حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے سر مبارک کے مکان کے بارے میں…

حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے سر مبارک کے مکان کے بارے میں تحقیق

  ابو شاہین

صفحہ 3 از 4

نویری رقم طراز ہے: ’’عسقلان میں مقیم ایک شخص نے خواب میں دیکھا کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا سر فلاں جگہ مدفون ہے، تو اس نے وہ جگہ اکھیڑ دی۔ یہ مصر کے حکمران مستنصر باللہ عبیدی کے دَورِ حکومت اور بدر جمالی کی وزارت کے ایام کا واقعہ ہے۔ بدر جمالی نے اس پر عسقلان میں مشہد (زیارت گاہ) تعمیر کروا دیا۔‘‘ (نہایۃ الادب: جلد، 20 صفحہ 427) اس کے بعد افضل نے اسے نکال کر اسے خوشبو میں بسایا اور عسقلان میں ہی ایک دوسری جگہ دفنا کر اس پر ایک بڑا مشہد تعمیر کر دیا۔ (اتعاظ الحنفاء، مقریزی: جلد، 3 صفحہ 22)ہو سکتا ہے کہ آپ محض ایک شخص کے خواب کی بنیاد پر عبیدیین کی طرف سے اس سر پر مشہد تعمیر کرنے کے لیے ان کی جلد بازی پر حیران ہوں۔ لیکن اگر آپ عبیدیین کی تاریخ سے واقف ہوں، تو معاملہ اس حدیث تک قابل تعجب نہیں رہے گا۔ چونکہ انہیں اس بات کا بخوبی احساس تھا کہ لوگ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کی نسبت کی تصدیق نہیں کرتے، لہٰذا انہوں نے اپنی اس کمزوری کو چھپانے کے لیے عسقلان میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے سر کی موجودگی کا پروپیگنڈا کیا اور اسے بہت زیادہ اہمیت دیتے ہوئے اس پر مشہد تعمیر کر دیا اور اس کی تحسین و تجمیل کے لیے بھاری رقوم خرچ کیں، تاکہ لوگ ان کے دعویٰ کی تصدیق کرتے ہوئے یہ کہنا شروع کر دیں کہ اگر انہیں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ نسبی تعلق نہ ہوتا، تو وہ اس حد تک اس کا اہتمام نہ کرتے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کا ایک سیاسی مقصد بھی تھا، اور وہ تھا بلاد شام میں قائم ہونے والی چھوٹی چھوٹی سنی ریاستوں کے مقابلہ کی کوشش کرنا اور یہ بات سبھی کے علم میں ہے کہ مستنصر باللہ عبیدی کی حکومت کا سنی دولت سلاجقہ کے ساتھ پالا پڑا، جس کا قائد طغرل بک سلجوقی 447 ہجری میں بغداد میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ (النجوم الزاہرۃ: جلد، 5 صفحہ 57)

عسقلان میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے سر کو نئے سرے سے وجود دینا اور پھر اسے مصر منتقل کرنا صرف عبیدی منصوبہ تھا اور اس کی دلیل یہ ہے کہ مستنصر فاطمی سے قبل کسی بھی کتاب میں یہ بات وارد نہیں ہوئی تھی کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا سر عسقلان میں موجود و مدفون ہے، اس سے عبیدیین کی کذب بیانی اور اس بارے میں ان کے مخصوص اغراض و مقاصد کا پتا چلتا ہے۔ (مواقف المعارضۃ: صفحہ 319)

ابن تیمیہ رحمہ اللہ ذکر کرتے ہیں کہ جس سر کے بارے میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ حضرت حسین ابن علی رضی اللہ عنہما کا سر ہے تو اس کی اس کے علاوہ اور کوئی اصلیت نہیں ہے کہ وہ ایک راہب کا سر تھا۔ (رأس الحسین: صفحہ 187 نقلا عن مواقف المعارضۃ: صفحہ 320) 

ابن دحیہ نے اپنی کتاب ’’العلم المشہور‘‘ میں عسقلان یا مصر میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے وجود کے کذب پر اجماع نقل کیا ہے، جس طرح کہ انہوں نے قاہرہ میں موجود مشہد حسینی کے کذب و افتراء پر اجماع نقل کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ عبیدیین کی اختراع ہے اور انہوں نے اپنے مذموم مقاصد کے لیے اس مشہد کو تعمیر کیا، آخر اللہ نے اس حکومت کا خاتمہ فرمایا اور یوں ان کے مذموم مقاصد کو ناکامی سے دوچار کر دیا۔ (رأس الحسین: صفحہ 186 نقلا عن مواقف المعارضۃ: صفحہ 320) سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی مصر میں موجودگی کا ان علماء و محققین نے انکار کیا ہے:

ابن دقیق العید، ابو محمد بن خلف دمیاطی، ابو محمد بن قسطلانی اور ابو عبداللہ قرطبی وغیرہم۔

ابن کثیر رحمتہ اللہ فرماتے ہیں: مصر کے حکمران فاطمی گروہ نے دعویٰ کیا ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا سر مصر پہنچا، تو انہوں نے اسے وہاں دفن کیا اور اس پر مصر میں موجود مشہد تعمیر کیا، جسے تاج الحسین کہا جاتا ہے۔ متعدد ائمہ اہل علم نے اس امر کی وضاحت کی ہے کہ اس دعویٰ کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور اس میں وہ جھوٹے اور خائن ہیں۔ اس کی تنصیص قاضی باقلانی اور ان کی دولت کے کئی جید علماء نے کی ہے۔ میں کہتا ہوں: اکثر لوگوں نے ان کے اس دعویٰ کو تسلیم کر لیا کہ انہوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو عسقلان سے لا کر مسجد مذکور میں دفن کیا۔ (رأس الحسین: صفحہ 186-187)

(6) مدینہ طیبہ

جن شہروں کا اوپر ذکر ہوا ان میں حضرت حسین ابن علی رضی اللہ عنہما کے سر مبارک کا وجود ثابت کرنے کے لیے ہمارے پاس کوئی معتبر دلیل نہیں ہے۔ اب ہمارے سامنے صرف مدینہ منورہ ہی باقی رہ گیا ہے۔ ابن سعدؓ نے ذکر کیا ہے کہ یزید نے حضرت حسینؓ کا سر مبارک والی مدینہ عمرو بن سعید کے پاس مدینہ منورہ بھجوا دیا۔ اس نے اسے کفن دیا اور اسے ان کی والدہ فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں بقیع میں دفنا دیا۔ (البدایۃ و النہایۃ: جلد، 11 صفحہ 582)

ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان کے بقیع میں دفنانے کی شہادت قوم کی عادت سے بھی ملتی ہے۔ وہ لوگ فتنہ کے دَور سے گزر رہے تھے۔ جب ان میں سے کوئی آدمی قتل ہو جاتا، تو وہ اس کا سر اور جسم اس کے اہل خانہ کے حوالے کر دیتے تھے، جیسا کہ حجاج بن یوسف نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا، اس نے انہیں قتل کرنے اور مصلوب کرنے کے بعد ان کی لاش کو ان کے اہل خانہ کے حوالے کر دیا تھا اور یہ بات سبھی کے علم میں ہے کہ حجاج کا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے قتل کرنے کے لیے کوشاں ہونا اور ان کے درمیان جس قسم کی جنگ تھی، وہ صورت حال اس سے کہیں سنگین تھی جو حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے مخالفین کے درمیان تھی۔ (الطبقات: جلد، 5 صفحہ 238 تاریخ الاسلام: صفحہ 20 حوادث: (60-81 ہجریۃ))

صفحہ 3 از 4