حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے سر مبارک کے مکان کے بارے میں…

حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے سر مبارک کے مکان کے بارے میں تحقیق

  ابو شاہین

صفحہ 4 از 4

اس رائے کی تائید حافظ ابو یعلی ہمدانی کے اس قول سے بھی ہوتی ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے سر کو ان کی ماں فاطمہ بنت رسول اللہﷺ کی قبر کے قریب دفن کیا گیا اور یہ اس بارے میں صحیح ترین قول ہے۔ (مواقف المعارضۃ: صفحہ 320) زبیر بن بکارؒ اور محمد بن حسن مخزومیؒ جیسے علمائے نسب کا بھی یہی مذہب ہے۔ (التذکرۃ: جلد، 2 صفحہ 295) ابن ابو المعالی اسعد بن عمار نے اپنی کتاب ’’الفاصل بین الصدق و اعین فی مقر رأس الحسین‘‘ میں ذکر کیا ہے کہ ابن ابی الدنیا، ابو الموید خوارزمی اور ابوالفرج ابن الجوزی جیسے ثقہ علماء کی ایک جماعت نے اس بات کو تاکیدکے ساتھ ذکر کیا ہے کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا سر مبارک مدینہ منورہ میں بقیع میں مدفون ہے۔ (ایضاً) اس بارے میں قرطبی نے بھی ان کی متابعت کی ہے۔ (الرد علی المتعصب العنید نقلا عن مواقف المعارضۃ: صفحہ 323) زرقانی فرماتے ہیں: ابن دحیہ فرماتے ہیں کہ اس کے علاوہ دوسرا کوئی قول صحیح نہیں ہے۔ (التذکرۃ: جلد، 2 صفحہ 295 مواقف المعارضۃ: صفحہ 324)

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا اس طرف میلان ہے کہ سر حضرت حسین ابن علی رضی اللہ عنہما کو یزید نے مدینہ میں اپنے والی عمرو بن سعید کے پاس مدینہ بھیجا اور اس سے مطالبہ کیا کہ اسے ان کی ماں فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پہلو میں دفنایا جائے۔ وہ اپنے اس قول کی وجہ بتاتے ہوئے فرماتے ہیں: رأس حسین رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ منتقل کرنے کا ذکر کرنے والے قابل اعتماد علماء اور ثقہ مورخین ہیں، مثلاً زبیر بن بکارؒ مؤلف ’’کتاب الانساب‘‘ اور محمد بن سعد، واقدی کے کاتب اور مؤلف ’’طبقات‘‘ اور ان جیسے دوسرے لوگ جو علم ثاقت اور اطلاع کے ساتھ معروف ہیں اور وہ اس موضوع کے بارے میں زیادہ علم رکھتے اور زیادہ سچے ہیں ۔ ایسا ہو سکتا ہے کہ ایک آدمی صادق تو ہو مگر اسے اسانید کا تجربہ نہ ہو، اس طرح وہ مقبول اور مردود میں فرق کرنے سے قاصر ہوتا ہے کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ آدمی کا حافظہ خراب ہوتا ہے یا وہ روایت میں کذب بیانی اور جعل سازی کے ساتھ متہم ہوتا ہے، جیسا کہ اکثر اخباریین اور مؤرخین کا حال ہے۔ (رأس الحسین: صفحہ 180)

ابو عمر عبداللہ بن محمد الہادیؒ فرماتے ہیں: اسی طرح انہوں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے سر مبارک کی جگہ کے بارے میں بھی اختلاف کیا ہے۔ ان میں سے ہر کسی کا یہ مقصد ہے کہ وہ اسے اپنے پاس موجود ثابت کر سکے تاکہ زیارات کی کثرت ہو، قبر پر زیادہ سے زیادہ مال اکٹھا ہو تاکہ اس کے مجاوروں، متولیوں اور گدی نشینوں کو بکثرت مال میسر آئے۔ اس اختلاف کی وجہ سے انہوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے تین سر بنا ڈالے۔ حالانکہ ان کا سر تو ایک ہی تھا۔ (شرح الصدور بـبـیان بدع الجنائز والقبور: صفحہ 127) تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ حضرت حسین ابن علی رضی اللہ عنہما کا جسم تو کربلا میں جبکہ ان کا سر مدینہ منورہ کے جنت البقیع میں مدفون ہے۔ وَ اللّٰہُ اَعْلَمُ۔


صفحہ 4 از 4