شہادت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ قسط چہارم - ردِ رافضیت |…

شہادت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ قسط چہارم

  مولانا اقبال رنگونی

صفحہ 5 از 5

حضرت حسنؓ گلے میں تلوار ڈالے حضرت عثمان غنیؓ کی مدافعت کے لیے تیار تھے حضرت عثمانؓ کو اس بات کا ڈر ہوا کہ کہیں حضرت حسنؓ کو کوئی نقصان نہ پہنچے، حضرت عثمان غنیؓ نے حضرت حسنؓ کو حکم دیا کہ وہ اپنے گھر جائیں یہ بات حضرت علیؓ کی دلجوئی کے لیے بھی تھی اور اس لیے بھی کہ حضرت حسنؓ کو گزند نہ پہنچے۔


حضرت عثمانؓ جانتے تھے کہ حضورﷺ کو مدینہ سے بڑی محبت تھی، یہ آپﷺ کا دار الہجرت ہے اور حضورﷺ یہاں آرام فرما ہیں۔ اب اگر آپؓ اپنے ساتھیوں کو بھی قتال کی اجازت دیں گے تو نتیجہ مسلمانوں کے خون کے ساتھ ساتھ مدینہ منورہ کی بے حرمتی کی صورت میں ہوگا اور آپؓ یہ برداشت نہ کر سکتے تھے کہ مدینہ کی حرمت کسی طرح بھی پامال ہو۔


جب حضرت ابوھریرہؓ حضرت عثمانؓ کی حمایت میں تلوار لٹکائے نکلنے لگے تو حضرت عثمانؓ نے انہیں روکا اور فرمایا آپؓ اپنی تلوار پھینک دو میں تمہارے ہاتھوں کسی کا خون ہوتے نہیں دیکھنا چاہتا، کیا تو چاہتا ہے کہ تو ہم سب کو قتل کردے؟ اگر تو نے ایسا کیا تو یہ ایک آدمی کا قتل نہ ہوگا بلکہ پوری انسانیت کا قتل ہوگا.


فانک واللہ ان قتلت رجلا واحدا فکانما قتل الناس جمیعا قال فرجعت ولم اقاتل


(دیکھئے طبقات ابن سعد: جلد 3 صفحہ 51) 


فقال واللہ لئن قتلت رجلا واحدا فکانما قتل الناس جمیعا فرجعت ولم اقاتل


(سنن سعید بن منصور: جلد 2 صفحہ 334) 


(سنن ابنِ ماجہ: صفحہ 11) 


چونکہ حضورﷺ نے مجھے صبر کرنے کی تلقین فرمائی ہے اور میں نے آپﷺ سے اس بارے میں وعدہ کیا ہے سو میں اپنے وعدہ پر قائم ہوں، کوئی شخص بھی میرے لیے اپنی تلوار نہ اٹھائے۔ پھر آپؓ نے ہر اس شخص کو روک دیا جو آپؓ کی طرف سے ان باغیوں کا مقابلہ کرنا چاہتا تھا۔


انہی دنوں حضرت مغیرہ بن شعبہؓ آپؓ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ آپؓ عوام کے امام ہیں اور آپؓ جس حال سے دوچار ہیں وہ بھی آپؓ سے مخفی نہیں اس وقت تین باتوں میں سے کوئی ایک بات اختیار کر لیں۔ 


1) آپؓ باہر نکلیں اور ان کا مقابلہ کریں ہم آپؓ کے ساتھ ہیں آپؓ حق پر ہیں آپؓ کی حمایت میں لوگ کھڑے ہیں۔ 


2) آپؓ کے لیے پیچھے سے دروازہ کھولتے ہیں آپؓ وہاں سے نکل جائیں اور مکہ مکرمہ چلے جائیں وہاں کوئی شخص آپ کے خون سے ہاتھ رنگنے کی ہمت نہ کرے گا۔ 


3) ملک شام چلے جائیں وہاں حضرت معاویہؓ موجود ہیں، وہاں یہ لوگ کسی طرح آپؓ کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔


حضرت عثمان غنیؓ نے اس کے جواب میں فرمایا:


اما ان اخرج فاقاتل فلن اکون اول من خلف رسول اللّٰہﷺ فی امتہ بسفک الدماء واما ان اخرج الی مکۃ فانہم لن یستحلونی بہا فانی سمعت رسول اللّٰہﷺ یقول یلحد رجل من قریش بمکۃ یکون علیہ نصف عذاب العالم فلن اکون ایاہ وانا ان الحق بالشام فانھم اہل الشام و فیھم معاویۃ فلم افارق دار ھجرتی ومجاورۃ رسول اللّٰہﷺ ۔ 


(مسند احمد: جلد 1 صفحہ 108)


(تاریخ دمشق: جلد 16 صفحہ217)


یہ نہیں ہو سکتا کہ میں حضورﷺ کا خلیفہ ہو کر امت مسلمہ کو خون ریزی میں جھونک دوں۔ اور مکہ مکرمہ اس لیے نہیں جا سکتا کہ حضورﷺ سے میں نے سنا ہے کہ جو قریشی حرم مکہ میں خون خرابہ کرے گا اور ظلم کرانے کا باعث بنے گا اس پر آدھی دنیا کے باشندوں کا عذاب ہوگا جہاں تک شام جانے کا تعلق ہے تو یہ اس لیے نہیں ہو سکتا کہ میں دار الہجرت اور حضورﷺ کی مجاورت اور ہمسائیگی نہیں چھوڑ سکتا۔



صفحہ 5 از 5