عقیدہ رسالت تحریف قرآن کی ذد میں - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

عقیدہ رسالت تحریف قرآن کی ذد میں

  مولانا اللہ یار خان

صفحہ 3 از 3

پر وہ شخص جو شیعوں کے اماموں کی امامت کا انکار کرے یا اس میں شک کرے وہ کافر ہے ۔ اس کا قول اور عقیدہ کُفر ہے۔

"کل من" کہہ کر قانون بیان کر دیا۔ اماموں کی امامت کا انکار کرنے والا یا اس میں شک کرنے والا کوئی ہو ۔ عام آدمی ہو جلیل القدر صحابی ہو۔ نبی بو رسول هواوالعزم پیغمبر ہو کوئی ہو جو شک کرنے کافر ہے۔ لہذا جس كُفر کی چکی میں انبیاء بھی پس گئے اس سے صحابہ کا یا سُنّیوں کا بچ نکلنا کیسے ممکن ہو سکتا تھا۔

ع دو پاٹوں کے بیچ میں ثابت رہا نہ کوئی

10: تفسیر مراہ انوار ص70

ان سبب ابتلاء ايوب كان شکه فى ولاية أمير المومنين عليه السلام ۔

حضرت ایوب کے گرفتار بلا ہونے کا سبب یہ تھا کہ آپ نے ولایت علی میں شک کیا تھا۔

11: ایضاً ص27

قال الصادق ان الله عرض ولا يتنا على اهل الامصار فلم يقبلها الااهل الكوفة .

امام جعفر فرماتے ہیں کہ اللّٰہ نے ہماری ولایت یعنی امامت تمام شہروں کے باشندوں کے سامنے پیش کی مگرماسوائے کوفہ والوں کے کسی نے قبول نہ کی۔

اس تفسیر سے دو عقد سے حل ہو گئے اول یہ کہ امامت کا مسئلہ صرف انبیاء کی سمجھ سے بالاتر نہیں بلکہ پوری انسانیت نے نہ اسے سمجھا نہ قبول کیا۔ کرہ ارض پر صرف ایک شہر کوفہ ہے، جو عقل و خود میں پوری دنیا سے بازی لے گیا۔

دوسرا عقدہ یہ بھی حل ہو گیا کہ امامت کے قبول کرنے کا مطلب کیا ہے، یعنی بارہ ہزار خط بھیج کے امام کو گھر بلاؤ جب آئے تو خود اسے اپنے ہاتھوں سے قتل کرو اور جب قتل کر چکو تو ماتم شروع کر دو یہ ہے امامت کے قبول کرنے کا مطلب یا یہ ہے کہ امام کوئی فیصلہ کرے تو اسے کہو یا مذل المؤمنین پھر اس کے خیمے لوٹو، اس کا مال چھین لو، یوں امامت کے قبول کرنے کا حق ادا ہوتا ہے اس سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ امامت کا قبول نہ کرنا ہی اماموں کے لیے مفید ہے۔


صفحہ 3 از 3