حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے سر مبارک کے مکان کے بارے میں…

حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے سر مبارک کے مکان کے بارے میں تحقیق

  ابو شاہین

صفحہ 2 از 4

 سبط ابن جوزی اس خبر کو وارد کرنے کے ساتھ منفرد ہیں کہ آپ کے سر مبارک کو رقہ میں دفن کیا گیا، فرماتے ہیں: حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا سر دریائے فرات کے کنارے رقہ کی مسجد میں مدفون ہے۔ جب آپ کا سر یزید کے سامنے رکھا گیا تو وہ کہنے لگا: میں اسے رقہ میں مقیم آل ابو معیط کے پاس بھیجوں گا۔ انہوں نے اسے اپنی کسی حویلی میں دفن کر دیا۔ بعدازاں یہ حویلی جامع مسجد میں شامل ہو گئی۔(شخصیات اسلامیۃ، عقاد: جلد، 3 صفحہ 298 مواقف المعارضۃ: صفحہ 314)

 مگر یہ خبر غیر معتبر ہے اور اس روایت کی سند بھی غیر موجود ہے۔ مزید برآں اس خبر میں واضح نکارت ہے اس لیے کہ یہ ان صحیح نصوص کے برعکس ہے، جن سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ آل حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ یزید نے اچھا سلوک کیا۔ (مواقف المعارضۃ: صفحہ 314) یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مذکورہ سبط ابن جوزی کے بارے میں امام ذہبی فرماتے ہیں: میں نے اس کی ایک کتاب دیکھی ہے جو اس کے تشیع پر دلالت کرتی ہے۔ (السیر: جلد، 23 صفحہ 297)

(4) عسقلان

 محققین کی ایک جماعت اس خبر کا انکار کرتی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے سر مبارک کو عسقلان میں دفن کیا گیا تھا۔ قرطبی فرماتے ہیں: یہ قول بالکل باطل ہے کہ آپ کا سر عسقلان میں مدفون ہے۔ (التذکرۃ: جلد، 2 صفحہ 295) ابن تیمیہ بھی رأس حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی عسقلان میں موجودگی کا انکار کرتے ہیں۔ (تفسیر سورۃ الاخلاص لابن تیمیۃ: صفحہ 264) ابن کثیرؒ بھی اس سے انکاری ہیں۔ (البدایۃ و النہایۃ: جلد، 11 صفحہ 583)

(5) قاہرہ

لگتا ہے کہ عبیدی (فاطمی) حکمرانوں کا جادو اکثر لوگوں پر چل گیا۔ جب 549 ہجری میں صلیبیوں نے عسقلان پر قبضہ کرنے کا پروگرام بنایا، تو فاطمی وزیر صالح طلائع بن زریک اپنے لشکر کے ساتھ ننگے پاؤں صالحیہ کی طرف نکلا اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا سر لے کر اسے سبز رنگ کے ریشمی کپڑے میں لپیٹ کر آبنوس کی کرسی پر رکھ دیا اور اس کے نیچے عنبر، کستوری اور خوشبو کا چھڑکاؤ کیا اور پھر خان خلیلی کے قریب مشہد حسینی میں دفن کر دیا اور یہ اتوار 8 جمادی الاولیٰ 548 ہجری کا واقعہ ہے۔ (المقریزی: جلد، 1 صفحہ 427 بدائع الزہور: جلد، 1 صفحہ 227) فاروقی نے ذکر کیا ہے کہ فاطمی خلیفہ خود باہر نکلا اور حضرت حسین ابن علی رضی اللہ عنہما کا سر اٹھا کر لایا (تاریخ میارقین: صفحہ 70) اور شبنجی نے ذکر کیا ہے کہ فاطمی وزیر صالح طلائع نے فرنگیوں کے عسقلان پر قبضہ جما لینے کے بعد بڑی بھاری رقم ادا کر کے ان سے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا سر مبارک حاصل کیا۔ (نور البصائر: صفحہ 121 مشاہد الصفا: صفحہ 312)

بعض مؤرخین نے یہ ثابت کرنے کی بڑی کوشش کی ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا سر مبارک واقعی عسقلان سے مصر منتقل کیا گیا تھا اور مصر میں موجود حسینی مشہد کو حقیقتاً رأس حسین رضی اللہ عنہ پر تعمیر کیا گیا۔ (مواقف المعارضۃ: صفحہ 317) متاخرین میں سے ایک شخص حسین محمد یوسف نے ثابت کیا ہے کہ مشہد حسینی میں مدفون سر واقعی حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا سر ہے اور اس کے علاوہ جتنے بھی اقوال ہیں وہ سب غلط ہیں، اس کے لیے اس نے بعض صوفیہ کے خوابوں سے استدلال کیا ہے، اس کے ساتھ ساتھ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ رأس سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے قاہرہ میں موجود ہونے کی وجہ شک کا یقین کے ساتھ متعارض ہونا ہے اور یقین ’’اصحاب کشف‘‘ ہیں۔ (الحسین سیّد شباب اہل الجنۃ: صفحہ 149-153) 

مگر یہ استدلال تو عقل، منطق اور علمی دلیل پر مبنی نہیں ہے، چہ جائیکہ یہ استدلال اسلامی منہج کے قواعد پر مبنی ہو۔ قاہرہ میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے وجود پر استدلال اس کی اسی دلیل پر مبنی ہے کہ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا سر عسقلان میں مدفون تھا۔ جبکہ ہم کچھ دیر قبل اس کا بطلان ثابت کر چکے ہیں۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ قاہرہ میں لایا گیا سر اور اس پر تعمیر کردہ مشہور مشہد حسینی یہ سب کچھ کذب ہے اور اس کا رأس حسینؓ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اور جب یہ بات ثابت ہو گئی کہ عسقلان میں مدفون سر اصلاً حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا سر نہیں تھا، تو یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کس نے دعویٰ کیا کہ حضرت حسین ابن علی رضی اللہ عنہما کا سر عسقلان میں مدفون تھا اور یہ سر کس کا تھا؟

صفحہ 2 از 4