شہادت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ قسط چہارم - ردِ رافضیت |…

شہادت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ قسط چہارم

  مولانا اقبال رنگونی

صفحہ 2 از 5

واللہ قد دفعت عنہ قد خشیت ان اکون آثما۔

(نہج البلاغہ: جلد 2 صفحہ 261) 

خدا کی قسم میں نے حضرت عثمانؓ کی طرف سے پورا دفاع کیا یہاں تک کہ مجھے خوف ہوا کہ کہیں میں گنہگار نہ ٹھہروں۔

حضرت عثمانؓ کے آس پاس جو حضرات موجود تھے یا جو لوگ کسی نہ کسی طریقے سے آپؓ کے پاس آسکتے تھے انہوں نے حالات کی سنگینی دیکھ کر حضرت عثمانؓ سے عرض کیا کہ اگر آپؓ ہمیں اجازت دیں تو ہم ان لوگوں سے قتال کریں اور انہیں ان کی اس حرکت کا سختی سے جواب دیں۔ حضرت عثمانؓ نے انہیں اس کی اجازت نہ دی اور نہایت سختی سے ان سب کو ہاتھ اٹھانے سے روک دیا، حضرت علیؓ نے پیغام بھیجا کہ میرے ساتھ پانچ سو کے قریب زرہ پوش لوگ موجود ہیں اگر آپ اجازت دیں تو انہیں آپؓ کے دفاع کے لیے بھیج دیا جائے اس لیے کہ آپؓ نے کوئی ایسا جرم نہیں کیا جس کی بناء پر آپؓ کا خون کرنا حلال ٹھہرے، آپؓ نے حضرت علیؓ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ آپؓ کو اس کی جزا دے میں پسند نہیں کرتا کہ میری وجہ سے یہاں خون خرابہ ہو۔

فانک لم تحدث شیئا یستحل بہ دمک فقال جزیت خیرا ما احب ان یھراق دم فی سببی

(تاریخ دمشق: جلد 16 صفحہ 220)

اب یہاں تک کہ اس جھوٹ کو بھی دیکھیں جو شیعہ علماء دن رات بولتے ہیں اور حضرت عثمانؓ کی شہادت پر خوش ہوتے ہوئے نہیں شرماتے

ہندوستان کے علاقہ اودھ کے ایک رافضی ملا حسین بخش کا بغضِ باطنی ملاحظہ کیجیے: وہ لکھتا ہے۔

قتل عثمان قطعی کوئی جرم نہیں تھا بلکہ یہ تو اسلامی معاشرے کے اعلیٰ مقاصد کے عین مطابق تھا اور خود حضرت علیؓ حضرت عثمانؓ کے دفاع کے لیے راضی نہ تھے۔

(امامت و ملوکیت: صفحہ 123) 

یہ جھوٹ نہیں تو اور کیا ہے؟ کیا حضرت علیؓ نے حضرت عثمانؓ کو دفاع کی پیشکش نہیں کی؟ آپؓ نے اپنے بچوں کو حضرت عثمانؓ کی حفاظت کے لیے نہیں بھیجا؟ کیا سیدنا حسن رضی اللہ عنہ حضرت عثمانؓ کی مدافعت کرنے میں زخمی نہیں ہوئے تھے؟ ان سب کے باوجود بھی اگر ملا حسین بخش اور اس قبیل کے لوگ جھوٹ پر جھوٹ بولتے رہیں تو پھر اس یقین سے چارہ نہیں کہ یہ لوگ واقعی ابن سبا کی روحانی اولاد ہیں۔ 

جلیل القدر صحابی حضرت زید بن ثابتؓ حضرت عثمانؓ کے پاس آئے اور کہا کہ بہت سے لوگ آپؓ کے پاس آنا چاہتے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اگر آپؓ چاہیں تو ہم اللہ کے لیے آپؓ کی مدد کرنے کی تیاری کر رہے ہیں ہم اللّٰہ کی فوج بن جائیں اور انہیں ان کے بھولے ہوئے دن پھر سے یاد دلا دیں اور ان کی شرارتوں کا مزہ انہیں چکھا دیں، آپؓ ہمیں اس کی اجازت دیں؛ حضرت عثمان غنیؓ نے فرمایا کہ نہیں میں تمہیں قتال کی اجازت نہیں دیتا۔

ان شئت کنا انصار اللہ مرتین قال فقال عثمانؓ اما القتال فلا

(طبقات ابن سعد: جلد 3 صفحہ 51) 

آپؓ سے جن لوگوں نے بھی قتال کی اجازت مانگی اور کہا کہ انہیں مقابلہ کی اجازت دیں تو آپؓ نے انہیں منع کر دیا اور فرمایا کہ میرے دفاع کی ضرورت نہیں اور تم اپنے ہاتھوں اور ہتھیاروں کو روکے رکھو۔ عامر بن ربیعہؓ کہتے ہیں 

ان اعظمکم عنی غناء رجل کف یدہ و سلاحہ

(سنن سعید بن منصور: جلد 2 صفحہ 336)

میرا سب سے بڑا مددگار وہ ہے جو میرے دفاع میں ہاتھ اور تلوار نہ اٹھائے۔

آپؓ کے غلام آپ کی حمایت میں آگے بڑھنے اور آپؓ پر جان نچھاور کرنے کے لیے تیار تھے، صرف انہیں آپ کے حکم کا انتظار تھا۔ حضرت عثمانؓ نے جب انہیں دیکھا تو ارشاد فرمایا کہ تم میں سے جو شخص بھی اپنے ہاتھوں کو روک رکھے وہ آزاد ہے۔

من کف یدہ فھو حر

اعزم علی کل من رأی ان علیہ سمعا وطاعۃ الا کف یدہ و سلاحہ

حضرت حسنؓ نے حضرت عثمان غنیؓ سے کہا کہ امیر المومنینؓ میں حسن بن علیؓ ہوں آپؓ امام برحق ہیں آپؓ مجھے حکم دیں تو میں اس بلوہ کا راستہ روکوں

 تو امام برحق مرا فرمان دہ تابلائے ایں از قوم تو دفع کنم

(کشف المحجوب: صفحہ 52)

آپؓ نے فرمایا بھتیجے بیٹھ جائیے اور انتظار کیجیے کہ اللہ کیا فیصلہ فرماتے ہیں میرے لیے اب اس دنیا میں کوئی دلچسپی نہیں ہے یا فرمایا کہ میرے لیے جنگ میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

اجلس یا ابن اخی حتیٰ یاتی اللّٰہ بامرہ فانہ لا حاجۃ لی فی الدنیا او قال فی القتال

حضرت حسنؓ گلے میں تلوار ڈالے حضرت عثمان غنیؓ کی مدافعت کے لیے تیار تھے حضرت عثمانؓ کو اس بات کا ڈر ہوا کہ کہیں حضرت حسنؓ کو کوئی نقصان نہ پہنچے، حضرت عثمان غنیؓ نے حضرت حسنؓ کو حکم دیا کہ وہ اپنے گھر جائیں یہ بات حضرت علیؓ کی دلجوئی کے لیے بھی تھی اور اس لیے بھی کہ حضرت حسنؓ کو گزند نہ پہنچے۔

حضرت عثمانؓ جانتے تھے کہ حضورﷺ کو مدینہ سے بڑی محبت تھی، یہ آپ ﷺ کا دار الہجرت ہے اور حضورﷺ یہاں آرام فرما ہیں۔ اب اگر آپؓ اپنے ساتھیوں کو بھی قتال کی اجازت دیں گے تو نتیجہ مسلمانوں کے خون کے ساتھ ساتھ مدینہ منورہ کی بےحرمتی کی صورت میں ہوگا اور حضرت عثمان غنیؓ یہ برداشت نہ کر سکتے تھے کہ مدینہ کی حرمت کسی طرح بھی پامال ہو۔

جب حضرت ابوھریرہؓ حضرت عثمانؓ کی حمایت میں تلوار لٹکائے نکلنے لگے تو حضرت عثمانؓ نے انہیں روکا اور فرمایا آپؓ اپنی تلوار پھینک دو میں تمہارے ہاتھوں کسی کا خون ہوتے نہیں دیکھنا چاہتا، کیا تو چاہتا ہے کہ تو ہم سب کو قتل کردے؟ اگر تو نے ایسا کیا تو یہ ایک آدمی کا قتل نہ ہوگا بلکہ پوری انسانیت کا قتل ہوگا.

فانک واللہ ان قتلت رجلا واحدا فکانما قتل الناس جمیعا قال فرجعت ولم اقاتل

(دیکھیے طبقات ابن سعد: جلد 3 صفحہ 51) 

فقال واللہ لئن قتلت رجلا واحدا فکانما قتل الناس جمیعا فرجعت ولم اقاتل

(سنن سعید بن منصور: جلد 2 صفحہ 334) 

(سنن ابنِ ماجہ: صفحہ 11) 

چونکہ حضورﷺ نے مجھے صبر کرنے کی تلقین فرمائی ہے اور میں نے آپﷺ سے اس بارے میں وعدہ کیا ہے سو میں اپنے وعدہ پر قائم ہوں، کوئی شخص بھی میرے لیے اپنی تلوار نہ اٹھائے۔ پھر آپؓ نے ہر اس شخص کو روک دیا جو آپؓ کی طرف سے ان باغیوں کا مقابلہ کرنا چاہتا تھا۔

انہی دنوں حضرت مغیرہ بن شعبہؓ آپؓ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ آپؓ عوام کے امام ہیں اور آپؓ جس حال سے دوچار ہیں وہ بھی آپ سے مخفی نہیں اس وقت تین باتوں میں سے کوئی ایک بات اختیار کرلیں 

صفحہ 2 از 5