امر خلافت پر دو نظریے (اہلسنت و اہل تشیع) ایک اعتراض کا رد…

امر خلافت پر دو نظریے (اہلسنت و اہل تشیع) ایک اعتراض کا رد

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 3

اس کے بعد شیعہ نے تین آیات پیش کی ہیں تاکہ ثابت ہوسکے کہ گذشتہ خلفاء اللہ عزوجل نے مقرر فرمائے اس لئے خلافت منصوص من اللہ مرتبہ ہے۔

  إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً

  يَا دَاوُدُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ

  قَالَ مُوْسٰى لِاَخِیْهِ هٰرُوْنَ اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ 

شیعہ استدلال  

ان آیات سے بخوبی متشرح ہوجاتا ہے کہ عقد خلافت الٰہی امر ہے، اور مومنین کے لیے جس موعودہ خلافت کا ذکر قران میں کیا جارہا ہے وہ انہی سابقہ خلافتوں کی طرح سے منصوص من اللہ ہے۔ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ صرف اسی صورت میں صادق آتا ہے

بصورت دیگراں لازم ہے کہ آپ قران یا حدیث سے سقیفہ کے طرز کی مثال پیش کریں؟؟؟؟

  الجواب: پہلی آیت میں زمین میں انسان کو خلیفہ بنانے کا ذکر ہے، اس سے مراد حکمران ہونا ہرگز نہیں ہے۔ 

 الم   سورہ البقرة : آیت 30

وَ  اِذۡ قَالَ رَبُّکَ لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیۡ جَاعِلٌ فِی الۡاَرۡضِ خَلِیۡفَۃً ؕ قَالُوۡۤا اَتَجۡعَلُ فِیۡہَا مَنۡ یُّفۡسِدُ فِیۡہَا وَ یَسۡفِکُ الدِّمَآءَ ۚ وَ نَحۡنُ نُسَبِّحُ بِحَمۡدِکَ وَ نُقَدِّسُ لَکَ ؕ قَالَ اِنِّیۡۤ اَعۡلَمُ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿30﴾

ترجمہ   : 

اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں خلیفہ بنانے والا ہوں تو انہوں نے کہا کہ ایسے شخص کو کیوں پیدا کرتا ہے جو زمین میں فساد کرے اور خون بہائے ہم تیری تسبیح اور پاکیزگی بیان کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔ 

استدلال: اگر شیعہ اس آیت سے خلافت منصوص من اللہ ثابت کرتے ہیں تو جواب دیں کہ فرشتوں نے اسی خلیفہ کے متعلق یہ کیوں کہا کہ وہ زمین میں فساد پیدا کریں گے؟ کیا شیعہ کے نزدیک خلیفہ جو منصوص من اللہ ہے وہ زمین میں فساد کا ذمیدار ہوگا؟

صاف ظاہر ہے کہ آیت میں خلیفہ عمومی طور پر تمام بنی نوع انسانی یعنی اشرف المخلوقات کے خلیفہ بنانے کا ذکر ہے، اس سے مراد حکمران ہونا یا خلیفہ منصوص من اللہ ہونا ہرگز نہیں ہے۔

2:  ومالی :  سورۃ ص : آیت 26

یٰدَاوٗدُ  اِنَّا جَعَلۡنٰکَ خَلِیۡفَۃً فِی الۡاَرۡضِ فَاحۡکُمۡ بَیۡنَ النَّاسِ بِالۡحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعِ الۡہَوٰی فَیُضِلَّکَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ اِنَّ الَّذِیۡنَ یَضِلُّوۡنَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ  لَہُمۡ عَذَابٌ شَدِیۡدٌۢ بِمَا نَسُوۡا یَوۡمَ الۡحِسَابِ  ﴿26﴾

ترجمہ: اے داؤد ! ہم نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنا دیا تم لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کرو اور اپنی نفسانی خواہش کی پیروی نہ کرو ورنہ وہ تمہیں اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی، یقیناً جو لوگ اللہ کی راہ سے بھٹک جاتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے اس لئے انہوں نے حساب کے دن کو بھلا دیا ہے۔

3: قال الملاء   سورہ الاعراف : آیت 142

وَ وٰعَدۡنَا  مُوۡسٰی ثَلٰثِیۡنَ  لَیۡلَۃً وَّ اَتۡمَمۡنٰہَا بِعَشۡرٍ فَتَمَّ  مِیۡقَاتُ رَبِّہٖۤ اَرۡبَعِیۡنَ  لَیۡلَۃً ۚ وَ قَالَ مُوۡسٰی  لِاَخِیۡہِ ہٰرُوۡنَ  اخۡلُفۡنِیۡ  فِیۡ  قَوۡمِیۡ وَ اَصۡلِحۡ  وَ لَا تَتَّبِعۡ  سَبِیۡلَ  الۡمُفۡسِدِیۡنَ ﴿142﴾

 ترجمہ  : 

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس رات مزید سے ان تیس راتوں کو پورا کیا۔ سو ان کے پروردگار کا وقت پورے چالیس رات کا ہوگیا اور موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) سے کہا کہ میرے بعد ان کا انتظام رکھنا اور اصلاح کرتے رہنا اور بد نظم لوگوں کی رائے پر عمل مت کرنا۔

استدلال:

  ان آیات میں نبیوں کو زمین کا حکمران بنانے کا ذکر ہے۔ بیشک حکمران بھی اللہ عزوجل ہی بناتا ہے لیکن نبوت اور خلافت الگ عہدے ہیں۔ ہر نبی حکمران ہو یہ ضروری نہیں ،  خلافت کا منصب اگر واقعی منصوص من اللہ ہوتا تو سوا لاکھ نبی خلیفہ بمعنی حکمران بھی ہوتے، لیکن انہیں خلیفتہ اللہ تو کہا جاتا ہے لیکن ان میں سے کچھ حکمران بادشاہ ہوئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ خلافت بمعنی حکمرانی اللہ کی الگ نعمت ہے۔ بیشک نبیوں کی حکمرانی منصوص من اللہ ہے لیکن اہم سوال یہ ہے کہ شیعہ نبیوں کی خلافت سے غیر نبی کی خلافت منصوص من اللہ کیسے ثابت کرتے ہیں؟ 

 غیر نبی خلیفتہ اللہ نہیں بلکہ خلیفتہ رسول ہوتے ہیں۔ آیت استخلاف میں خلیفتہ رسول کا وعدہ کیا گیا ہے جو خلفائے راشدین کے دور میں اس طرح پورا ہوا کہ تمام وعدے  من وعن پورے ہوئے۔

شیعہ کو چاہئے کہ اس امت سے پہلے نبیوں کے جانشین اگر منصوص من اللہ تھے تو ان کے متعلق دلائل پیش کرے۔ سوا لاکھ انبیائے کرام سے دس پندرہ نہیں صرف ایک ایسا جانشین یا خلیفہ رسول دکھائے جو معصوم بھی تھا اور منصوص من اللہ بھی تھا تاکہ ہم اس دلیل سے امت مسلمہ کے لئے بھی خلیفہ منصوص من اللہ تسلیم کریں۔

  ایک آخری بات

عقد خلافت ہو یا بادشاھت یا دنیا کا کوئی بھی کام ہو بلکہ ایک پتہ بھی اگر ہلتا ہے تو مرضی و منشاء الہی ضرور شامل ہوتی ہے، لیکن ہر عمل کا طریقہ کار مختلف ہے۔ انبیائے کرام اللہ کے خاص بندے ہیں جو مرتبہ نبوت پر فائز ہوتے ہیں لحاظہ عصمت ان کے لئے لازم ہے، تاکہ براہ راست احکامات پہنچانے میں غلطی ، لغزش کا کوئی امکان نہ ہو۔ نائب رسول یا خلیفہ رسول کا فریضہ شریعت نبی پر عمل کرانا ہے، وہ براہ راست شریعت لانے یا اس میں تبدیلی کا اختیار ہی نہیں رکھتا اس لئے اس کے لئے عصمت شرط ہی نہیں اور نہ اس عہدے کو منصوص من اللہ کہہ کر مخصوص شخصیات کو مقرر کردیا جاتا۔

سقیفہ بنی ساعدہ میں “انتخاب خلیفہ” مشاورت کے بعد ہوا، جن شخصیات نے کیا وہ براہ راست نبی کی تربیت یافتہ جماعت کی اہم شخصیات تھیں۔

دور نبوی سے تمام اجتماعی، سیاسی مسائل آپس کے صلاح و مشورہ سے طے کئے جاتے تھے اور اس اہم امتیازی خصوصیت کو قرآن کریم (سورة آل عمران آیت 159)میں بھی ذکر کیا گیا ہے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) احکام منصوصہ کے سوا ہر قسم کے مصالح ملکی کے بارے میں صحابہ (رض) سے مشورہ کرتے اور ان کے مشورے قبول فرمایا کرتے تھے اور بعد میں خلافت راشدہ کی بنیاد ہی شوری پر رکھی گئی اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کا انتخاب بھی اسی اصل کے تحت ہوا۔

 

الیہ یرد   سورہ الشورى : آیت 38

صفحہ 2 از 3