شیعہ مذہب پر عقیدہ تحریف قرآن کے اثرات - ردِ رافضیت | دفاع…

شیعہ مذہب پر عقیدہ تحریف قرآن کے اثرات

  مولانا اللہ یار خاں

صفحہ 2 از 2

(الف) امام کے کلام کے ستر پہلو ہوتے ہیں کون جانے کون سا پہلو صحیح ہے۔

(ب) آئمہ کی حدیث کا ایک وصف بیان ہوا کہ "صعب متصعب " ہوتی ہے۔

یعنی اس کا مطلب سمجھنا نہایت مشکل ہے۔

(ج) امام کے ہر کلام میں تقیہ کا احتمال لازما ہوتا ہے۔

لہذا یہاں عقل عامہ بھی رہنمائی کرنے سے قاصر ہے۔

بات تقیہ کے احتمال کی نہیں بلکہ تقیہ کا مسئلہ اتنا نازک ہے کہ اسے چھوڑنے کی ہمت نہ شیعہ میں ہے نہ آئمہ شیعہ میں چنانچہ

احتجاج طبرسی ص134

وليس ليسوغ مع عدم التقية التصريح باسماء المبدالين ولا الزيادة في اياته على ما اثبتوه من تلقائهم في الكتاب لما في ذلك من تقوية فبحر اهل التعطيل والكفر والملل المنحرفة من قبلتنا وأبطال هذا العلم الظاهر الذي قد استكان له الموافق والمخالف۔

شریعت تقیہ نے اس قدر منع کر رکھا ہے کہ نہ میں ان لوگوں کے نام بتا سکتا ہوں جنہوں نے قرآن میں تبدیلی کی ہے نہ اس زیادتی کو بتا سکتا ہوں جو انہوں نے قرآن میں شامل کر دی ہے۔ جس سے کفر اور مذاہب باطلہ کی امداد اور تائید ہوتی ہے اور اس علم ظاہری کا ابطال ہوتا ہے جس کے موافق اور مخالف سب قائل ہیں۔

پھر اسی کتاب کے ص 129 پر ہے:

ولو شرحت لك كلما اسقط و حرف و بدال مما يجرى هذا المجراى لطال و ظهر ما تحضره التقية اظهاره .

جو آیات قرآن سے نکال دی گئی ہیں اور جو تحریف اور تبدیلی کی گئی ہے۔ اگر میں ان کی تشریح کروں تو بات بڑھ جائے گی اور تقیہ جس چیز سے روکتا ہے وہ ظاہر ہو جائے گی۔

دیکھ لیجئے تقیہ کا معاملہ کتنا نازک ہے کہ جہاں شریعت محمدی ﷺ اور شریعت تقیہ میں تصادم ہو جائے یا ان دونوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا لازمی ہو جائے تو شریعت اسلامی کو چھوڑ دینا پڑے گا مگر شریعت تقیہ کو کسی حال میں نہیں چھوڑا جا سکتا۔

البتہ یہاں ایک پہلو نا قابل فہم ہے کہ تقیہ نے اس بات سے کیوں نہ روکا کہ قرآن کی تحریف کا شوشہ چھوڑ دیا جائے اور اس سے کیوں روکا کہ تحریف کی تعیین کردی جائے اگر وہاں بھی تقیہ کر لیا جاتا تو سارا درد سر ختم ہو جاتا ان دو مقامات پر دو مختلف طرز عمل اختیار کرنے سے تو نقشہ کچھ اس طرح سامنے آتا ہے کہ بھس میں چنگاری ڈالی جمالو دور کھڑی ۔

جس حرکت مذبوحی کا ذکر ہو رہا ہے اس کی علمی تفصیل تو دی جا چکی میرے ساتھ عملی طور پر بھی یہ صورت پیش آئی۔ مرزا احمد علی شیعہ رئیس المناظرین نے ایک دفعہ مجھے کہا کہ ہم تو موجودہ قرآن کو صحیح و سالم سمجھتے ہیں ، میں نے کہا کس دلیل سے کہنے لگے سنو احتجاج طبرسی میں ہے ۔

واما هذا القرآن فلاشك ولا شبهة في صحته وانه من كلام اللّٰه سبحانه هكذا صدر من صاحب الامر .

جہاں تک اس قرآن کا تعلق ہے اس میں کوئی شک و شبہ نہیں نہ اس کی صحت میں شک ہے اور حقیقت یہ ہے کہ یہ قرآن اللّٰہ کا کلام ہے یہی امام غائب کا فرمان ہے۔

میں نے کہا مرزا جی! هذا القرآن میں ہذا کا اشارہ کسی قرآن کی طرف ہے کہنے لگے یہ ایسا ہی ہے جیسا ان هذا القرآن يهدي للتي هي اقوم ہے میں نے کہا میں اس ہذا کے متعلق نہیں پوچھ رہا بلکہ احتجاج طبرسی والے هذا کے متعلق پوچھ رہا ہوں ۔ مرزا جی بغلیں جھانکنے لگے تو میں نے کہا لیجئے میں آپ کو پوری بات بتا دوں ۔ احتجاج طبرسی میں اس ھذا سے پہلے یہ عبارت ہے ص11

والقرآن الذي جمعه امیر المومنين عليه السلام بخطہ محفوظ عند صاحب الامر عجل اللّٰه فرجه فيه كل شيئ حتى ارش الخدش۔

وہ قرآن جسے حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ نے لکھا اور جمع کیا وہ امام غائب کے پاس محفوظ موجود ہے خدا امام کی مشکل آسان کرے اس قرآن میں وہ تمام چیزیں ہیں (جن کی لوگوں کو حاجت ہوتی ہے)حتی کہ خواہش کی اہمیت بھی اس میں مذکور ہے۔

اس سے آگے وہ عبارت ہے جو آپ نے سنائی ۔ لہذا ھذا کا اشارہ اس قرآن کی طرف ہے جو امام غائب کے پاس ہے جسے چودہ صدیوں میں کسی کو دیکھنا نصیب نہیں ہوا۔

مرزا جی! آپ نے تقیہ کا ثواب حاصل کرنے کی کوشش تو کی مگر تحریف قرآن کے متعلق 2000 سے زائد روایات سے آپ کیونکر پیچھا چھڑا سکتے ہیں۔ اس تفصیل سے غرض یہ ہے کہ تحریف قرآن کا عقیدہ ایسا ہے کہ آدمی اگر برائے نام معقولیت کا رویہ بھی اختیار کرے تو اسے محسوس ہونے لگتا ہے کہ یہ عقیدہ اور اسلام کا دعوی بالکل دو متضاد چیزیں ہیں۔ اور اسلام سے ایک قسم کا جذباتی تعلق توکسی نہ کسی رنگ میں موجود ہوتا ہے لہذا آدمی یہ کہنے سے ہچکچاتا ہے لہٰذا تقیہ کر کے ماڈرن شیعہ کہہ دیتے ہیں کہ ہم تو موجودہ قرآن کو صحیح سمجھتے ہیں۔ لہذا یہ صحیح سمجھ لینا چاہیئے کہ کسی شیعہ کا قرآن کے متعلق یہ کہنا بالکل اسی طرح ہے جیسے وہ کہے کہ میرا امامت کے متعلق کوئی عقیدہ نہیں ہے۔ شیعہ اگر قرآن کی عدم تحریف کا قائل ہو تو اسے عقیدہ امامت سے دستبردار ہونا پڑتا ہے۔


صفحہ 2 از 2