امر خلافت پر دو نظریے (اہلسنت و اہل تشیع) ایک اعتراض کا رد…

امر خلافت پر دو نظریے (اہلسنت و اہل تشیع) ایک اعتراض کا رد

  جعفر صادق

صفحہ 3 از 3

وَ الَّذِیۡنَ اسۡتَجَابُوۡا لِرَبِّہِمۡ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ ۪ وَ اَمۡرُہُمۡ شُوۡرٰی بَیۡنَہُمۡ ۪ وَ مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ  یُنۡفِقُوۡنَ ﴿38﴾

ترجمہ  : 

اور اپنے رب کے فرمان کو قبول کرتے ہیں اور نماز کی پابندی کرتے ہیں اور ان کا (ہر) کام آپس کے مشورے سے ہوتا ہے اور جو ہم نے انہیں دے رکھا ہے اس میں سے (ہمارے نام پر) دیتے ہیں ۔

معترض نے پہلے نظریے کو اجماع امت کا تسلیم کر کے بھی اس کا انکار کر کے براہ راست اس آیت کی بھی مخالفت کی ہے۔

 والمحصنت   سورہ النسآء : آیت 115

وَ مَنۡ یُّشَاقِقِ الرَّسُوۡلَ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الۡہُدٰی وَ یَتَّبِعۡ غَیۡرَ  سَبِیۡلِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰی وَ نُصۡلِہٖ جَہَنَّمَ ؕ وَ سَآءَتۡ مَصِیۡرًا ﴿115﴾

ترجمہ :

جو شخص باوجود راہ ہدایت کے واضح ہوجانے کے بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف کرے اور تمام مومنوں کی راہ چھوڑ کر چلے، ہم اسے ادھر ہی متوجہ کردیں گے جدھر وہ خود متوجہ ہو اور دوزخ میں ڈال دیں گے وہ پہنچنے کی بہت ہی بری جگہ ہے۔

♦️ نوٹ: اگر کوئی شیعہ اہل علم اس تحریر کا رد لکھنا چاہے تو شوق سے کوشش کرے لیکن دلائل کا جواب دلائل سے ہی دیا جائے۔

 


صفحہ 3 از 3