Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

رفاہ عامہ کی ملکیت

  علی محمد الصلابی

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر والوں کو رفاہِ عامہ کے لیے خاص کی گئی ملکیتوں سے استفادہ کرنے سے منع کر دیا تھا، محض اس خوف سے کہ کہیں اپنے گھرانے کی طرف داری نہ ہو جائے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ میں نے ایک اونٹ خرید کر رفاہی چراگاہ میں چرنے کے لیے چھوڑ دیا۔ جب وہ موٹا ہو گیا تو میں اس کو لے کر بازار گیا، حضرت عمرؓ عنہ بازار آئے اور موٹے اونٹ کو دیکھا تو پوچھا: یہ کس کا اونٹ ہے؟ آپ کو بتایا گیا کہ عبداللہ بن عمر کا ہے آپ کہنے لگے: اے عبداللہ بن عمر! کیا خوب، کیا خوب ، امیر المؤمنین کے بیٹے! یہ اونٹ کیسا ہے؟ عبداللہ کا بیان ہے کہ میں نے بتایا کہ اس اونٹ کو میں نے خریدا تھا اور پھر رفاہی چراگاہ میں چھوڑ دیا تھا، میں بھی وہی چاہتا تھا جو تمام مسلمان چاہتے ہیں، یعنی اونٹ فربہ اور تروتازہ ہو جائے حضرت عمرؓ نے فرمایا: وہ کہتے رہے ہوں گے امیر المؤمنین کے بیٹے کے اونٹ کو خوب چراؤ، امیر المؤمنین کے بیٹے کے اونٹ کو اچھی طرح پلاؤ، اے عبداللہ بن عمر اپنے اونٹ کی اصل قیمت لے لو اور منافع مسلمانوں کے بیت المال میں جمع کروا دو۔ 
(مناقب عمر: ابن الجوزی: صفحہ 157، 158)