خروج سیدنا حسین رضی اللہ عنہ شرعی میدان میں - دفاعِ اہلِ…

خروج سیدنا حسین رضی اللہ عنہ شرعی میدان میں

  ابو شاہین

صفحہ 2 از 2

مگر ابن زیاد نے ان کی اس نرمی اور ملائمت کے سامنے سرکشی کا مظاہرہ کیا، جبکہ اس پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی تھی کہ وہ آپ کا کوئی ایک مطالبہ تسلیم کر لیتا۔ اس کے برعکس اس نے نواسہ رسول اور فرزند سیدنا علی حسین رضی اللہ عنہ سے ایک بہت بڑی چیز کا مطالبہ کر ڈالا اور وہ یہ کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اس کا حکم تسلیم کریں۔ مگر یہ ایک فطری سی بات تھی کہ وہ اس مطالبے کو ردّ کر دیں اور انہوں نے واقعی اس کو ردّ کر دیا۔ اس لیے کہ ابن زیاد کے حکم کو تسلیم کرنے کے انجام کا اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کو علم نہیں تھا۔ یہ بھی ہو سکتا تھا کہ وہ انہیں قتل کرنے کا حکم صادر کر دے۔ پھر یہ بات بھی ہے کہ اس قسم کی پیش کش تو رسول اللہﷺ اعدائے اسلام حربی کفار کو کیا کرتے تھے، مگر حسینؓ کا شمار تو ان لوگوں میں نہیں ہوتا تھا، بلکہ وہ تو مسلمانوں کے سردار تھے اور ان کا شمار ان کے بہترین لوگوں میں ہوتا تھا۔ (مواقف المعارضۃ: صفحہ 329) اسی لیے ابن تیمیہ رحمتہ اللہ فرماتے ہیں: ابن زیاد کے اس ناروا مطالبے کو پورا کرنا ان پر واجب نہیں تھا (منہاج السنۃ: جلد، 4 صفحہ 550) اور حقیقت تو یہ ہے کہ ابن زیاد نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کے اقدام سے شرعی اور سیاسی پہلو کی مخالفت کی۔ (مواقف المعارضۃ: صفحہ 329)

ظالم تو ابن زیاد اور اس کا لشکر تھا جنہوں نے سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی صلح کی پیش کش کو ردّ کر دیا اور پھر انہیں قتل کرنے کے لیے کمربستہ ہو گئے پھر جہاں تک سیدھی حسین رضی اللہ عنہ کے لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے جذبہ خیر خواہی کا تعلق ہے، تو اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ وہ انہیں امام کے خلاف خروج کرنے والا سمجھتے تھے، جیسا کہ یوسف العش کا خیال ہے۔ (الدولۃ الامویۃ: صفحہ 158) بلکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے حق میں اہلِ کوفہ کی خطرناکی کا بخوبی ادراک تھا اور وہ ان کی کذب بیانی سے بخوبی آگاہ تھے۔ ان کی نصائح کی مختلف تعبیریں انہی مفاہیم پر محمول ہوں گی۔ (مواقف المعارضۃ: صفحہ 330)

ابن خلدون رقم طراز ہیں: ’’اس سے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی غلطی واضح ہوتی ہے، مگر یہ غلطی دنیوی معاملے میں تھی، جو ان کے لیے ضرر رساں نہیں ہے، جہاں تک شرعی حکم کا تعلق ہے تو انہوں نے اس میں غلطی نہیں کی تھی، اس لیے کہ اس کا تعلق ان کے ظن کے ساتھ تھا اور وہ اپنے ظن کی رُو سے اس پر قادر تھے۔ (المقدمۃ: جلد، 1 صفحہ 271) رہے وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جو حجاز، مصر، شام اور عراق میں موجود تھے، اور وہ لوگ جنہوں نے حضرت حسین ابن علی رضی اللہ عنہما کی متابعت نہ کی، تو انہوں نے نہ تو ان پر اس کا انکار کیا اور نہ انہیں اس کے لیے گناہ گار ٹھہرایا، اس لیے کہ وہ مجتہد تھے۔‘‘ (المقدمۃ ابن خلدون: جلد، 1 صفحہ 271)

ابن تیمیہ رحمتہ اللہ فرماتے ہیں: نبی کریمﷺ نے جن احادیث میں جماعت سے علیحدگی اختیار کرنے پر وعید سنائی ہے، ان کا سیدنا حسین رضی اللہ عنہ پر اطلاق نہیں ہوتا، اس لیے کہ انہوں نے جماعت سے علیحدگی اختیار نہیں کی تھی اور کسی کو قتل بھی نہیں کیا تھا۔ بلکہ انہوں نے اپنے وطن جانے کی اجازت دینے یا کسی سرحد پر بھیجنے یا یزید کے پاس بھجوانے کا مطالبہ کیا تھا، وہ جماعت میں داخل تھے اور امت کی تفریق سے گریزاں تھے، اگر یہ مطالبہ کوئی کم تر درجے کا آدمی بھی کرتا تو اسے پورا کرنا ضروری تھا پھر حسین رضی اللہ عنہ جیسے انسان کا یہ مطالبہ کیوں نہ تسلیم کیا گیا؟ (منہاج السنۃ: جلد،4 صفحہ 556 قدرے تصرف کے ساتھ) ان سے اس لیے جنگ نہیں کی گئی تھی کہ انہوں نے ولایت و حکومت کا مطالبہ کیا تھا، انہیں تین میں سے کسی ایک جگہ واپس جانے کی پیش کش کے بعد قتل کیا گیا، انہیں ازراہ ظلم قتل کیا گیا۔ (ایضاً: جلد، 6 صفحہ 340 قدرے تصرف کے ساتھ)


صفحہ 2 از 2