ایک مہینہ تک تم پر خرچ کیا ہے
علی محمد الصلابیعاصم بن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مجھے بلانے کے لیے اپنے غلام ’’یرفا‘‘ کو بھیجا، میں آپؓ کے پاس آیا، آپؓ مسجد میں تشریف فرما تھے۔ آپؓ نے حمد و ثنا کی اور کہا: اما بعد! بے شک میں اس مال بیت المال کا نگراں و ذمہ دار ہونے سے پہلے صرف جائز طور پر اپنے لیے کچھ مال حلال سمجھتا تھا، لیکن جب میں اس کا نگران بنا دیا گیا تو میں اتنا اور وہ بھی اپنے لیے حرام سمجھتا ہوں، لہٰذا تم ماضی میں دی ہوئی میری امانت کو لوٹا دو، میں نے تم پر ایک مہینہ تک اللہ کا مال خرچ کیا ہے، اب اس سے زیادہ میں نہیں کرسکتا اور میں نے تمہارا پھل عالیہ میں بطور عطیہ دے دیا ہے، تم اس کی قیمت لے لو، اور اپنی قوم کے کسی تاجر کی مصاحبت اختیار کر لو، جب وہ کچھ خرید و فروخت کرے تو تم بھی اس میں شریک ہو جاؤ اور پھر آمدنی کو اپنے اور اپنے اہل و عیال پر خرچ کرو۔ عاصم کہتے ہیں: پھر میں چلا گیا اور اسی طرح کیا۔
(الطبقات: جلد 3 صفحہ 277۔ اس کی سند صحیح ہے۔ محض الصواب: جلد 2 صفحہ 491)