے علی اس وقت امیر المؤمنین بنا جب آدم ابھی روح اور جسم کے درمیان تھے۔

لوگ سچ کہتے ہیں کہ ایک جھوٹ کو بنانے کے لیے کہیں اور جھوٹ بنانے پڑتے ہیں امامت کو دین و ایمان کا محور بنا دیا امامت کے دعوے اور اعلان کا ثبوت نہ ملا تو اسے عہد الست سے جوڑ دیا امامت پر ایمان کا مطالبہ جگ ہنسائی محسوس ہوئی تو حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کو آدم کی پیدائش سے پہلے امیر المؤمنین بنا دیا۔

خرد کا نام جنوں رکھ دیا اور جنوں کا خرد جو چاہے آپ کا کذب کر شمع ساز کرے۔

صاحب تفسیر البرہان نے روز میثاق میں انکار و اقرار کی وجہ دنیا میں اس کے کے اظہار کا بیان فرمایا:

9_ تفسیر البرہان 192:2

ثم دعو هو ان ولایتتان قربها و الله من أحب وانكرها من البعض و هي قوله تعالى وما كانو ليؤمنوا بما كن توا به من قبل.

پھر مخلوق کو ہماری امامت کی طرف دعوت دی تو بخدا جسے محبت تھی اس نے اقرار کیا ہو جسے بغض تھا اس نے انکار کیا یہ ہے اس آیت کا مطلب کہ جس کا وہ پہلے انکار کر چکے تھے. اسے کب ماننے والے تھے۔

ایک اور مفسر نے بات آگے بڑھائی ہے۔

10_ تفسیر عیاشی 124:2

وما كانو اليومنوا بما كذبوا به من قبل قال بعث الله الرسل إلى الخلق وهم في اصلاب الرجال وارحام النساء فمن صدق حینه را صدق بعد ذلك و من كذب حيثذ كذب بعد ذالک۔

اللّٰہ نے رسولﷺ اس وقت مخلوق کی طرف بھیجے جب لوگ آباؤ اجداد کے صلبوں اور ماؤں کے رحموں میں تھے اس وقت میں نے تصدیق کی اس نے دنیا میں بھی تصدیق کر دی اور جس نے اس وقت انکار کیا اس نے دنیا میں بھی انکار کیا یہ ہے اس آیت کا مطلب۔

صاحب تفسیر عیاشی نے رسولﷺ بھیجے لکھا ہے اماموں کا نام نہیں لیا ممکن ہے رسولﷺ سے اس کی مراد امام ہی ہو، بہر حال بات غور طلب یہ ہے کہ صلب ، پدر میں تو مادہ منویہ ہوتا ہے تو کیا مادہ منویہ کی طرف کوئی مادہ منویہ ہی رسول یا امام بنا کے بھیجا ؟

قاعدہ یہ ہے کہ رسولﷺ تو دار التکلیف میں مکلفین کے لیے مبعوث ہوتے ہیں۔ ماده مسخر کو کو از ما رسول تبلیغ کرتا ہے ۔

دوسری بات ذرا علمی ہے کہ تمام اہل علم خواہ وہ شیعہ ہی ہوں اس امر پر متفق ہیں کہ معدوم من بیست معدوم کو خطاب کرنا ضمانت خالص اور زی جہالت ہے چنانچہ عالم الدین رملاز المجتهدین - علامہ جمال الدین ابی منصور حسن بن زین الدین شهید ثانی - متونی سنہ 1011

ص 123 نمبر 133 نمبر 125

ما وضع الخطاب المشافة نحو ايها الناس و يا ايها الذين آمنوا لا يعمر بصبغة من تأخر من زمن الخطاب و انمایشیت حكم الله بدليل الآخر وهو قول اصحابنا و اكثر اهل الخلاف و قلب قوم منهم إلى تناوله بصبغة لمن بعد هم ولنا ان لا يليق المعدومين بايها الناس و نحوه وانكاره مكابرة وايضاً فأن الصبي . والمجنون اقرب الى الخطاب من المعدوم لوجود هما و . ايضا فهما بالانسانية مع ان خطابها نحو ذلك ممتنع قطعا . فالمعدوم أجدر أن يمتنع

حاضرین کے لیے خطاب کے صیغے یا ایھا الناس اور یاایھا الذین آمنوا کون لوگوں کو شامل نہیں کیا جو زمانہ خطاب کے بعد آئیں گے یا جو بعد میں پیدا ہوں گے یا مسلمان جو غائبین کے حکم میں شامل ہوں گے نہ کسی اور دلیل خارجی سے یہی مذہب ہے شیعوں کا اور اکثر اہل سنت کا بھی اہل سنت ہے۔

نبی پاکﷺ ایک جماعت کہتی ہے کہ صیغہ خطاب کا بعد والوں کے لیے بھی ہے اور ہمارے شیعہ کے نزدیک معدوم کے لائق ہی نہیں کہ یا ایھا الناس وغیرہ سے اسے خطاب کیا جائے اور اس کا انکار صاف حماقت ہے پھر لڑکا نہ بالغ اور پاگل تو خطا کے زیادہ مستحق ہیں کہ وہ انسانیت کے وقت سے معدوم ہیں بمقابلہ معدوم ہے کیونکہ وہ تو انسانیت سے متصف بھی نہیں جب لڑکے پاگل کو احکام شرعی کا مخاطب بنانا جائز نہیں تو معدوم کو خطاب کرنا کہاں جائز ہے۔

ایک اور شیعہ محقیق لکھتا ہے۔

کنز الفوائد ___ابی الفتح محمد بن علی کراجکی متوضی ص14 ص448

والنشر في حال عدمه اون حال وجوده و محال ان یا مره وهو في حال عدمه لأن المعدوم ليس بنى فتوجه اليه الأمر و الذين پشتون انه شي في حال عدم من المتكلمين لا يخالفون في انه لا يصح ان يومر و كا يقيم من شئ ان يفعل الا ان يكون حيا تا قادرا ولا يصح منه أيضا أن يفعل الحكم المتقن الا بعد كونه المأكله على ان المعدوم الا يوفر والا مر منوج إلى الطفل بشرط البلوم وكذلك للأمر معد و هرشه در وجوده و عقله الخطاب واما الخطاب المعدوم والجمادات والاموات نمحال .

کوئی شے یا معدوم ہو گئی یا موجود اور حالت عدم میں خطاب کرنا محال ہے کیونکہ کوئی شے نہیں ہے لہذا خطاب کا اس کی طرف روح کرنا محال ہے اور جو لوگ معدوم کو شے کہتے ہیں وہ متکلفین اس پر متفق ہیں کہ اسے خطاب نہیں کیا جاتا خطاب صرف اسے کیا جاتا ہے جو زندہ ہو قوم پر قادر ہو ذی عقل اور زی فہم ہو، لڑکے کو خطاب اس وقت کرتے ہیں، جب وہ بالغ ہو چکا ہو اور معدوم کو خطاب اس وقت کرتے ہیں جب وہ موجود ہو چکا ہو اور بشر عقل ہو معدوم کو خطاب کرنا اور جمنارت اور مرد کو خطاب کرنا محال ہے۔

تشاد تونیر شیعہ کے ہر مسلے میں موجود ہے مگر یہاں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ علمائے شیعہ اپنے مذہب اسے بھی کما حقہ واقف نہیں ان دو اقتباسات سے ظاہر ہے کہ

1_احکام میں خطاب موجودین کو ہوتا ہے معدومین کو نہیں ۔

2_ انبیاء ہمیشہ مکلفین کو خطاب کرتے ہیں نا بالغوں اور دیوانوں کو نہیں کرتے ۔

صفحہ 2 از 3