شہادت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ قسط چہارم - ردِ رافضیت |…

شہادت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ قسط چہارم

  مولانا اقبال رنگونی

صفحہ 3 از 5

1) آپؓ باہر نکلیں اور ان کا مقابلہ کریں ہم آپؓ کے ساتھ ہیں آپؓ حق پر ہیں آپؓ کی حمایت میں لوگ کھڑے ہیں۔ 

2) آپؓ کے لیے پیچھے سے دروازہ کھولتے ہیں آپؓ وہاں سے نکل جائیں اور مکہ مکرمہ چلے جائیں وہاں کوئی شخص آپ کے خون سے ہاتھ رنگنے کی ہمت نہ کرے گا۔ 

3) ملک شام چلے جائیں وہاں حضرت معاویہؓ موجود ہیں، وہاں یہ لوگ کسی طرح آپؓ کو نقصان نہیں پہنچا سکتے.

حضرت عثمان غنیؓ نے اس کے جواب میں فرمایا 

اما ان اخرج فاقاتل فلن اکون اول من خلف رسول اللّٰہﷺ فی امتہ بسفک الدماء واما ان اخرج الی مکۃ فانہم لن یستحلونی بہا فانی سمعت رسول اللّٰہﷺ یقول یلحد رجل من قریش بمکۃ یکون علیہ نصف عذاب العالم فلن اکون ایاہ وانا ان الحق بالشام فانھم اہل الشام و فیھم معاویۃ فلم افارق دار ھجرتی ومجاورۃ رسول اللّٰہﷺ ۔ 

(مسند احمد: جلد 1 صفحہ 108)

(تاریخ دمشق: جلد 16 صفحہ217)

یہ نہیں ہو سکتا کہ میں حضورﷺ کا خلیفہ ہو کر امت مسلمہ کو خون ریزی میں جھونک دوں۔ اور مکہ مکرمہ اس لیے نہیں جا سکتا کہ حضورﷺ سے میں نے سنا ہے کہ جو قریشی حرم مکہ میں خون خرابہ کرے گا اور ظلم کرانے کا باعث بنے گا اس پر آدھی دنیا کے باشندوں کا عذاب ہوگا جہاں تک شام جانے کا تعلق ہے تو یہ اس لیے نہیں ہو سکتا کہ میں دار الہجرت اور حضورﷺ کی مجاورت اور ہمسائیگی نہیں چھوڑ سکتا۔



شہادت سیدنا عثمان غنیؓ

 قسط چہارم

ان ظالموں نے سیدنا عثمان غنیؓ کی ایک نہ سنی اور کھانے پینے کی چیزیں روک رکھیں، ام المؤمنین حضرت ام حبیبہؓ کو پتہ چلا کہ انہوں نے حضرت عثمانؓ کا پانی بند کر دیا ہے تو سیدہ ام حبیبہؓ ان کے لیے ایک مشکیزہ میں پانی لے کر آئیں، باغیوں نے ان کے خچر پر تلوار سے حملہ کیا تو خچر بدک کر بھاگنے لگا۔ اس دوران حضرت ام المؤمنینؓ گرتے گرتے بچیں، پھر آپؓ کو اپنے گھر پہنچا دیا گیا۔ ام المؤمنین حضرت صفیہؓ نے بھی حضرت عثمانؓ کی حمایت و نصرت میں کوئی کمی نہ کی سیدہ صفیہؓ نے کوشش کی کہ حضرت عثمانؓ تک کھانا اور پانی پہنچتا رہے۔


اس قدر سخت حالات میں بھی حضرت عثمانؓ صبر و تحمل کا پیکر بنے رہے، آپؓ نے ایک بیان میں لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:


️تم اللہ کو گواہ بنا کر بتانا کہ جب مسجد مسلمانوں کے لیے تنگ ہو گئی تھی اور حضورﷺ نے ساتھ والی زمین خریدنے کی ترغیب دی تو میں نے اپنے خالص مال سے وہ جگہ خریدی اور اسے مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا تھا اور آج یہ وقت آ گیا ہے کہ تم مجھے اسی مسجد میں دو رکعت نماز پڑھنے کے لیے بھی جانے سے روک رہے ہو۔


وانتم تمنعونی ان اصلی فیہ رکعتین۔


(البدایہ والنہایہ: جلد7 صفحہ 178) 


تم اللہ کو گواہ بن کر بتانا کہ جب حضورﷺ مدینہ تشریف لائے تو مسلمانوں کو میٹھے پانی کی سخت ضرورت تھی حضورﷺ نے بئر رومہ خریدنے کی ترغیب فرمائی تو میں نے اسے بھاری قیمت دے کر مسلمانوں کے لیے خرید لیا اور آج یہ وقت آ گیا ہے کہ تم نے اسی کا پانی میرے لیے روک دیا ہے۔


آپؓ نے انہی دنوں ایک اور بیان میں فرمایا کہ 


️تم میرے قتل کے درپے کیوں ہو میں نے کسی کو قتل نہیں کیا، نہ کبھی زنا کیا اور نہ میں اسلام سے پھرا ہوں۔


انی اشھد ان لا الہ الا اللّٰہ وان محمدا عبدہ ورسولہ


حضرت عثمان غنیؓ نے ان سے یہاں تک فرمایا کہ اے لوگو! میرے خون سے اپنے ہاتھوں کو نہ رنگنا، خدا کی قسم اگر تم نے ایسا کیا تو تم پھر کبھی اکٹھے نماز نہ پڑھ سکو گے، کبھی دشمنوں کے خلاف اکٹھے ہو کر جہاد نہ کر سکو گے، تم آپس میں مختلف ہو جاؤ گے۔


(طبقات: جلد 3 صفحہ 49)


(المصنف لابن ابی شیبہ: جلد 7 صفحہ 441)


پھر آپؓ نے قرآن پاک کی یہ آیت تلاوت فرمائی


وَ یٰقَوۡمِ لَا یَجۡرِ مَنَّکُمۡ شِقَاقِیۡۤ اَنۡ یُّصِیۡبَکُمۡ مِّثۡلُ مَاۤ اَصَابَ قَوۡمَ نُوۡحٍ اَوۡ قَوۡمَ ہُوۡدٍ اَوۡ قَوۡمَ صٰلِحٍ وَمَاقَوۡمُ لُوۡطٍ مِّنۡکُمۡ بِبَعِیۡدٍ 


(سورۂ ہود: آیت 89)


ترجمہ: اور اے میری قوم! میرے ساتھ ضد کا جو معاملہ تم کر رہے ہو، وہ کہیں تمہیں اس انجام تک نہ پہنچا دے کہ تم پر بھی ویسی ہی مصیبت نازل ہو جیسی نوحؑ کی قوم پر یا ہودؑ کی قوم پر یا صالحؑ کی قوم پر نازل ہوچکی ہے اور لوطؑ کی قوم تو تم سے کچھ دور بھی نہیں ہے۔


(المصنف لابن ابی شیبہ: جلد 7 صفحہ 442، ابن سعد جلد 3 صفحہ 52)


آپؓ نے فرمایا کہ کیا تمہیں پتہ نہیں کہ جب میں رسول اللہﷺ کے ساتھ پہاڑ پر کھڑا تھا اور پہاڑ حرکت کرنے لگا تو آپﷺ نے فرمایا اے احد ٹھہر جا تجھ پر ایک نبی ایک صدیق اور دو شہید کھڑے ہیں۔ کیا تم اس بات سے بےخبر ہو کہ جب حضورﷺ نے مکہ میں مشرکین کے پاس مجھے بھیجا اور میرے قتل کی افواہ پھیلی تو آپﷺ نے بیعت لی تھی اور اپنے دستِ مبارک کو میرا ہاتھ فرما کر بیعت لی تھی


(ایضاً: صفحہ 179)


حضرت عثمانؓ انہیں بار بار پوچھ رہے تھے کہ اگر انہوں نے کوئی سنگین جرم کیا ہو کہ جس کے نتیجے میں انہیں قتل کر دیا جائے یا ان سے خلافت چھین لی جائے تو وہ انہیں بتائیں مگر وہ ایک بھی ایسا جرم ثابت نہ کر سکے جس سے وہ اپنا مؤقف درست بتا سکیں۔ حضرت عثمان غنیؓ انہیں اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ کی جانے والی ان خدمات کو یاد دلاتے رہے جن کی حضورﷺ نے تعریف فرما کر آپؓ کو دعاؤں سے نوازا تھا مگر انہوں نے آپؓ کی ایک نہ سنی کیونکہ وہ سننے کے لیے آئے ہی نہ تھے، ان کا مقصد سوائے اس کے کچھ اور نہ تھا کہ اسلامی خلافت کا تختہ الٹ جائے اور مسلمانوں کو اندرونی خلفشار اور انتشار میں مبتلا کر دیا جائے تاکہ وہ دشمنوں کے بارے میں بالکل غافل ہو جائیں۔


صفحہ 3 از 5