شیعہ کے نزدیک قبر حسین اور دیگر ائمہ کی قبور کی تقدیس و…

شیعہ کے نزدیک قبر حسین اور دیگر ائمہ کی قبور کی تقدیس و تعظیم

  ابو شاہین

صفحہ 4 از 5

مذکورہ بالا احادیث میں قبروں کی ہر قسم کی تعظیم کی صراحتاً ممانعت وارد ہوئی ہے، انہیں مسجدیں بنانے سے منع کیا گیا ہے اور ان پر عمارتیں کھڑی کرنے، انہیں پختہ کرنے اور ان پر لکھنے سے منع کیا گیا ہے، اور یہ نہی سب سے پہلے انبیاء اور صالحین کی قبروں سے متعلق ہے اور یہ اس لیے کہ دیگر لوگوں کے مقابلہ میں ان کے بارے میں غلو کا زیادہ خدشہ ہوتا ہے اور ان کا فتنہ زیادہ سنگین ہوتا ہے اور امر واقع بھی یہی ہے، اس لیے کہ ہر زیارت گاہ کے بارے میں یہی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اسے کسی ایسے نیک ولی اللہ کی قبرپر تعمیر کیا گیا ہے جو بڑے فضائل و مناقب کا حامل ہے اور اس سے بڑی بڑی کرامات کا صدور ہوتا ہے اور یہ کہ اس سے نفع کی امید کی جاتی ہے اور اس کے انتقام سے ڈرا جاتا ہے یا پھر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس جگہ کوئی نبی ہے جیسا کہ بہت سارے مقامات کے بارے میں ایسا کہا جاتا ہے۔ حالانکہ علماء نے اس امر کی تصریح کی ہے کہ ہمارے نبی کریمﷺ کی قبر شریف کے علاوہ کسی بھی نبی کے بارے میں یقین کی بنیاد پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ فلاں نبی کی قبر ہے۔ جیسا کہ فلسطین میں ابراہیم علیہ السلام کی قبر قبرِ خلیل کے نام سے معروف ہے۔ (الفتاوی: جلد، 27 صفحہ 140)

امام نووی گزشتہ حدیث نبوی کی تعلیق میں رقم طراز ہیں: ’’ نبی کریمﷺ نے اپنی قبر مبارک کو مسجد بنانے سے منع فرمایا اس لیے کہ آپ کو اس کی تعلیم میں مبالغہ آمیزی اور اس کی وجہ سے لوگوں کے فتنہ میں مبتلا ہونے کا خوف تھا، جس کا نتیجہ کفر کی صورت میں بھی سامنے آ سکتا تھا، جیسا کہ اکثر گزشتہ امتوں کے ساتھ ہوا۔ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین کو مسجد نبوی میں اضافہ کرنے کی ضرورت پڑی تو انہوں نے آپﷺ کی قبر شریف کے اردگرد گول دیوار کھڑی کر دی تاکہ وہ مسجد میں ظاہر نہ ہو سکے اور عوام الناس اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے سے امر محذور کے مرتکب نہ ہوں۔ پھر انہوں نے قبر کے شمال کی طرف دو ٹیڑھی دیواریں تعمیر کر دیں تاکہ کوئی شخص قبر شریف کی طرف منہ نہ کر سکے۔ اس لیے کہ حدیث میں آتا ہے کہ اگر یہ بات نہ ہوتی تو آپ کی قبر شریف کو ظاہر کر دیا جاتا۔ مگر آپ اس بات سے ڈرتے تھے کہ اسے مسجد نہ بنا لیا جائے۔ وَ اللّٰہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔‘‘ (شرح نووی: جلد، 5 صفحہ 12-13)

رسول اللہﷺ نے بلند قبروں کو برابر کرنے کا حکم جاری فرمایا تھا۔ ابو الہیاج اسدی سے مروی ہے کہ مجھ سے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں تجھے اس کام کے لیے نہ بھیجوں، جس کے لیے مجھے رسول اللہﷺ نے بھیجا تھا؟ اور وہ یہ کہ تجھے جو بھی مورتی نظر آئے اسے مٹا دے اور جو قبر اونچی نظر آئے اسے برابر کر دے۔ (شرح النووی: جلد، 7 صفحہ 34) 

یہ ہیں امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ جنہوں نے پولیس کے سربراہ ابو الہیاج اسدی کو قبریں برابر کرنے کے لیے بھیجا، جیسا کہ اس مقصد کے لیے انہیں رسول اللہﷺ نے بھیجا تھا۔ یعنی انہوں نے اس بارے میں آپﷺ کے حکم سے جو کچھ سمجھا اس کی تطبیق کا اپنے رئیس شرطہ کو حکم جاری فرمایا۔ (القبوریۃ فی الیمن: صفحہ 54)

علماء نے اس بات کی تصریح کر دی ہے کہ امت اسلامیہ کی ابتدائی بہترین صدیاں زیارت گاہوں کے وجود سے خالی تھیں، حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے سر کی زیارت گاہ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: خلافت عباسیہ کے آغاز اور اس کی استقامت کے دَور میں اس قسم کی چیزوں کا کہیں کوئی وجود نہیں تھا، قبل ازیں عہد صحابہ و تابعین اور تبع تابعین میں بھی بلاد اسلامی مثلاً حجاز، یمن، شام، عراق، مصر، خراسان اور مغرب میں بھی ان مشاہد کا کہیں نام و نشان تک نہیں تھا، نہ تو کسی نبی کی قبر پر نہ اہلِ بیت میں سے کسی ایک کی قبر پر اور نہ کسی صالح انسان کی قبر پر، زیادہ تر زیارت گاہیں اس کے بعد کی پیداوار ہیں۔ ان کا ظہور اور انتشار اس وقت ہوا جب بنو عباس کی خلافت کمزور پڑ گئی، امت کی وحدت تقسیم ہو گئی، زنادقہ کی کثرت ہو گئی اور بدعت پرستوں کا پروپیگنڈا عام ہو گیا اور یہ تین ہجری کے اواخر میں مقتدر باللہ کی حکومت کے ایام میں ہوا۔ ان دنوں ارضِ مغرب میں قرامطہ عبیدیہ کا ظہور ہوا، بعد ازاں وہ مصر تک جا پہنچے۔ اس کے قریب ہی بنو بویہ کا ظہور ہوا جن کے زیادہ تر لوگ زندیق اور پرلے درجے کے بدعتی تھے، ان کی دولت میں سرزمین مصر میں بنو قداح نے زور پکڑا اور پھر انہی کی ریاست میں ہی نجف کے نواح میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب زیارت گاہ کا ظہور ہوا۔ قبل ازیں کوئی شخص بھی اس جگہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی قبر کا قائل نہیں تھا، انہیں تو کوفہ میں قصر امارت میں دفن کیا گیا تھا۔ ہارون الرشید سے مروی ہے کہ وہ وہاں ایک قطعہ ارضی پر آیا اور وہاں مدفون شخص سے معذرت کرنے لگا، لوگ کہنے لگے کہ یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی قبر ہے اور یہ ان سے اس زیادتی پر معذرت کر رہا ہے، جو ان کی اولاد کے ساتھ روا رکھی گئی۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی قبر تھی، جبکہ بعض کے نزدیک وہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی قبر تھی۔ (سیر اعلام النبلاء: جلد، 16 صفحہ 250-251)

امام ذہبی رحمہ اللہ عضد الدولہ ’’بویہی‘‘ کے حالات زندگی کے ضمن میں لکھتے ہیں: ’’یہ غالی رافضی تھا جس نے نجف میں ایک قبر تیار کر کے مشہور کر دیا کہ یہ حضرت علیؓ کی قبر ہے پھر اس نے اس پر زیارت گاہ تعمیر کر دی، اور اس پر رافضیوں کی علامات کھڑی کر کے عاشورۂ محرم کا ماتم شروع کروا دیا، میں کہتا ہوں: 400 ہجری میں اسلام پر مغرب میں دولت عبیدیہ کی وجہ سے، مشرق میں دولت بویہیہ اور قرامطہ اعرابیوں کی وجہ سے شدید آفت ٹوٹی، مگر اختیارات کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔‘‘ (البدایۃ و النہایۃ: جلد، 11 صفحہ 223)

صفحہ 4 از 5