واقعہ شہادت خلیفہ دوم سیدنا عمررضی اللہ عنہ - ردِ رافضیت |…

واقعہ شہادت خلیفہ دوم سیدنا عمررضی اللہ عنہ

  مولانا اقبال رنگونی

صفحہ 4 از 5

سیدنا عمؓر نے دوسرے سب حضرات کو وصیت کرتے ہوئے کہا کہ تم سب لوگ الله کی کتاب کو مضبوطی سے تھامے رکھنا اور اگر تم اس پہ چلو گے تو کبھی راہ راست سے نہیں ہٹو گے۔پھر آپؓ نے فرمایا کہ میں تمہیں مہاجرین کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ اس وقت لوگ تو بڑی تعداد میں موجود ہیں مگر یہ لوگ اب خال خال رہ گئے ہیں اور میں تمہیں انصار کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ یہ لوگ اسلام کی پناہ گاہ ہیں جسکی طرف لوگ پناہ لیتے رہے ہیں۔

اور تمھیں دیہات میں رہنے والوں کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ وہ اصل عرب ہیں اور میں تمہیں ذمیوں کے حقوق اور انکا خیال رکھنے کی تاکید کرتا ہوں۔

(کنز العمال: جلد 12 صفحہ 678)

پھر آپؓ سے لوگوں نے گزارش کی کہ اپنا جانشین مقرر فرمائیں تو آپؓ نے فرمایا کہ خلافت کے لیے وہ چھ آدمی زیادہ مستحق ہیں جن سے حضورﷺَ خوش رہے آپؓ نے چھ حضرات کے نام پیش کیے:

حضرت عثمان بن عفانؓ

حضرت علیؓ بن ابی طالب

حضرت طلحہؓ

حضرت زبیر بن عوامؓ

حضرت سعد بن ابی وقاصؓ

حضرت عبد الرحمٰن بن عوفؓ

حضرت عمرؓ کے ذہن میں دو نام ایسے تھے جنہیں آپؓ جانشین بنانا چاہتے تھے

آپؓ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ اگر میری موت کا وقت قریب آ جائے تو ابو عبیدہ بن الجراحؓ زندہ ہوں تو میں انہیں خلیفہ بنادوں گا اور اس انتخاب اگر اللہ پاک دریافت فرمائیں گے تو میں کہوں گا میں نے حضورﷺ سے سنا ہے کہ ہر نبی کا ایک امین ہوتا ہے اور ابو عبیدہؓ اس امت کے امین ہیں

 ان لكل امة امينا وان امیننا ايتها الامة ابو عبيدۃ بن الجراح

(صحيح بخارى: جلد 1 صفحہ 530)

اور اگر میری زندگی میں حضرت ابو عبیدہؓ فوت ہوجائیں اور میری موت کا وقت قریب ہو تو میں معاذ بن جبلؓ کو اپنا خلیفہ بنالوں گا اور ان کے بارے میں اگر اللہ پوچھیں گے تو میں کہو گا کہ میں نے رسولﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب علماء اللہ کے دربار میں حاضر ہونگے تو معاذؓ ان سے بہت آگے ہونگے

(تذكرة الحفاظ: جلد 1 صفحہ 40)

(مسند احمد: جلد 1،صفحہ 32)

سیدنا عمؓر کا خیال حضرت سالم مولی ابی حذیفؓہ کے بارے بھی یہی تھا اور آپؓ فرماتے تھے کہ اگر میں ان کو خلیفہ بنا لوں اور کل میرا پروردگار مجھ سے اس بارے میں پوچھے گا تو میں کہوں گا کہ میں نے نبی کریمﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سالم اللہ سے دل کی گہرائی اور سچائی سے محبت کرتا ہے۔

سمعت نبيك وهو يقول انه يحب الله حقا من قلبه

(كنزالعمال: جلد 12 صفحہ 675)

حضرت عمر فاروقؓ اپنی اس لیے تمنا کو عملی جامہ نا پہنا سکے کہ سیدنا ابو عبیدہؓ اور حضرت معاذ بن جبلؓ کا آپؓ کی حیات میں انتقال ہو چکا تھا حضرت ابو عبیدہ 18ہجری میں اور حضرت معاذ بن جبلؓ نے بھی اسی سال یعنی 18 ہجری میں وفات پائی تھی۔

سیدنا عمرؓ کی اس تمنا اور ارادہ سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ خلافت اور امارت کے لیے امانت اور محبت الٰہی ایک بنیاد کی طرح ہیں ان سب کے بغیر خلافت کا نظام درست نہیں رہتا اس سے آپ یہ بھی اندازہ کر سکتے ہیں کہ حضرت عمر فاروقؓ امانت و علم اور محبت الٰہی کے کس اونچے مقام پر کھڑے ہونگے۔

سیدنا عمر فاروقؓ نے اسی وصیت میں یہ بھی فرمایا کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے خلافت کے کاموں میں مشورہ لینے میں تو کوئی حرج نہیں لیکن خلافت سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہو گا اس کو والی اور حاکم نہ بنایا جائے۔

حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمرؓ کے وصال کا وقت قریب آگیا تو آپ نے مجھے بلایا اور اپنے سر کے قریب بٹھا کر مجھے کہا کہ جب میں موت سے ہمکنار ہو جاؤں تو تم مجھے ان ہاتھوں سے غسل دینا جن ہاتھوں سے تم نے رسولﷺ کو غسل دیا تھا پھر کفن پہنانا پھر حجرۂ اطہر میں لے جانا

(الموافقہ: صفحہ 72)

انتقال سے تھوڑا عرصہ پہلے اپنے بیٹے سے فرمایا کہ میرے کفن میں بےجا صرف نہ کرنا اگر میں اللہ کے ہاں بہتر ہوں تو مجھے از خود بہتر لباس مل جائے گا اور اگر بہتر نہیں ہوں تو بہتر کفن بےفائدہ ہے۔

سیدہ عائشہؓ کی جانب سے جب آپ کو حجرۂ مقدسہ میں تدفین کی اجازت ملی تو آپؓ نے ایک عصا لانے کا حکم دیا اور فرمایا کہ اس سے میری پیمائش کرلو کیونکہ آپؓ طویل القامت تھے پھر فرمایا کہ حضرت عائشہؓ کا حجرہ مبارکہ چھوٹا ہے اس لئے میں نے ایسا کیا ہے جاؤ اب اس پیمائش کے مطابق قبر کھودنا

(کنزالعمال: جلد 12 صفحہ 689)

حضرت عمر فاروقؓ یہ دعا پڑھا کرتے تھے

اللهم توفنى مع الابرار ولا تخلفنى فى الاشرار وقنى عذاب النار والحقني بالاخیار

(طبقات: جلد 3، صفحہ 252)

سیدنا عمر فاروقؓ نے تین دن زخم کی تکلیف میں گزارے تاہم اس دوران بھی آپؓ مسلمانوں کو ان کی دینی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کرتے رہے اور اپنے ماتحت حضرات کو انتظامی ہدایات دیتے رہے یکم محرم 24ھ جب نئے اسلامی سال کا آغاز ہو رہا تھا آپؓ کا آخری وقت آپہنچا اور اللہ کا نام لیتے لیتے آپؓ اللہ کے ہاں پہنچ گئے۔

انا لله وانا اليه راجعون

اس وقت آپؓ کی عمر مبارک 63 سال تھی

مروی ہے کہ جب ملک الموت آپؓ کے پاس آیا تو اس نے فرشتوں سے کہا دیکھو یہ امیرالمؤمنین کا گھر ہے اس میں کچھ بھی نہیں ایسے معلوم ہوتا ہے جیسے قبر ہے حضرت عمرؓ نے جب اس کی یہ بات سنی تو کہا کہ اے ملک الموت آپ جس کے پیچھے ہوں اس کا گھر ایسا ہی ہونا چاہیے۔

هذا بيت أمير المؤمنين مافيه شیئ كانه القبر فقال الموت من تكون أنت خلفه هكذا يكون بيته

(رياض: جلد 1، صفحہ 418)

حضرت انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ کا انتقال 63 سال کی عمر میں ہوا، حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ نے بھی اسی عمر میں وفات پائی

(شعب الایمان: جلد 2 صفحہ 161)

حضرت امیر معاویہؓ جب 63 سال کے ہوئے تو فرمایا حضورﷺ،حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ سب نے 63 سال میں دنیا چھوڑ دی تھی۔

مات رسول الله ﷺ وهو ابن ثلاث وستين ومات ابوبكرؓ وهو ابن ثلاث وستين ومات عمؓر وهو ابن ثلاث وستين وانا اليوم ابن ثلاث وستين

( مسند الامام الطحاوی: جلد 6 صفحہ 315)

حضرت شعبیؒ کہتے ہیں وان عمر قبض وهو ابن ثلاث وستين

(صفوۃ: جلد 1، صفحہ 152)

حضرت عبدالرحمٰن بن بسیارؓ نقل کرتے ہیں کہ جس دن حضرت عمر فاروقؓ نے وفات پائی اس دن سورج گرہن تھا

(جمع الفوائد: جلد 4، صفحہ 509)

صفحہ 4 از 5