عقیدہ رسالت تحریف قرآن کی ذد میں - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

عقیدہ رسالت تحریف قرآن کی ذد میں

  مولانا اللہ یار خان

صفحہ 2 از 3

تیسری بات یہ ہے کہ معاذ بن جبل نے پوشیدہ طور پر حضورﷺ کو ایک مشورہ دیا تو آپ کو کیسے معلوم ہوگیا ؟ آپ تک یہ خبر پہنچنے کے ذرائع کونسے ہیں۔

چوتھی بات یہ ہے کہ کیا حضورﷺ نے اس تردید کے بعد حضرت علی کی خلافت کا کوئی اعلان کیا ؟ اگر نہیں کیا حبط اعمال کی صورت تو پیدا ہوگئی، اگر کوئی اعلان کیا تو حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ نے کسی موقع پر ہی سہی وہ اعلان کیوں نہ پیش کیا اور خلفائے ثلاثہ کی بعیت کر کے ان کے مشیر کیوں بنے رہے ، لہذا یہ تفسیر تو کیا ہوتی ادبی اعتبار سے ایک قابل التفات افسانہ بھی نہیں۔ یہ تھا اس تفسیر کا عقلی جائزہ اب عملی اعتبار سے دیکھئے۔

لئن اشرکت الخ آیت ہجرت سے پہلے نازل ہوئی تھی یعنی مکی آیت ہے، مکی زندگی میں خلافت علی کا تصور کہاں تھا اور شرک کے لفظ میں یہ شیعی اور افسانوی مفہوم کسی کے ذہن میں تھا۔

اور یا ایھا الرسول بالغ الخ بقول شیعہ خم غدیر کے موقعہ پر نازل ہوئی اور شیعہ کا دعویٰ ہے کہ تمام فرائض کے بعد ولایت علی کا فریضہ نازل ہوا، حالانکہ امر واقع یہ ہے کہ یہ آیت حجة الوداع کے موقعہ پر آٹھویں حج کو نازل ہوئی ۔ اب اس تاریخی ترتیب کو سامنے رکھ کر اس شیعی تفسیر پر غور فرمائیے ۔ خلافت کے حکم کی تبلیغ کا حکم مدینے میں اور وہ بھی حضورﷺ کی زندگی کے آخری حصے میں نازل ہو رہا ہے اور یہ حکم نہ پہنچانے پر تحدید برسوں پہلے مکّے میں نازل ہو رہی ہے۔

جو بات کی خدا کی قسم لا جواب کی۔

6_ تفسیر قمی:21:1

اولئك الذين اتينهم الكتاب والحكم والنبوة فان يكفربها هولاويعنى اصحابه وقریش وانکر وابيعة اميرالمومنين نقد وكلنا بها قوما ليسوا بها بكافرين یعنی شیعہ امیر المومنين ثم قال تادیبالرسول الله اولئك الذين هد الله فيهد اهم اقتده يا محمد .

وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب حکمت اور نبوت دی پس اگر ان کے ساتھ صحابہ اور قریش کفر کریں اور امیر المومین کی بعیت کا انکار کریں تو ہم نے کتاب و حکمت ایسی قوم کے سپرد کی جو اس کے ساتھ کفر نہ کرے گی قوم سے مراد شیعہ علی ہیں پھر اللّٰہ نے نبی کریمﷺ کو اور ادب سکھاتے ہوئے حکم دیا کہ یہ شیعہ قوم تو ہدایت یافتہ ہے اے محمد! توان شیعوں کے پیچھے چل ان کی اقتدا کر۔

لیجیے مسلمان بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ نبی کریمﷺ آخری نبی ہیں افضل الرسل ہیں، امام الا نبیاء ہیں رحمتہ للعالمین ہیں ۔ شیعہ مفسرین سے ذرا حضورﷺ کا مقام اور مرتبہ پو چھیں، چلئے وہ سب کچھ سہی مگر حضورﷺ کو اللّٰہ نے حکم دیا کہ شیعہ کے پیچھے چلئے اس سے ایک تیر سے دو شکار ہوئے ایک تو نبی کریمﷺ کی توہین اس درجہ کی گئی ہے کہ اس سے آگے کوئی درجہ نہیں، دوسرا شیعہ کی عظمت اور شان بھی بیان ہوئی کہ انبیاء کہاں امام انبیاء کو شیعہ کا اتباع کرنے کا حکم مل رہا ہے۔ ملنگوں کی بن آئی۔

انا لله وانا اليه راجعون .

7_ تفسیر البریان 27:4

قال امیر المومنين ان الله عرض ولايتى على اهل السموات وعلى اهل الارض اقربها من اقرو انكرها من انكر و انكرها يونس نحبس الله فى بطن الحوت حتى اقربها .

حضرت علی نے فرمایا اللّٰه نے میری خلافت وامامت آسمان اور زمین کی مخلوق کے سامنے پیش کی میری امامت کا اقرار جس نے کیا سو کیا اور جس نے انکار کیا سو كیا حضرت یونس(علیہ) نے بھی انکار کیا تو اللّٰہ تعالیٰ نے سزا دی مچھلی کے پیٹ میں بند کر دیا جب اقرار کیا رہائی ملی۔

حضرت یونس کے ساتھ نہ جانے کیوں رعایت برتی گئی ان سے صرف حضرت علی کی امامت کا اقرار بجر کرایا حالانکہ امام الانبیاء کو حکم دیاکہ شیعوں کی اقتدا کرو۔

8: ایضاً ص37 امام ذین العابدین فرماتے ہیں:

ان یونس بن متی انما ما لقى فے الموت لانه عرضوا عليه ولاية جدى فتوقف عندها قال على بن الحسين ان الله تعالى لم يبعث نبيا من ادم الی ان صار جدك محمد صلى الله عليه وسلم الا وقد عرض عليه ولا يتكم اهل البيت فمن قبلها من الانبياء سلم وتخلص ومن توقف عنها و تتمتع فی حملها القى ما لقى ادم من المعصية ولقى مالقى نوح من الفرق ولقى مالقى ابراهيم من النار ما لقى يوسف من الجب وما لقى ايوب من البلاء ومالقى داؤد من الحيطة الى ان بعث الله یونس فاوحی الله اليه ان تول امیر المومنین عليا و الائمة الراشدين من صلبه فی كلام له قال يونس كيف اقول من لم ارہ ولم اعرفه وذهب مغاضباً.

حضرت یونس نے مچھلی کے پیٹ میں جو تکلیف اُٹھائی وہ اس وجہ سے تھی کہ ان کے سامنے حضرت علی کی ولایت پیش کی گئی انہوں نے قبول کرنے میں توقف کیا امام نے فرمایا اللّٰه تعالیٰ نے آدم سے نے کر محمد رسول اللّٰہ تک کوئی نبی نہیں بھیجا جس پر آئمہ شیعہ کی امامت نہ پیش کی گئی جس نبی نے امامت کو قبول کیا وہ بچ گیا جس نے توقف کیا یا سستی دکھائی اس کو سزا دی گئی جیسے حضرت آدم نے گناہ كی مصیبت اٹھائی،حضرت نوح نے غرق کی،حضرت ابراہیم نے آگ کی،حضرت یوسف نے کوئیں کی،حضرت داؤد نے گناہ کی،حتی کہ حضرت یونس کو اللّٰہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا اور وحی کی کہ حضرت علی کو اور اس کی اولاد سے ائمہ کو دوست بنا تو حضرت یونس نے عرض کیا میں عمل کو کیسے دوست بناؤں جسے نہ دیکھا نہ پہچانتا ہوں پھر غصہ میں چلا گیا۔

امامت کا کیا کہنا اور انبیاؤ کا کیا پوچھنا،انبیاء کے سامنے نہ توحید پیش کی گئی نہ رسالت نہ معاد، بس پیش کیاگیا تو عقیدہ امامت اور انبیاء بھی جیتنے اولوالعزم تھے انکار اور توقف ہی کرتے رہے ۔ بھلا ابولا نبیاء نے پہلی جوکی، باقی کیوں نہ کرتے معلوم ہوتا ہے کہ یہ امامت کا گورکھ دھندا انبیاء کی سمجھ سے بالا تر ہے جبھی تو سوچ میں پڑ جاتے تھے اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو عقدہ انبیاء کی سمجھ میں نہ آسکا اسے ہم جیسے عامی کیونکر سمجھیں یہ تو شیعہ کی عقل خدا داد ہی سمجھ سکتی ہے۔

پھر اس روایت سے یہ معلوم ہوا کہ شیعہ تفسیر کے اصول میں تمام انبیاء کی توہین کرتا غالباً بنیادی مطالبہ ہے۔

اس موقع پر شیعوں کے مسلمہ قانون بلکہ عقیدہ کا بیان مناسب معلوم ہوتا ہے تا کہ صرف حضرت یونس علیہ السلام کے متعلق یہ تاثر نہ پیدا ہو کہ یہ زیرِ عتاب آئے۔

9: تفسیر مروۃ الانوار ص287

كل من جحدا او انكر اما متهم اوشك فى ذلك فهو كافر والكفر قول واعتقادۃ

صفحہ 2 از 3