شہادت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ قسط چہارم - ردِ رافضیت |…

شہادت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ قسط چہارم

  مولانا اقبال رنگونی

صفحہ 4 از 5

جیسا کہ ہم بتا آئے ہیں کہ صحابہؓ کی ایک بڑی تعداد حج کے لیے جاچکی تھی اگر انہیں یہ بات معلوم ہو جاتی کہ مصر، کوفہ، بصرہ اور دیگر جگہوں سے جو لوگ حج کے نام پر آرہے ہیں اور ایک جگہ آہستہ آہستہ جمع ہو رہے ہیں وہ صرف ایک دھوکہ ہے تو صحابہؓ کی بڑی تعداد کبھی مکہ مکرمہ نہ جاتی، اسی طرح اگر مدینہ والوں پر یہ بات کھل جاتی کہ یہ لوگ حضرت عثمانؓ کے اعمال کے ظلم کے نام پر درحقیقت حضرت عثمانؓ اور آپؓ کی خلافت کا خاتمہ چاہتے ہیں تو وہ بھی پہلے ہی مرحلہ پر ان کا راستہ روک دیتے، یہ حضرات اس گمان میں رہ گئے کہ بات اتنی دور تک نہ جائے گی۔ انہیں پتہ نہ چلا کہ یہ لوگ حضرت عثمانؓ کے خلاف انتہائی ظالمانہ قدم اٹھانے سے بھی نہ چوکیں گے۔


وکان اصحاب النبیﷺ الذین خذلوہ کرھوا الفتنۃ وظنوا ان الامر لا یبلغ قتلہ فندموا علی صنعوا فی امره ولعمری ولو قاموا او قام بعضھم فحثا وجہہم التراب لانصرفوا خاسرین۔(طبقات: جلد 3 صفحہ 53)


( تاریخ دمشق: جلد 16 صفحہ210) 


حضورﷺ کے صحابہؓ محض فتنہ کے اندیشہ کے پیشِ نظر آگے نہ بڑھے اور ان کا گمان تھا کہ معاملہ اس انتہاء تک نہ پہنچے گا پس بعد میں جو کچھ ہوا انہیں اپنے اس کردار پر ندامت ہوئی بخدا اگر یہ لوگ اٹھ کھڑے ہوتے یا ان میں سے کچھ ہی کھڑے ہو جاتے اور ان کے منہ پر مٹی ہی پھینک دیتے تو وہ ناکام ہوکر لوٹ جاتے۔


حضرت علیؓ نے جب حالات کی سنگینی بڑھتی دیکھی تو آپؓ نے اپنے دونوں صاحبزادوں حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کو حضرت عثمانؓ کے دروازے پر کھڑا ہونے کا حکم دیا اور فرمایا کہ حضرت عثمانؓ کی حفاظت کرنا اور کسی بھی باغی کو حضرت عثمان غنیؓ تک پہنچنے نہ دینا، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہما نے بھی اپنے جوان بچوں کو آپؓ کی حفاظت پر مامور کر دیا یہ نوجوان حضرت عثمانؓ کے دروازے پر کھڑے ہوگئے تاکہ باغی اندر جانے میں کامیاب نہ ہوں۔


سیدنا علیؓ کا عقیدہ تھا کہ اس موقع پر حضرت عثمانؓ کی نصرت اور ان کی حفاظت نہ کرنا گناہ ہے، آپؓ خود فرماتے ہیں:


واللہ قد دفعت عنہ قد خشیت ان اکون آثما۔


(نہج البلاغہ: جلد 2 صفحہ 261) 


خدا کی قسم میں نے حضرت عثمانؓ کی طرف سے پورا دفاع کیا یہاں تک کہ مجھے خوف ہوا کہ کہیں میں گنہگار نہ ٹھہروں


حضرت عثمانؓ کے آس پاس جو حضرات موجود تھے یا جو لوگ کسی نہ کسی طریقے سے آپؓ کے پاس آسکتے تھے انہوں نے حالات کی سنگینی دیکھ کر حضرت عثمانؓ سے عرض کیا کہ اگر آپؓ ہمیں اجازت دیں تو ہم ان لوگوں سے قتال کریں اور انہیں ان کی اس حرکت کا سختی سے جواب دیں۔ حضرت عثمانؓ نے انہیں اس کی اجازت نہ دی اور نہایت سختی سے ان سب کو ہاتھ اٹھانے سے روک دیا، حضرت علیؓ نے پیغام بھیجا کہ میرے ساتھ پانچ سو کے قریب زرہ پوش لوگ موجود ہیں اگر آپ اجازت دیں تو انہیں آپؓ کے دفاع کے لیے بھیج دیا جائے اس لیے کہ آپؓ نے کوئی ایسا جرم نہیں کیا جس کی بناء پر آپؓ کا خون کرنا حلال ٹھہرے، آپؓ نے حضرت علیؓ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ آپؓ کو اس کی جزا دے میں پسند نہیں کرتا کہ میری وجہ سے یہاں خون خرابہ ہو۔


فانک لم تحدث شیئا یستحل بہ دمک فقال جزیت خیرا ما احب ان یھراق دم فی سببی


(تاریخ دمشق: جلد 16 صفحہ 220)


اب یہاں تک کہ اس جھوٹ کو بھی دیکھیں جو شیعہ علماء دن رات بولتے ہیں اور حضرت عثمانؓ کی شہادت پر خوش ہوتے ہوئے نہیں شرماتے۔


ہندوستان کے علاقہ اودھ کے ایک رافضی ملا حسین بخش کا بغضِ باطنی ملاحظہ کیجیے: وہ لکھتا ہے۔


قتل عثمان قطعی کوئی جرم نہیں تھا بلکہ یہ تو اسلامی معاشرے کے اعلیٰ مقاصد کے عین مطابق تھا اور خود حضرت علیؓ حضرت عثمانؓ کے دفاع کے لیے راضی نہ تھے


(امامت و ملوکیت: صفحہ 123) 


یہ جھوٹ نہیں تو اور کیا ہے؟ کیا حضرت علیؓ نے حضرت عثمانؓ کو دفاع کی پیشکش نہیں کی؟ آپؓ نے اپنے بچوں کو حضرت عثمانؓ کی حفاظت کے لیے نہیں بھیجا؟ کیا سیدنا حسنؓ حضرت عثمانؓ کی مدافعت کرنے میں زخمی نہیں ہوئے تھے؟ ان سب کے باوجود بھی اگر ملا حسین بخش اور اس قبیل کے لوگ جھوٹ پر جھوٹ بولتے رہیں تو پھر اس یقین سے چارہ نہیں کہ یہ لوگ واقعی ابنِ سبا کی روحانی اولاد ہیں۔ 


جلیل القدر صحابی حضرت زید بن ثابتؓ حضرت عثمانؓ کے پاس آئے اور کہا کہ بہت سے لوگ آپؓ کے پاس آنا چاہتے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اگر آپؓ چاہیں تو ہم اللہ کے لیے آپؓ کی مدد کرنے کی تیاری کر رہے ہیں ہم اللہ کی فوج بن جائیں اور انہیں ان کے بھولے ہوئے دن پھر سے یاد دلا دیں اور ان کی شرارتوں کا مزہ انہیں چکھا دیں، آپؓ ہمیں اس کی اجازت دیں حضرت عثمان غنیؓ نے فرمایا کہ نہیں میں تمہیں قتال کی اجازت نہیں دیتا۔


ان شئت کنا انصار اللہ مرتین قال فقال عثمانؓ اما القتال فلا


(طبقات ابن سعد: جلد 3 صفحہ 51) 


آپؓ سے جن لوگوں نے بھی قتال کی اجازت مانگی اور کہا کہ انہیں مقابلہ کی اجازت دیں تو آپؓ نے انہیں منع کر دیا اور فرمایا کہ میرے دفاع کی ضرورت نہیں اور تم اپنے ہاتھوں اور ہتھیاروں کو روکے رکھو۔ عامر بن ربیعہؓ کہتے ہیں 


ان اعظمکم عنی غناء رجل کف یدہ و سلاحہ۔


(سنن سعید بن منصور: جلد 2 صفحہ 336)


میرا سب سے بڑا مددگار وہ ہے جو میرے دفاع میں ہاتھ اور تلوار نہ اٹھائے۔


حضرت عثمان غنیؓ کے غلام آپ کی حمایت میں آگے بڑھنے اور آپؓ پر جان نچھاور کرنے کے لیے تیار تھے، صرف انہیں آپ کے حکم کا انتظار تھا۔ حضرت عثمانؓ نے جب انہیں دیکھا تو ارشاد فرمایا کہ تم میں سے جو شخص بھی اپنے ہاتھوں کو روک رکھے وہ آزاد ہے۔


من کف یدہ فھو حر۔


اعزم علی کل من رأی ان علیہ سمعا وطاعۃ الا کف یدہ و سلاحہ


حضرت حسنؓ نے آپؓ سے کہا کہ امیرالمؤمنینؓ میں حسن بن علیؓ ہوں آپؓ امام برحق ہیں آپؓ مجھے حکم دیں تو میں اس بلوہ کا راستہ روکوں


 تو امام برحق مرا فرمان دہ تابلائے ایں از قوم تو دفع کنم


(کشف المحجوب صفحہ52)


آپؓ نے فرمایا بھتیجے بیٹھ جائیے اور انتظار کیجیے کہ اللہ کیا فیصلہ فرماتے ہیں میرے لیے اب اس دنیا میں کوئی دلچسپی نہیں ہے یا فرمایا کہ میرے لیے جنگ میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔


اجلس یا ابن اخی حتیٰ یاتی اللّٰہ بامرہ فانہ لا حاجۃ لی فی الدنیا او قال فی القتال۔


صفحہ 4 از 5